"کیا توحید/ عقیدہِ وحدانیت ثابت ہو سکتی ہے؟



سوال: "کیا توحید/ عقیدہِ وحدانیت ثابت ہو سکتی ہے؟

جواب:
لفظ "مانا تھی اِزم" بمعنی "توحید، عقیدہِ وحدانیت" دو الفاظ کا مجموعہ ہے، "مونو" کے معنی "اکیلا" کے ہیں جبکہ "تھیزم" کے معانی "خُدا پر ایمان" کے ہیں۔ درحقیت توحید/عقیدہِ وحدانیت ایسے خُدا پر ایمان لانا ہے جو واحد خالق، پروردگار، ساری مخلوقات کا منصف ہو۔ "ماناتھی اِزم"، "ہینا تھی اِزم" سے مختلف ہے، جس کے ماننے والے ایک عظیم خُدا کی پرستش تو کرتے ہیں لیکن اُس کے ساتھ کثیر دیوتاؤٔں کے وجود سے بھی انکار نہیں کرتے۔ یہ "پالی تھی اِزم" سے بھی مختلف ہے جو واحد خُدا سے زیادہ دیوتاو ٔں کے وجود پر ایمان رکھتے اوراُن کی پرستش کرتے ہیں۔

ما نا تھی اِزم (عقیدہِ وحدانیت) کے لیے بہت سے دلائل ہیں، کچھ خاص مکاشفہ (بائبل) میں سے، کچھ فطری مکاشفہ (فلسفہ) اور کچھ تاریخی علم الانسان سے۔ اِن کی وضاحت اختصار کے ساتھ نیچے پیش کی جائے گی، اور اِس کو کسی بھی طرح سے جامع فہرست نہیں سمجھا جائے گا۔

مانا تھی اِزم (عقیدہ وحدانیت) کے لیے بائبلی دلائل
استثنا ۳۵:۴، "یہ سب کچھ تجھ کو دکھایا گیا تاکہ تُو جانے کہ خُداوند ہی خُدا ہے اور اُس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں"۔ استثنا ۴:۶، "سُن اے اِسرائیل! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خداوند ہے"۔ ملاکی ۱۰:۲، "کیا ہم سب کا ایک ہی باپ نہیں؟ کیا ایک ہی خُدا نے ہم سب کو پیدا نہیں کیا؟"۔ ۱۔کرنتھیوں۶:۸، "لیکن ہمارے نزدیک تو ایک ہی خُدا ہے یعنی باپ جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں اور ہم اُسی کے لیے ہیں اور ایک ہی خداوند ہے یعنی یسوع مسیح جس کے وسیلہ سے سب چیزیں موجود ہوئیں اور ہم بھی اُسی کے وسیلہ سے ہیں"۔ افسیوں۶:۴، "اور سب کا خُدا اور باپ ایک ہی ہے۔ جو سب کے اوپر اور سب کے درمیان اور سب کے اندر ہے"۔ ۱۔تھیمتھیس۵:۲، "کیونکہ خُدا ایک ہے اور خُدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے"۔ یعقوب۱۹:۲، "تُو اِس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ خُدا ایک ہی ہے خیر۔ اچھّا کرتا ہے۔ شیاطین بھی ایمان رکھتے اور تھر تھراتے ہیں"۔

ظاہر ہے ، بہت سے لوگوں کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہ ہو گا کہ خُدا واحد ہے کیونکہ بائبل کہتی ہے ۔ اِس لیے کیونکہ خُدا کے بغیر یہ ثابت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ بائبل اُس کا کلام ہے۔ تاہم کوئی دلیل دے سکتا ہے کہ بائبل جو سکھاتی ہے اُس کو ثابت کر کے مافوق الفطرت شہادت بھی دیتی ہے۔ اِن وجوہات کی بنا پر عقیدہِ وحدانیت کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ اِس سے مشابہہ دلیل یسوع مسیح کی تعلیم اور عقائد ہے، یسوع نے ثابت کیا کہ وہ اپنی معجزانہ پیدائش سے ہی خُدا ہے ، اور اُس کی زندگی، اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے معجزے بھی اِس بات کو ثابت کرتے ہیں۔ خُدا جھوٹ نہیں بول سکتا اور نہ اُسے دھوکا دیا جا سکتا ہے، اِس لیے یسوع نے جو اعتقاد کیا، اور جس بات کی تعلیم دی وہ سب سچ ہیں۔ لہذہ "مانا تھی اِزم" یعنی عقیدہِ وحدانیت سچ ہے جس پر یسوع کا ایمان تھا ۔ ہو سکتا ہے یہ دلیل اُن لوگوں کے لیے متاثر کُن نہ ہو جو یسوع اور بائبل کی مافوق الفطرت توثیق کے معاملہ سے ناواقف ہیں، لیکن جواِس کی قوّت سے واقف ہیں اُن کےنزدیک شروعات کے لیے بہتر موقع ہے۔

مانا تھی اِزم (عقیدہ وحدانیت) کے لیے تاریخی دلائل
مقبولیت پر مشتمل دلائل بدقسمتی سے مشکوک ہوتےہیں، لیکن یہ بات دلچسپ ہے کہ عقیدہِ وحدانیت نے دُنیا کے مذاہب کو کتنا متاثر کیا ہے۔ مذہبی ترقی کے مقبول نظریہ ارتقا عام طور پر حقیقت کے ارتقا سے جڑ پکڑتا ہے، اور ارتقائی انتھروپولوجی (علم الانسان) مذہبی ترقی کی ابتدائی مراحل کو پیش کرتے ہوئے "ابتدائی" تہذیبوں پر نگاہ کرتی ہے۔ لیکن نظریہ ارتقا کے ساتھ کئی مسائل ہیں۔ ) جس ترقی کا ذکر کیا جاتا ہے ایسی ترقی کبھی نہیں دیکھی گئی، درحقیقت کسی بھی تہذیب میں ماناتھی ازم (توحید) کی طرف پیش رفت نہیں ہوئی، بلکہ اِس کے برعکس معاملہ ہوا ہے۔ ) "ابتدا" کی تعریف کا انتھروپولوجیکل (علم الانسان) طریقہ تکنیکی ترقی کے برابر ہے۔ ابھی تک یہ ایک تسلی بخش معیار ہے ، کیونکہ ایسے کلچر میں بہت سے اجزاء موجود ہیں۔ ) بیان کردہ مراحل اکثر غائب یا نطر انداز کئے جاتے ہیں۔ ) آخر کار بہت سے مشرکانہ کلچرز (تہذیبیں) اپنی ابتدائی ترقی کی ماناتھی ازم (توحید/عقیدہِ وحدانیت) کے نشانات دکھاتی ہیں۔

واحد خُدا کے بارے میں ہم یہی جانتے ہیں کہ وہ ایک شخصیت ہے، مذکر ہے، آسمان پر تخت نشین ہے، بے حد قدرت اور علم کا مالک ہے، اُس نے جہان کو تخلیق کیا ہے، اخلاقیات کا خالق ہے جس کے ہم جواب دہ ہیں، یہ وہی خُدا ہے جس کی ہم نے نافرمانی کی ہے اور جس سے برگشتہ ہوئے، لیکن اب اُس نے صلح کا راستہ فراہم کر دیا ہے۔ فی الحقیقت ماضی میں ہر مذہب کثرت پرستی کی افراتفری میں داخل ہونے سے پہلے کچھ معاملات میں خُدا کی ذات پر اختلاف رکھتا تھا۔ اِس سے ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر مذاہب توحید کے ساتھ شروع ہوئے پھر وراثت میں اپنی نسلوں کو کثرت پرستی، اروح پرستی، اور جادوگری منتقل کی۔ (اسلام ایک نیم پختہ مثال ہے، جو دوبارہ عقیدہِ وحدانیت پر آ جاتا ہے) اِس نقل و حرکت کے ساتھ، کثرت پرستی اکثر با ضابطہ طور پر توحید پرستی یا نیم توحیدی مانی جاتی ہے۔ یہ نیم پختہ کثرت پرست مذہب جو اپنے دیوتاؤں میں سے کسی کو بھی دوسرے پر حاکم اعلی نہیں سمجھتا، کمتر دیوتاؤں کو درمیانی تصور کرتا ہے۔

مانا تھی اِزم (عقیدہ وحدانیت) کے لیے فلسفہ /علم الٰہیات کے دلائل
بہت سے فلسفی دلائل موجود ہیں جس کے مطابق خُدا کے وجود کا ایک سے زیادہ ہونا امر محال ہے۔ اُن میں سے بہت سے حقیقت کی فطرت سے متعلق کسی غیر مادی حالت پرحد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ایک مضمون میں مختصر بیان اور اِن بنیادی غیر مادی حالتوں کے لیے دلیل دینا ، اور پھر ظاہر کرنا کہ وہ توحید کے بارے میں اشارہ کرتے ہیں محال ہو گا، لیکن باقی اِس بات کی یقین دہانی کراتے تھے کہ اِن سچائیوں کے بارے میں مضبوط فسلفیانہ اور مذہبی بنیادہ موجود ہیں، جن کا تعق ہزار سال پیچھے تک ہے(اور بہت سے خود مختار ہیں)۔ مختصرطور پر، یہاں تین دلائل ہیں جن کا انتخاب کوئی شخص مزید تحقیق کے لیے کر سکتا ہے۔

۱۔ اگر ایک سے زیادہ خُدا ہوتے، تو کائنات ایک سے زیادہ تخلیق کاروں، اور اختیارات کی وجہ سے ابتری کا شکار ہوتی۔ لیکن یہ ابتری کا شکار نہیں ہے، اس لیے، صرف ایک خُدا ہے۔

۲۔ کیونکہ خُدا سراپا کامل خُدا ہے۔ کوئی دوسرا خُدا نہیں ہو سکتا، اگر کوئی دوسرا خُدا ہو تو دونوں کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ اور کامل ہونے سے مختلف ہونا کامل سے کمتر ہونا اور خُدا نہ ہونا ہے۔

۳۔ کیونکہ خُدا اپنے وجود میں لامحدود ہے، وہ حصوں میں نہیں ہو سکتا (کیونکہ حصے لامحدودیت تک پہچنے کے لیے شامل نہیں کیے جا سکتے)۔ اگر خُدا کا وجود اُسکا محض حصہ نہیں ہے (جو کہ اُن تمام چیزوں کے لیے ہے جو وجود رکھتی ہیں یا نہیں رکھتی)، تو اُسکا لامحدود وجود رکھنا لازم ہے۔ اِس لیے دو لامحدود نہیں ہو سکتے، کیونکہ ایک دوسرے سے مختلف ہو گا۔

ہو سکتا ہےکہ کوئی دلیل دینے کی خواہش رکھے کہ بہت سے ذیلی درجہ کے "خداو ٔں" کو زیرِ غور نہ لانا ہی بہتر ہے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ بائبل کے مطابق یہ بات غلط ہے، مفروضہ کی حد تک اِس میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، خُدا ذیلی درجہ کے "خداؤں کو تخلیق کر سکتا تھا۔ لیکن اُس نے نہیں کیا۔ اگر اُس نے کیا ہوتا، تو یہ "خُدا" محض محدود، مخلوق ہستیاں ہی ہوتے اور غالباًفرشتوں کی مانند ایک گروہ ہی ہوتا -(زبور۸۲)۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایک سے زیادہ خُدا ہو ہی نہیں سکتے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"کیا توحید/ عقیدہِ وحدانیت ثابت ہو سکتی ہے؟