settings icon
share icon
سوال

ساس/سرالیوں کے مسائل کیساتھ نمٹنا؟

جواب


ایک مداخلت کرنے والی ساس جو اپنے بیٹے/بیٹی اور بہو/دامادسے بے جا تقاضے کرتی ، اُنکی زندگیوں پر تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتی اور بے جا مداخلت کرتی ہے بائبل اُسے " اوروں کے کام میں دخل اندازی "کرنے والی/فسادی عورت قرار دیتی ہے ۔ وہ یونانی لفظ جس کا 1تیمتھیس کے حوالے میں" اوروں کے کام میں دخل دینے والی " ترجمہ کیا گیا ہے اُس کا مطب "دوسروں کے معاملات میں خود بخود مقرر ہونے والا نگران " ہے۔ نگرانی ایک ایسا عمل ہے جس میں کچھ ساسیں ملوث ہیں یا کم از کم اُن پر ا یسا کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ اس قسم کا رویہ تکلیف دہ ، انتہائی مایوس کُن اور خاندان کےلیے خدا کے منصوبے کے خلاف ہے ۔

ایسی صورتحال میں محرکات واضح طور پر مایوس کُن ہوتے ہیں ۔ ساس اکثر ایسے کام سر انجام دے سکتی ہے کیونکہ خاندان میں کسی شخص نے اُس کے لیے حدود مقر ر نہیں کی ہوتیں ۔ لہذا وہ ایک متکبر " فسادی " بن جاتی ہے ۔ شاید اُسے یہ بھی احساس نہیں ہوتا ہے کہ وہ کتنی دخل انداز اور تسلط جمانے والی ہے ۔ اُس کے نزدیک یہ سب محض " محبت بھرا عمل " ہو سکتا ۔ اگر ایسا معاملہ ہے تو شاید رُوبر و بات کرنے سے معاملہ حل ہو جائے ۔ لیکن اگر وہ جانتی ہےکہ وہ کیا کرر ہی ہے اور منع کرنے کے باوجود وہ دانستہ طور پر ایسا کر تی ہے تو آپ اُسے بدلنے کےلیے کچھ نہیں کر سکتے ۔

اس بات سے قطع نظر کہ خاندان میں مداخلت کس طرف سے کی جار ہی ہے یہ شا دی کی حرمت پر حملہ اور شادی کےلیے " چھوڑنے اور ملے رہنے " کے خدا کے حکم کی خلاف ورزی ہے (پیدایش 2باب 23-24آیات)۔ ایک مرد اور عورت اپنے بنیادی خاندانوں کو چھوڑ کر ایک نئے خاندان کی شروعات کرتے ہیں اور اُنہیں باہمی محبت اور ایک دوسرے کا تحفظ کرنا چاہیے ۔ وہ خاوند جو اپنی ماں یا ساس کو اپنی شادی میں مداخلت کرنے دیتا ہے وہ افسیوں 5باب 25-33آیات میں خاوندوں کو دئیے گئے حکمو ں پر عمل پیر ا نہیں ہے ۔ درپیش مزاحمت کے باوجودحدود کا تعین اور اُن کا پابند ہونے کی ضرورت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ ویسے ہی پیش آتے ہیں جیسے ہم اُنہیں اپنے ساتھ سلوک کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ اگر ہم انہیں اپنے خاندان کی حرمت کو پامال کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو پھر وہ ایسا ہی کریں گے ۔ کسی بھی شخص حتیٰ کہ ہمارے وسیع خاندان کو بھی ہمارے گھرانے کی خلوت میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور یہ خاوند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خلوت کی حفاظت کرے ۔ اُسے سامنے آتی ہوئی اپنی ساس/ماں کو نرمی مگر مستقل مزاجی سے یہ سمجھانا چاہیے کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ حدود سے تجاوز کے مترادف ہے اور اُسے یہ یقین دلانا چاہیے کہ اس طرح کا رویہ قابل ِ برداشت نہیں ہو سکتا ۔ اُسے اپنی ساس/ماں کو یاد دلانا چاہیے کہ خدا نے اُسے اُس کے گھرانے کی ذمہ داری سونپی ہے اور اُسکے لیے اُن میں سے کسی بھی ذمہ داری سے دستبردار ہونا خدا کی نا فرمانی کرنے کے مترادف ہے ۔ اُسے اپنی ساس/ماں کو یہ بھی باور کر نا چاہیے کہ وہ اور اُس کی بیوی اب بھی اُس سے محبت کرتے ہیں مگر یہ رشتہ بدل چکا ہے اور اب وہ اپنے گھرانے پر خود اختیاررکھتا ہے ۔ خاندان کےلیے خدا کا طریقہ کار یہی ہے اور یہ اسی طرح چلے گا ۔ اس کے بعد جوڑے کو بھی اپنے عزم میں ثابت قدم رہنا چاہیے ۔

ہم ایک ایسی عورت کے خلاف کیسا ردّعمل اختیار کر سکتے ہیں جو ایک مداخلت کرنے والی ساس کے طور پر پیش آتی ہے ؟ ہم کم از کم ا س بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اُسے اپنا ذہنی سکون چھیننے نہ دیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ہم دوسروں کے رویے کو تبدیل نہ کر پائیں لیکن ہم اُن کے رویے پر کیسا ردّ عمل ظاہر کرتے ہیں یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے ۔ ہم دوسرے لوگوں کے افعال کو خود کو پریشان کرنے دے سکتے ہیں یا ہم اُنہیں خدا کے حضور رکھنے کا فیصلہ کر سکتے اورخُدا کو ان افعال کو ہماری رُوحانی مضبوطی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔ اس قسم کی صورتِ حال کے خلاف یہ ہمارا ردّعمل ہی ہے جو ہماری مایوسی کو بڑھاوادیتا ہے ۔ ہم مداخلت کرنے والی ساس/ماں کی حرکات کو اپنے اطمینان کو خراب کرنے یا نہ خراب کرنےکی اجازت دینے کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اُس کا رویہ ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ ہمارا ردّ عمل ہماری ذمہ داری ہے ۔

والدین اور سسرال والوں کے ساتھ عزت و محبت سے پیش آنا چاہیے مگر ہمیں اپنے جذبات کو اجازت نہیں دینی چاہیےکہ وہ ہمیں الجھن میں مبتلا کردیں ۔ دشمن کو دوست بنا لینا اُس سے چھٹکارا پانے کا بہتر ین طریقہ ہے ۔لیکن ایساصرف خدا کے فضل سے ہوتا ہے ۔ مسیحی ہمیشہ معافی کے وسیلہ سے فضل کا اظہار کر سکتے ہیں ( افسیوں 4باب 32آیت)۔ ممکن ہے کہ ایسا کرنا کسی ساس کو مداخلت کرنے سےنہ روک سکے لیکن یہ اُس سے بچنے کےلیے قوت اور اطمینان کا وسیلہ ضرور ہوگا ( افسیوں 6باب 11-17آیات)۔ مسیح کے وسیلہ سے خدا کے ساتھ شخصی تعلق حقیقی دلی سکون حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے ۔ صرف اور صرف اُس کے اطمینان میں قائم رہنے کے وسیلہ سے ہم ایسا ردّ عمل ظاہر کر سکتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ساس/سرالیوں کے مسائل کیساتھ نمٹنا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries