فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی خدمت کرنے کے بارےم یں کلام پاک کیا کہتا ہے؟



سوال: فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی خدمت کرنے کے بارےم یں کلام پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
فوج میں خدمت کرنے کی بابت کلام پاک میں کئی سارے اطلاعات پائے جاتے ہیں۔ جبکہ بہت سارے حوالہ جات جو فوج کی بابت ہے وہ صرف مطابقت یا مشابہتیں ہیں۔ کئی ساری آیتیں براہ راست اس سوال سے تعلق رکھتی ہیں۔ کلام پاک مخصوص طور سے یہ بیان نہیں کرتا کہ کسی کو فوج میں بھرتی ہو کر خدمت کرنی چاہئے یا نہیں۔ اسی دوران مسیحیوں کو یہ یقین کرنا چاہئے کہ ایک فوجی ہونا پورے کلام پاک میں نہایت ہی عزت کی بات سمجھی جاتی ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسی خدمت بائبل کے نظریہ کے ساتھ با اصول موزوں ہے۔

فوجی خدمت کی پہلی مثال (پیدائش 14 باب) میں پائی جاتی ہے، جب عیلام کے بادشاہ کدرلاعمر اور اس کے ساتھی بادشاہوں نے مل کر ابراہیم کے بھتیجے لوط کا اغوا کر لیا تھا۔ ابراہیم اپنے گھرانے کے 318 لوگوں کو جو جنگ کرنے کے لئے تربیت شدہ تھے انہیں لے کر ان پانچ بادشاہوں کے خلاف لڑا اور عیلامیوں کو اور دیگر بادشاہوں کو شکست دے کر اپنے بھتیجے کو حفا‍ظت سے واپس لے آیا۔ یہاں ہم ان 318 ہتھیاروں سے لیس فوجی جوانوں کو دیکھتے ہیں جو ایک عظیم الشان مہم میں شریک تھے۔ جو ایک معصوم کی حفاظت کرکے اسے چھڑا لائے تھے۔

آگے چل کر کلام پک کی تاریخ میں بنی اسرائیل کی فوج نے پیدل چلنے والی فوج میں ترقی کی۔ اصلی معنوں میں دیکھا جائے تو خدا ان کا الہی جنگجو سپاہی تھا۔ وہ ان کا کپتان بطور تھا جو اپنے لوگوں کی حفاظت کرنے والا ثابت ہوا۔ ہر ایک جنگ میں بنی اسرائیل اس لئے فتح حاصل کر تے تھے کیونکہ خدا خود ان کا جنگجو سپاہی تھا۔ پھر بعد میں ساؤل، داؤد اور سلیمان کی حکومت کے دوران مرکزی سیاسی نظام مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج بھی ہمیشہ جنگ کے لئے تیار رہنے والی فوج بطورر ترقی کرنے لگی۔ ساؤل وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے ایک مستقل فوج کی بنیاد ڈالی (1 سمو ئیل 13:2, 24:2, 26:2)۔

ساؤل بادشاہ نے جس فوجی نظام کی شروعات کی تھی اس کو داؤد نے جاری رکھا۔ نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس میں اور اضافہ کیاکہ ضرورت پڑنے پر اس نے دیگر علاقوں سے فوج کی ٹکڑیوں کو بھاڑے پر منگوایا جو صرف اور صرف داؤد کے وفادار تھے۔ (2 سموئیل 22-19 :15)۔ اس نے براہ راست فوج کی رہنمائی کے لئے یو آب کو فوج کا سپہ سالار مقرر کیا۔ داؤد کے ما تحت میں بنی اسرائیل کی فوج اپنے بچاؤ کے لشکری طریق عمل میں اور زیادہ حملہ آور ہوئے۔ داؤد نے یو آب کو اپنے پڑوسی دشمن سے لڑنے کو بھیجا اور انہیں قتل کر وا یا۔ (2 سموئیل 11:1؛ 1 تواریخ 3-1 :20)۔ داؤد نے 24,000 سپاہیوں کا بارہ فوجی دستہ مقرر کئے تھے۔ جن میں سے ہر ایک دستے کی باری سال میں ایک بار ایک مہینے کے لئے آتی تھی۔ مطلب یہ کہ 24,000 سپاہیوں کی فوج سال میں صرف ایک مہینہ اپنی خدمت انجام دیتی تھی۔ (1 تواریخ 27 باب) داؤد کے بعد سلیمان کا دور حکومت با امن رہا۔ اس نے رتھوں اور گھڑ سواروں کا اضافہ کرتے ہوئے اپنی فوج کو بڑھایا اور پھیلایا (1 سلاطین 10:26)۔ قائم شدہ فوج جاری رہی (مگر سلیمان کی موت کے بعد حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ حکومت تقسیم ہو کر رہ گئی)۔ قبل مسیح 586 تک جب اسرائیل (یہوداہ) ایک سیاسی موجود حقیقی بطور وجود میں آنے کے لئے ختم ہو کر رہ گئی۔

نئے عہدنامے میں یسوع مسیح نے ایک رومی صوبہ دار کی باتیں سن کر تعجب کیا۔ اس کے ما تحت میں 100 سپاہی تھے۔ وہ یسوع کے پاس اپنے نوکر کی شفا یابی کے درخواست لےکے پہنچا تھا۔ اس صوبہ دار کا جواب جو یسوع کے لئے تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ یسوع کے اختیار کو سمجھ چکا تھا اور ساتھ ہی اس کا ایمان جو مسیح یسوع پر تھا (متی 13- 5 :8)۔ یسوع نے اس کے عہدہ کی ملامت نہیں کی تھی۔ کئی ایک صوبہ دار ہیں جن کا ذکر نئے عہد نامے میں ہوا ہے۔ وہ مسیحی ہونے کے ساتھ ساتھ خدا کا خوف ماننے والے تھے اچھے اخلاقی تھے اور تعریف کے قابل تھے۔ (متی 8:5؛ 27:54؛ مرقس 45-39 :15؛ لوقا 23:47، 7:2؛ اعمال 28:16، 21:32، 10:1)۔

جگہ اور خطاب ہو سکتاہے بدل گئے ہوں مگر ہمارے ہتھیار بند فوجیوں کی قدر ویسی ہی ہے جیسے بائبل کے فوج کے کپتانوں کی ہے۔ ایک سپاہی کے عہدہ کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر پولس اپفردٹس جو اس کا ہم خدمت تھااس کو وہ "ہم سپاہ" کتا ہے (فلپیوں 2:25)۔ کلام پاک مسیحیوں کو خداوند میں مضبوط رہنے کے لئے سپاہیانہ محاورہ یا الفاظ کا استعمال کرتاہے کہ تم خدا کے سارے ہتھیار باندھ لو (افسیوں 20-10:6)۔ جس میں ایک سپاہی کے سارے اوزار شامل ہیں۔ خود، سپر بکتر اور تلوار وغیرہ ۔ جی ہاں !

کلام پاک فوج میں خدمت کرنے کے لئے براہ راست اور غیر براہ مخاطب کرتاہے۔ مسیحی مرد اور عورتیں اچھے اخلاق، وفاداری اور عزت کے ساتھ فوج میں رہ کر اپنے ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ وہ اس یقین کے ساتھ ٹکے رہتے ہیں کہ شہریوں کی خدمت (معاشرہ کی خدمت) وہ جو انجام دے رہے ہیں وہ ہمارے قادر مطلق خدا کے حضور گران قدر ہے ۔ انہیں پوری عزت دینی چاہئے۔ وہ لوگ جوعزت کے ساتھ فوج میں رہکر خمدت انجام دیتےوہ ہماری عزت اور احسان مندی کے مستحق ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی خدمت کرنے کے بارےم یں کلام پاک کیا کہتا ہے؟