settings icon
share icon
سوال

رحمدلانہ /سہل موت دینے سے کیا مراد ہے ؟

جواب


"رحمدلانہ موت "دینے سے مرادکسی شخص یا جانور کو بنا کسی تکلیف کے قتل کرنا یا عام طور پر کسی تکلیف دہ اور لاعلاج بیماری کی وجہ سے طبی خدمات روک کر اُسے مرنے دینا ہے ۔ رحمدلانہ موت دینے کو "یوتھنیشیا/euthanasia" بھی کہا جاتا ہے۔

یونانی لفظ یوتھنیشیا/ euthanasia کا ترجمہ "بے ایذا موت" ہے ، جو اِسے اور رحمدلانہ موت کو ایسی اصطلاحات بناتا ہے جو مشکل طبی حالات میں تسلی بخش ہو سکتی ہیں۔ جب کوئی بھی شخص ، خاص طور پر خاندان کا کوئی فرد یا قریبی دوست، درد، ذہنی بگاڑ ، یا کسی اور بُری حالت کا سامنا کر رہا ہو تو ہمارا رُجحان بس ہر ممکن طریقے سے اُس شخص کو راحت پہنچانا ہوتاہے۔ بعض اوقات دیکھ بھال کرنے والے شخص یا مریض میں درد کو کم کرنے کی یہ خواہش اتنی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ یہ زندگی کو قائم رکھنے اور زندہ رہنے کے لیے ہمارے گہرے جذبے پرغالب آجاتی ہے۔

مشکلات کے خاتمے کی خواہش اور زندہ رہنے کی خواہش کے درمیان کی کشمکش انسانیت کے لیے نئی نہیں ہے۔ درحقیقت، بائبل کی قدیم ترین کہانیوں میں سے ایک یعنی ایوب کی کہانی اُسکی طرف سے اپنی اذیت کے دوران موت کی آرزو کے بارے میں بتاتی ہے۔ ایوب اپنی زندگی پر افسوس کا اظہار کرتا ہےاور حتیٰ کہ خدا سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اُس کی جذباتی ، جسمانی اور روحانی تکلیف کو جاری رکھنے کی بجائے اسے مار ڈالے (ایوب 6باب 8-11آیات)۔ ایوب بڑےدرست طور پر بیان کرتا ہے کہ" میری جان پھانسی اور مَوت کو میری اِن ہڈّیوں پر ترجیح دیتی ہے۔مجھے اپنی جان سے نفرت ہے۔ مَیں ہمیشہ تک زِندہ رہنا نہیں چاہتا۔ مجھے چھوڑ دے کیونکہ میرے دِن بُطلان ہیں"(ایوب 7باب 15-16آیات)۔

کیا بائبل ایوب کے جذبات کی حمایت کرتی ہے؟ بائبل یقینی طور پر تسلیم کرتی ہے کہ اس طرح کے جذبات موجود ہیں۔ایلیاہ (1سلاطین 19باب 4آیت) اور ساؤل (1تواریخ 10باب 4آیت) سمیت کلامِ مقدس کی دیگر شخصیات نے مایوسی کے عالم میں اپنی زندگیوں کے جلد خاتمے کی درخو است کی ہے۔ کلامِ مقدس تسلیم کرتا ہے کہ جذبات اور یہاں تک کہ منطق بھی "رحمدلانہ موت د ینے " کے تصور کی حمایت کر سکتا ہے ۔ بہر حال ہم جذبات یا منطق سے نہیں بلکہ ایمان کے وسیلے جیتے ہیں (رومیوں 1باب 17آیت)۔ خدا کا فہم اور منصوبے ایسے بڑے ہیں جنہیں ہم کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ وہ زندگی دینے والا اور اُسے قائم رکھنے والا ہے (نحمیاہ 9باب 6آیت) اور ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اُس کے اختیار کو غَصب کریں۔ ایوب کی کہانی کے آخر میں اس کا دوست الیہو اُسے خبردار کرتا ہے کہ " ہوشیار رہ! بدی کی طرف راغب نہ ہو کیونکہ تُو نے مصیبت کو نہیں بلکہ اِسی کو چُنا ہے"(ایوب 36باب 21 آیت)۔ اپنی موت کے وقت یا طریقے کا تعین کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے ۔ رحمدلانہ موت دینا خدا کے منصوبے اور قدرت کے خلاف گناہ ہے۔

ڈی ٹِرک بونحائفیر / Dietrich Bonhoeffer ایک جرمن ماہرِ علم ِ الہیات تھا جس نے مصائب کا ذاتی طور پر گہرا تجربہ کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران تیسری جمہوری جرمن حکومت کی طرف سے اُسے جیل میں ڈالا اور بالآخر پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا ۔ جیل میں رہتے ہوئے اُس نے اپنی کتاب Ethics (اخلاقیات ) لکھی جو اُس کے مرنے کے بعد شائع ہوئی تھی جس کے اندر لکھا ہوا تھا کہ : "زندگی کے خاتمے کا حق صرف خدا کے لیے وقف ہے کیونکہ صرف خدا ہی جانتا ہے کہ زندگی کس مقصد کی طرف رہنمائی کر رہی ہے۔زندگی کو جائز قرار دینے یا اُسے رَد کرنے والی واحد ذات خُدا ہی کو ہونا چاہیے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رحمدلانہ /سہل موت دینے سے کیا مراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries