settings icon
share icon
سوال

وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر کوئی عبادت کے دن گرجا گھر سے غیر حاضر ہو سکتا ہے؟

جواب


بہت سے لوگ گرجا گھر جانے کے بارے میں غیر مناسب یا غیر بائبلی سمجھ کے حامل ہیں۔ گرجا گھر میں جانے کے بارے میں کچھ لوگوں کا احساس ضابطہ پرستی کی حد تک جاتا ہے یعنی گرجا گھر میں جب کسی بھی طرح کی عبادتی سرگرمی یا پروگرام ہو تو اُنہیں ہر بار گرجا گھر میں حاضر ہونا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ خدا کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جب بھی کسی وجہ سے اتوار کی صبح کی عبادت سے غیر حاضر رہتے ہیں تو اُنہیں احساس شرمندگی کا تجربہ کرنا پڑتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ گرجا گھر لوگوں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈال کر اِس احساس شرمندگی کو ہوا دیتے ہیں۔ اگرچہ کلیسیا سے لاتعلقی یا گرجا گھر میں حاضر ہونے سے دانستہ طور پر گریز کرنا کسی شخص کی رُوحانی صحت میں کسی مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خدا کے ساتھ کسی شخص کے تعلقات کے معیار کا تعین اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بار گرجا گھر میں جاتا ہے۔ اپنے بچّوں کے لیے خُدا کی محبت کا انحصار اس بات پر نہیں ہے کہ وہ رسمی عبادات میں کتنی بار حاضر ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیحیوں ،یسوع مسیح کے پیروکاروں کو گرجا گھر جانا چاہیے۔یہ ہر مسیحی کی خواہش ہونی چاہیے کہ وہ اجتماعی طور پر عبادت کرے (افسیوں5باب 19-20آیات)، دوسرے مسیحیوں کے ساتھ رفاقت رکھے اور اُن کی حوصلہ افزائی کرے (1تھسلنیکیوں 5باب 11آیت ) اور اُسے خدا کا کلام سکھایا جائے (2 تیمتھیس 3باب 16-17آیات) ۔ خدا کے کلام کو سُننے سے ہی ایمان پیدا ہوتا ہے (رومیوں 10باب 17 آیت)۔ ہمیں دوسرے ایمانداروں کے ساتھ جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے (عبرانیوں 10باب 24-25آیات)؛ ہمیں واقعی ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ جس طرح خُدا خوشی سے دینے والےکو عزیز رکھتا ہے (2 کرنتھیوں 9باب 7آیت)اُسی طرح وہ حقیقی خوشی کے ساتھ گرجا گھر آنے والے کو بھی پسند کرتا ہے۔

گرجا گھر جانا مسیحی زندگی کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہونی چاہیے۔ اپنے مقامی گرجا گھر سے جُڑے رہنا نہایت ضروری ہے۔پس وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر کوئی عبادت کے دن گرجا گھر سے غیر حاضر ہو سکتا ہے ؟ ایسی فہرست پیش کرنا تو ناممکن ہے جو سب کے لیے کارآمد ہو۔ بلاشبہ جب کوئی بیمار ہو تو گرجا گھر سے غیر حاضر ہونا قابل قبول ہے۔ لیکن دیگر معاملات میں اصل بات آپ کے رویے اور نیّت کی طرف آ جاتی ہے۔ اگر کسی کا گرجا گھر سے غیر حاضر ہونے کا محرک کسی اور جگہ خُداوند کی بہتر خدمت کرنا، حقیقی ضروریات کو پورا کرنایا خُدا کی طرف سے مقرر کردہ ذمہ داری کو پورا کرنا ہےتو کلیسیا ئی عبادت سے غیر حاضر ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ٹیلی فون پر کال کے ذریعے رہنمائی مہیا کرنے والے پولیس افسر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ عبادتی سرگرمی میں شامل ہونے کے لیے کال کو نظر انداز کر دے ۔ لیکن اگر کسی کا گرجا گھر سے غیر حاضر ہونے کا محرک جسم کی خواہش کو پورا کرنا، خود غرض مقاصد کا حصول یا محض مسیحی رفاقت سے اجتناب کرنا ہے تو پھر یہ بات پریشانی والی ہے۔

ہر صورتحال کا ذاتی طور پر ایمانداری سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ کیا کھیلوں کی تقریب میں شرکت کے لیےکبھی گرجا گھر سے غیر حاضر ہونا قابل قبول ہے؟ کسی کی نیّت اور رویےکی بنیاد پر ہاں قابلِ قبول ہے ۔ چھٹی کے دوران گرجا گھر سے غیر حاضر ہونے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ایک بار پھر یہ بات بھی کسی کی نیّت اور رویے پر منحصر ہے۔ ہمیں ضابطہ پرستی سے بچنا چاہتے ہیں؛ ہم نے گرجا گھر میں حاضر ہونے سے نہیں بلکہ فضل ہی سے نجات پائی ہے ۔ اِسی اثناء میں ایک مسیحی کو خُدا کی طرف سے نجات کے تحفے کی عظمت کے بارے میں جاننے ، ہر روز مسیح کا ہمشکل بننے کا طریقہ سیکھنے اور دوسروں کی خدمت کرنے کے مواقع کے حصول کے لیے گرجا گھر جانے کی خواہش کرنی چاہیے۔

گرجا گھر سے غیر حاضر رہنے کے اپنے محرکات کی جانچ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں گرجا گھر جانے کے اپنے محرکات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم اپنے آپ کو رُوحانی پیش کرنے کے لیے گرجا گھر جاتے ہیں؟ کیا ہم ممکنہ کاروباری لوگوں کے ساتھ ملنے کے لیے وہاں جاتے ہیں؟ یا کیا ہم اُس ضابطہ پرستانہ تصور کی وجہ سے وہاں حاضر ہوتے ہیں جس کا کہنا ہے کہ ہم گرجا گھر کے دروازوں سے جتنی بار گزرتے ہیں خدا ہم سے اتنا ہی زیادہ خوش ہوتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو باقاعدگی سے گرجا گھر جاتے ہیں لیکن اُن کا خدا کے ساتھ درست تعلق نہیں ہوتا۔ اگر آپ گرجا گھر جانے کے عمل میں پرستش اور وعظ کے دوران محض بیزاری اور لاپرواہی سے بیٹھے رہنے اور پھر عبادت ختم ہونے کے فوراً بعد رخصت ہو جانے کے سوا اورکچھ نہیں کرتے تو یہ باکل ایسے ہی ہے کہ آپ گر جا گھر سے غیر حاضر ہی رہے ہیں کیونکہ آپ کو وہاں سے کچھ حاصل نہیں ہوا اور آپ نے وہاں کچھ شراکت نہیں کی۔

ہمیں گرجا گھر جانا چاہیے تاکہ ہم اُن دوسرے ایمانداروں کے ساتھ رفاقت رکھ سکیں جنہوں نے یسوع مسیح کے حیرت انگیز فضل کا تجربہ کیا ہے۔ جب بھی ممکن ہو ہمیں گرجا گھر سے غیر حاضر رہنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ہم خدا کے کلام کو سننے، اُس کا اپنی زندگیوں پر اطلاق کرنے اور اسے دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی اہمیت کو پہچانتے ہیں۔ ہمیں گرجا گھر رُوحانی طو رپر مشہور ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے جانا چاہیے کیونکہ ہم خُدا سے محبت رکھتے ہیں، اُس کے لوگوں سے محبت رکھتے ہیں اور اُس کے کلام سے محبت رکھتے ہیں۔ ہر مسیحی کو باقاعدگی سے گرجا گھر جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی مناسب وجہ سے گرجا گھر سے غیر حاضر رہنا کسی بھی لحاظ سے گناہ یا ایسی بات نہیں ہے جسے احساس ِ شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے ۔

جب آپ گرجا گھر سے غیر حاضر ہوتے ہیں تو کیا آپ کو گرجا گھرکی کمی محسوس ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا گرجا گھر کے ساتھ اچھا تعلق ہے۔ اگرایسا نہیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کو گرجا گھر جانے اور/یا گرجا گھر میں شرکت کے اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خدا ہمارے دِلوں سے واقف ہے۔ خدا کسی شخص سے صرف اس لیے متاثر نہیں ہوتا کہ وہ ہر عبادت میں حاضر ہوتا ہے۔ خُدا ہمیں مسیح میں تعمیر کرنا چاہتا ہے اور اِ س زمانے کے اندر اُس کے طریقہ کار میں ہماری مقامی کلیسیا بھی شامل ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر کوئی عبادت کے دن گرجا گھر سے غیر حاضر ہو سکتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries