settings icon
share icon
سوال

کلیسیا کے آخری مصیبت کے درمیان اُٹھائے جانے(ریپچر)کے نظریے کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں ؟

جواب


کلیسیا کے آخری دور کی مصیبت کے درمیان میں اُٹھائے جانے یعنی ریپچر کے نظریے کے لیے انگریزی اصطلاح Midtribulationism استعمال ہوتی ہے اور یہ نظریہ سکھاتا ہے کہ جس وقت آخری سات سالہ مصیبت کا دور چل رہا ہوگا اُس کے درمیان میں ریپچر وقوع پذیر ہوگا یعنی کلیسیا اُٹھا لی جائے گی۔ اُس وقت ساتواں نرسنگا پھونکا جا ئے گا ( مکاشفہ 11باب 15آیت) اور کلیسیا ہوا میں اُڑ کر مسیح کا استقبال کرے گی۔ اس کے بعد خدا کے قہر کے پیالوں کو زمین پر اُنڈیلا جائے گا ( مکاشفہ 15-16ابواب ) اور مصیبت کے اِس حصے کو بڑی مصیبت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کلیسیا کے اُٹھایا جانے/ریپچر اور( اپنی بادشاہت کے قیام کےلیے) مسیح کی دوسری آمد کے درمیان ساڑھے تین سال کا وقفہ ہو گا۔ اس نظریے کے مطابق کلیسیا آخری مصیبت کے نصف حصے میں سے گزرے گی لیکن اگلے ساڑھے تین سال کی بد ترین مصیبت جسے یسوع نے بڑی مصیبت کہا ہے اُس سے بچا لی جائے گی ۔اِس Midtribulationismکے نظریے سے ملتا جلتا ایک اور نظریہ بھی ہے جس کے لیے انگریزی اصطلاح pre-wrath rapture استعمال کی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ خُدا کے" غضب کے روزِ عظیم "سے پہلے کلیسیا کا اُٹھا لیا جانا۔ ( مکاشفہ 6باب 17آیت)۔

اِس نظریے کےحامی اپنے نظریے کی تائید کےلیے 2تھسلنیکیوں 2باب 1-3آیات میں دی گئی واقعات کی ترتیب کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔ ان واقعات کی ترتیب کچھ یوں ہے :(1) برگشتگی/ گمراہی ، (2)مخالفِ مسیح کا ظہور اور(3) مسیح کا دن ۔ کلیسیا کے آخری مصیبت کے درمیان میں اُٹھائے جانے/ریپچر کا نظریہ سکھاتا ہے کہ مخالفِ مسیح یقیناً" اُجاڑنے والی مکروہ چیز " ( متی 24باب 15آیت) سے پہلے رونما نہیں ہو گا اور یہ اِس اُجاڑنے والی مکروہ چیز کا ظہور آخری مصیبت کے درمیانی حصہ میں ہوگا ( دانی ایل 9باب 27آیت)۔کلیسیا کے آخری مصیبت کے دوران میں اُٹھائے جانے کے نظریے کے حامی دانی ایل 7باب 25 آیت کا استعمال کرتے ہیں جس کے مطابق مخالفِ مسیح ساڑھے تین سال تک " مقدسوں کو تنگ کرے گا " اور اپنے موقف کو تقویت دینے کےلیے وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ آخری مصیبت کا پہلا نصف حصہ ہے اور یہ بھی کہ یہاں مقدسین کلیسیا کو پیش کرتے ہیں ۔ وہ " مسیح کے دن " کی تشریح ریپچر طور پر کرتے ہیں ؛ لہذا جب تک مخالفِ مسیح ظاہر نہیں ہوتا کلیسیا آسمان پر نہیں اُٹھائی جائے گی ۔

اِس نظریے کی ایک اور بنیادی تعلیم یہ ہے کہ 1کرنتھیوں 15باب 52 آیت میں پھونکا جانے والا نرسنگا اور مکاشفہ 11باب 15آیت میں بیان کردہ نرسنگا دونوں ایک ہی ہیں ۔ مکاشفہ 11 باب کا نرسنگا اس سلسلے کا آخری نرسنگا ہے چنانچہ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 1کرنتھیوں 15 باب کا نرسنگا "آخری نرسنگا " ہو گا ۔ تاہم نرسنگوں کےپسِ منظر میں یہ دلیل نا کام ہو جاتی ہے ۔کیونکہ کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے موقع پر " خُداوند خُود آسمان سے للکار اور مقرب فرشتہ کی آواز اور خُدا کے نرسنگے کے ساتھ اُتر آئے گا "(1تھسلنیکیوں 4باب 16آیت) مگر مکاشفہ 11 باب میں بیان کردہ نرسنگا آخری عدالت کی خبر دیتا ہے ۔ ایک نرسنگا خدا کے چُنے ہوئے لوگوں پر اُس کے فضل کی پکار ہے: جبکہ دوسرا نرسنگا شریروں پر غصب کے نزول کا اعلان ہے ۔ مزید یہ کہ مکاشفہ کی کتاب میں درج ساتواں نرسنگا ترتیب کے لحاظ سے " آخری" نہیں ہے –متی 24باب 31آیت اس کے بعد ایک اور نرسنگے کا ذکر کرتی ہے جسے مسیح کی بادشاہی کے آغاز پر پھونکا جائے گا ۔

1 تھسلنیکیوں 5باب 9آیت بیان کرتی ہے کہ کلیسیا کو غصب کے لیے نہیں بلکہ فضل اور نجات کےلیے مقرر کیا گیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایماندار مصیبت کا سامنا نہیں کریں گے ۔ تاہم آخری مصیبت کے درمیان میں کلیسیا کے اُٹھائے جانے کا نظریہ "قہر " کو محض آخری مصیبت کے نصف حصے خصوصاً قہر کے پیالوں کے تعلق سے بیان کرتاہے ۔ تاہم قہر کے لفظی مفہوم کو اس طرح سے محدود کرنا ایک لحاظ سے بے بنیاد معلوم ہوتا ہے ۔ یقیناً مہروں کے کھلنے اور نرسنگوں کے پھونکے جانےکے بعد قحط، پانی کے کڑوے ہونے ، چاند کے تاریک ہونے ،خونریزی ، زلزے اور عذاب پر مشتمل مصیبتوں کو بھی خدا کا قہر خیال کیا جا سکتا ہے ۔

آخری مصیبت کے درمیان میں ریپچر کا نظریہ کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے عمل کو مکاشفہ 11 باب کے ساتھ جوڑتا ہے جو کہ بڑی مصیبت کے آغاز سے پہلے کا وقت ہے ۔ مکاشفہ کی کتاب کے واقعات کی ترتیب میں اس طرح کی تبدیلی کے باعث دو مسائل سامنے آتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ مکاشفہ کی تمام کتاب میں " بڑی مصیبت" کی اصطلاح ساتویں مہر کے آغاز سے پہلے صرف ایک ہی بار 7باب 14آیت میں استعمال ہوئی ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ "غضب کے روزِ عظیم " کا واحد ذکر چھٹی مہر کے واقعات کے دوران مکاشفہ 6باب 17آیت میں ہو ا ہے ۔ابھی اِس نظریے کے مطابق تو ریپچر ساتویں نرسنگے کے پھونکے جانے پر ہوتا ہے، جبکہ یہ واقعات اُس لحاظ سے بہت پہلے واقع ہوتے ہیں۔

آخری مصیبت کے درمیان میں ریپچر کے نظریے کی آخری خامی دیگر دو اور نظریات کیساتھ بھی مشترک ہے : یعنی بائبل مستقبل کے واقعات کے بارےمیں کوئی واضح ترتیب پیش نہیں کرتی ۔ بائبل ایک نظریے کی نسبت دوسرے نظریے کو زیادہ واضح طور پر نہیں سکھاتی اور یہی وجہ ہے کہ اخیر ایام کے تعلق سے ہمارے پاس مختلف طرح کی آراء ہیں اوراس پر بھی کئی آراء ہیں کہ اخیر ایام سے متعلق پیشن گوئیوں کو کس طرح سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کلیسیا کے آخری مصیبت کے درمیان اُٹھائے جانے(ریپچر)کے نظریے کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries