settings icon
share icon
سوال

بائبل حمل کے گرنے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


اسقاطِ حمل/حمل کے گرنے کے بعد لوگ عام طور پر غالباً سب سے زیادہ یہ سوال کرتے ہیں کہ " ایسا کیوں ہوا؟"یا " خدا نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟" اِن سوالات کے کوئی آسان جوابات نہیں ہیں ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لوگوں کے ساتھ اور خصوصا ً اُن بچوں کے ساتھ جنہوں نے ابھی زندگی کی ابتدا بھی نہیں کی بُری چیزیں کیوں ہوتی ہیں تو درحقیقت اس بارے میں ہمارے پاس کوئی اطمینان بخش نتیجہ /جواب نہیں ۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ خدا ہمارے پیاروں کو ہم سے کسی قسم کی ظالمانہ سزا کے طور پر نہیں چھینتا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ " جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں" ( رومیوں 8باب 1آیت)۔

اسقاطِ حمل عام طور پر جنین میں کروموسوم کے ناقص نمونوں /اسلوب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ جب اِن خلوی خامیوں کی نشاندہی ہو جاتی ہے تو جنین کی نشوونما رُک جاتی ہے جو اسقاطِ حمل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ دیگر صورتوں میں اسقاطِ حمل بچہ دانی کی خرابیوں ، ہارمون کا میں بے ترتیبی، قوتِ مدافعت کے نظام کےمسائل ، پرانے امراض اور بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ہزاروں سال سے جاری گناہ ، موت اور ذاتی تباہی کے بعد ہمارے لیے یہ حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیےکہ جینیاتی خرابیاں بالآخر عام ہو چکی ہیں ۔

بائبل حمل کے گرنے کاذکر صرف اور صرف اسرائیل پر برکت اور لعنت کے سیاق و سباق میں ہی کرتی ہے ۔ خروج 23باب 26آیت میں بنی اسرائیل سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ موسوی شریعت کی پیروی کرتے ہیں تو " مُلک میں نہ تو کسی کے اِسقاط ہو گا اور نہ کوئی بانجھ رہے گی "۔اس کے برعکس ہوسیع 9باب 14آیت میں بنی اسرائیل کی نا فرمانی کی صورت میں "اُن کو اِسقاطِ حمل اور خشک پستان" کے خطرے کےبیان کے ساتھ تنبیہ بھی کی گئی ہے ۔ ان حوالہ جات سے ہم سیکھتے ہیں کہ اسقاطِ حمل فطری طور پر خدا کے اختیار میں ہیں۔ اب ہم شریعت کے ماتحت نہیں ہیں اور ہم یقین کر سکتے ہیں کہ خدا اُن لوگوں پر رحم کرتا ہے جنہوں نے اسقاطِ حمل کا سامنا کیا ہے ۔ وہ ہمارے ساتھ روتا اور دُکھ اُٹھاتا ہے، اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا اور ہمارے درد کو محسوس کرتا ہے ۔ خدا کے بیٹے یسوع مسیح نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے رُوح کو سب ایمانداروں پر بھیجے گا لہذا ہمیں کبھی بھی تنہا آزمائشوں میں سے گزرنا نہیں پڑے گا( یوحنا 14باب 16آیت)۔ متی 28باب 20آیت میں یسوع نے فرمایا ہے " اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔

کوئی بھی ایماندار جس نے اسقاطِ حمل کا سامنا کیا ہے اُسے ایک دن اپنے بچّے کو دوبارہ دیکھنے کی شاندار اُمید پر یقین رکھنا چاہیے ۔ پیدا نہ ہونے والا بچّہ خد ا کے نزدیک محض جنین یا "خلیوں کا ٹکڑا " نہیں ہے بلکہ اُس کے بچّوں میں سے ایک ہے ۔ یرمیاہ 1باب 5آیت فرماتی ہے کہ خدا ہمیں اُس وقت سے جانتا ہے جبکہ ہم ابھی رحم میں ہی ہوتے ہیں ۔ نوحہ 3باب 33آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خدا "آدمؔ پر خُوشی سے دُکھ مصیبت نہیں بھیجتا"۔ یسوع نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیں ایسا اطمینان بخشتا ہے جو دنیا نہیں دے سکتی ( یوحنا 14باب 27آیت)۔

رومیوں 11باب 36آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر چیز خدا کی قدرت سے موجود اور اُس کے جلال کےلیے ہے ۔اگرچہ وہ ہمیں سزا دینے کے لیے ہم پر مصیبت مسلط نہیں کرتا لیکن وہ چیزوں کو اس لیے ہونے کی اجازت دیتا ہے تاکہ ہم اُنہیں اُس کے جلال کےلیےاستعمال کر سکیں ۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ "مَیں نے تم سے یہ باتیں اِس لئے کہیں کہ تم مجھ میں اِطمِینان پاؤ۔ دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھّو مَیں دُنیا پر غالب آیا ہُوں" (یوحنا 16باب 33آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل حمل کے گرنے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries