نظریہ اخلاقی نسبتیت (مورل ریلا ٹی وِیزم) کیا ہے؟


سوال: نظریہ اخلاقی نسبتیت (مورل ریلا ٹی وِیزم) کیا ہے؟

جواب:
نظریہ اخلاقی نسبتیت (مورل ریلاٹی وِیزم) اخلاقی مطلق العنانی کے اصول (مورل ایبسلُوٹ ازم) کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے سمجھا جاتا ہے۔ اخلاقی مطلق العنانی کا اصول دعویٰ کرتاہے کہ اخلاقیات عالمگیر اصولوں (فطرتی قوانین، ضمیر) پر تکیہ کرتی ہے۔ مسیحی اخلاقی مطلق العنانی کا اصول ایمان رکھتا ہے کہ خُدا ہماری مشترکہ اخلاقیات کا حتمی منبع ہے، اور وہ ہی ہے، اِس لئےجیسے وہ لاتبدیل ہے اخلاقیات بھی لاتبدیل ہیں۔ نظریہ اخلاقی نسبتیت دعویٰ کرتا ہےکہ اخلاقیات کِسی بھی مطلق معیار پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ اخلاقی "سچائیاں" حالات، ثقافت، کسی کے احاسات وغیرہ جیسے متغیرات پر منحصر ہیں۔

اخلاقی نسبتیت کے دلائل کے بارے میں کافی باتیں کی جا سکتی ہیں جو اُن کی ناقابلِ یقین فطرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پہلی بات، اگرچہ نظریہ اخلاقی نسبتیت کی حمایت میں استعمال ہونے والے بہت سے دلائل پہلی نظر میں درُست لگ سکتے ہیں، لیکن اِن سب میں موجود منطقی تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ وہ سب ایک ایسی "درُست" اخلاقی تجویز کا مشورہ دیتے ہیں جس کی پیروی کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ لیکن یہ عقیدہ اخلاقی مطلق العنانی کا اصول ہے۔ دوسری بات، بہت سے نام نہاد نظریہ اخلاقی نسبتیت کے ماننے والے بھی بہت سے معاملات میں اخلاقی نسبتیت کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ ایک قاتل یا ایک عصمت دری کرنے والا جرم سے آزاد ہے جب تک کہ وہ اپنے ہی معیار کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

نظریہ اخلاقی نسبتیت کے ماننے والے یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ مختلف ثقافتوں میں مختلف اقدار ظاہر کرتی ہیں کہ اخلاقیات مختلف لوگوں سے نسبت رکھتی ہیں۔ لیکن یہ دلیل مطلق العنانی معیار(چاہے اُنہیں ایسا کرنا چاہیے) کے ساتھ افراد کے اعمال کو (جو کچھ وہ کرتے ہیں) اُلجھا دیتی ہے۔ اگر ثقافت صحیح اور غلط کا تعین کرتی ہے، تو ہم نازیوں کا فیصلہ کیسے کر سکتے تھے؟ آخر، وہ سب اپنی ثقافتی اخلاقیات کی پیروی کر رہے تھے۔ اگر قتل عالمی طور پر غلط ہے تو نازی غلط تھے۔ یہ حقیقت کہ اُنہوں نے "اپنی اخلاقیات" کی پیروی کی اِس کو تبدیل نہیں کرتی۔ اِس کے علاوہ، اگرچہ بہت سے لوگ اخلاقیات کے مختلف طریقے رکھتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی ایک مشترک اخلاقیات بانٹتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اسقاطِ حمل کے حامی اور اسقاطِ حمل کے مخالف دونوں متفق ہیں کہ قتل کرنا غلط ہے، لیکن وہ اِس بات پر متفق نہیں ہیں کہ اسقاطِ حمل قتل ہے۔ لہذہ، یہاں مطلق العنان عالمی اخلاقیات سچ ظاہر ہوتی ہے۔

بعض دعویٰ کرتےہیں کہ حالات اخلاقیات کو بدلنے کے لئے بدلتے ہیں، مختلف حالات میں مختلف اعمال طلب کئے جاتے ہیں چاہے وہ دوسرے حالات میں درُست نہ ہو سکیں۔ لیکن تین چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہمیں کسی عمل کوپرکھنا ہو گا:حالات، عمل، اور اِرادہ۔ مثال کے طور پر، ہم کسی شخص کو قتل کرنے کی کوشش (اِرادہ) کرنے کی وجہ سے مجرم ٹھہرا سکتے ہیں، چاہے وہ ناکام (عمل) ہو جائے۔ لہذہ، حالات اخلاقی فیصلوں کا حصہ ہیں، کیونکہ وہ مخصوص اخلاقی عمل (عالمی اصولوں کے اطلاق) کو منتخب کرنے کے لئے سیاق و سباق قائم کرتے ہیں۔

اہم دلیل جس کی نظریہ اخلاقی نسبتیت کے ماننے والے اپیل کرتے ہیں برداشت ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی شخص کو اُس کی اخلاقیات بتانا غلط ہے، غیر متحمل ہے، اور نظریہ اخلاقی نسبتیت تمام نظریات کو برداشت کرتا ہے۔ لیکن یہ گمراہ کُن ہے۔ سب سے پہلے، بُرائی کو کبھی بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ہمیں کسی عصمت دری کرنے والے کے نظریہ کو برداشت کرنا چاہیے کہ خواتین زیادتی کے لئے قابلِ تسکین چیزیں ہیں؟ دوسری بات، یہ خود کو شکست دینا ہے، کیونکہ نظریہ اخلاقی نسبتیت کے ماننے والے مخالفت یا مطلق العنانی کے اصول کو برداشت نہیں کرتے۔ تیسری بات، نظریہ اخلاقی نسبتیت وضاحت نہیں کر سکتی کہ کسی کو پہلی جگہ پر برداشت کرنے والا کیوں ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کو برداشت کرنا چاہیے(یہاں تک کہ جب ہم اختلافِ رائے رکھتے ہیں) مطلق العنان اخلاقی اصول پر مبنی ہے کہ ہمیں ہمیشہ لوگوں کے ساتھ درُست سلوک کرنا چاہیے، لیکن دوبارہ یہ مطلق العنانی اخلاقی اصول ہی ہے۔ حقیقت میں، عالمگیر اخلاقی اصولوں کے بغیر بھلائی نہیں ہو سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام لوگ شعور (ضمیر) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، اور ہم سب جبلی طور پر جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کب غلط کیا گیا ہے، اور ہم نے کب دوسرے کے ساتھ غلط کیا ہے۔ ہم ایسا کرتے ہیں اور ہم دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی توقع کرتے ہیں۔یہاں تک کہ بچوں کے طور پر بھی ہم "صیحح " اور "غلط" میں فرق جانتے تھے۔ یہ نظریہ ہمیں قائل کرنے کے لئے غلط فلسفہ دیتا ہے کہ ہم غلط ہیں اور نظریہ اخلاقی نسبتیت سچ ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
نظریہ اخلاقی نسبتیت (مورل ریلا ٹی وِیزم) کیا ہے؟