settings icon
share icon
سوال

ملکِ صدق کون تھا؟

جواب


ملکِ صدق جس کے نام کے معنی "راستبازی کا بادشاہ" ہیں ، سالم (یروشلیم) کا بادشاہ اور خُدائے حق تعالیٰ کا کاہن تھا (پیدایش14 باب 18- 20 آیات؛ 110زبور 4 آیت؛ عبرانیوں5 باب 6-11 آیات؛6 باب 20 آیت تا 7 باب 28 آیت)۔ ملکِ صدق کا پیدایش کی کتاب میں اچانک سے ظاہر ہونا اور پھر غائب ہو جانا کسی حد تک معمہ ہے۔ ملکِ صدق اور ابرہام کی پہلی ملاقات ابرہام کی طرف سے کدرلاعمر اور اُس کے تین اتحادیوں کو شکست دینے کے بعد ہوئی۔ ملکِ صدق نے دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابرہام اور اُس کے تھکے ماندہ ساتھیوں کو روٹی اور مے دی۔ اُس نے ایل ایلون (خُدائے حق تعالیٰ)کے نام سے ابرہام کو برکت دی، اور جنگ میں ابرہام کو فتح دینے کے لئے خُدا کی تمجید کی (پیدایش14 باب 18- 20 آیات)۔

ابرہام نے ملکِ صدق کو اپنے تمام مال میں سے جو اُس نے جمع کیا تھا دہ یکی (دسواں حصہ)دی ۔ اِس عمل سے ابرہام نے ظاہر کیا کہ وہ ملکِ صدق کو کاہن کے طور پر تسلیم کرتا ہے، جس کا رُتبہ روحانی طور پر اُس سے اعلیٰ ہے۔

داؤد کی طرف سے لکھے گئے ایک مسیحانہ زُبور 110 میں (متی 22باب 43 آیت) ملکِ صدق کو مسیح کی مانند کاہن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اِس موضوع کو عبرانیوں کے نام خط میں دُہرایا گیا ہے، جہاں ملکِ صدق اور مسیح دونوں کو راستبازی اور سلامتی کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ ملکِ صدق اورنمونے کے طور پر اُس کی منفرد کہانت کا حوالہ دینے سے مصنف ظاہر کرتا ہے کہ مسیح کی نئی کہانت لاویوں کی پُرانی ترتیب اور ہارون کی کہانت سے افضل ہے (عبرانیوں7 باب 1- 10 آیات)۔

بعض لوگ تجویز کرتے ہیں کہ ملکِ صدق دراصل یسوع مسیح کا قبل از تجسم ظہور تھا(اِس کے لیے انگریزی اصطلاح Christophanyاستعمال کی جاتی ہے۔) یہ ایک ممکن نظریہ ہےکہ ابرہام نے پہلے ہی مسیح سے مُلاقات کی ہو۔ پیدایش 17باب پر غور کریں جہاں ابرہام نے انسانی شکل میں خُداوند (ایل شیدائی) کودیکھا اور اُس سے بات کی۔

عبرانیوں6 باب 20 آیت بیان کرتی ہے، "یسوع ہمیشہ کے لئے ملکِ صدق کے طور پر سردار کاہن بن کر ہماری خاطر پیش رو کے طور پر داخل ہوا ہے"۔ اِس اصطلاح کی ترتیب عام طور پر منصب کو قائم رکھتے ہوئے کہانت کے سلسلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاہم ملکِ صدق سے مسیح تک طویل وقفے میں کبھی کسی کا ذکر نہیں کیا گیا، جتنی بھی خلافِ قائدہ باتیں ہیں وہ یہ فرض کرنے سے حل ہو سکتی ہیں کہ ملکِ صدق اور مسیح واقعی ایک ہی شخص ہیں۔ اِس طرح"ترتیب" ابدی طور پر صرف اور صرف اُس میں مقرر ہے۔

عبرانیوں7 باب 3 آیت بیان کرتی ہے کہ ملکِ صدق "بے باپ بے ماں بے نسب نامہ ہے۔ نہ اُس کی عُمر کا شروع ہے نہ زندگی کا آخر بلکہ وہ خُدا کے بیٹے کے مُشابہ ٹھہرا۔ اور وہ ہمیشہ کاہن رہتا ہے"۔ سوال یہ ہے کہ آیا عبرانیوں کا مصنف اِس حوالے کو حقیقی معنوں میں لیتا ہے یا مجازی/تمثیلی معنوں میں۔

اگر عبرانیوں کا یہ بیان لغوی ہے تو پھر اِسے مُناسب طریقے سے یسوع مسیح کے علاوہ کسی اور پر لاگو کرنا واقعی مشکل ہے۔ کوئی بھی صرف زمینی بادشاہ "ہمیشہ تک کاہن " نہیں رہ سکتا اور کوئی بھی صرف انسان "بغیر باپ یا ماں" کے نہیں ہوتا۔ اگر پیدایش 14باب تھیوفنی (عہد عتیق میں خُدا کا ظہور) کو بیان کرتا ہے، تو پھر خُدا بیٹا راستبازی کے بادشاہ (مکاشفہ19 باب 11- 16 آیات)، سلامتی کے بادشاہ (یسعیاہ 9باب 6آیت)، اور خُدا اور انسان کے درمیانی (1 تیمتھیس 2باب 5 آیت ) کے طور پرظاہر ہوتے ہوئے ابرہام کو برکت دینے آیا تھا (پیدایش 14باب 17-19 آیات)۔

اگر ملکِ صدق کا بیان مجازی/تمثیلی ہے، تو پھر نسب نامہ نہ رکھنے، شروع یا اختتام نہ رکھنے، اور کبھی نہ ختم ہونے والی خدمت کی تفصیلات صرف اُس شخص کی پُراسرار فطرت کا زور دار لہجے میں اظہار کرتی ہیں جس نے ابرہام سے مُلاقات کی۔ اِس صورت میں، اِن تفصیلات کے متعلق پیدائش کی کتاب کی خاموشی بامقصد ہے اور ملکِ صدق کو مسیح کے ساتھ منسلک کرنا ہی بہتر ہے۔

کیا ملکِ صدق اور یسوع ایک ہی شخص ہے؟ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے کسی بھی طرح لیا جا سکتا ہے۔ ملکِ صدق کم از کم مسیح کی مانند ہے جو خُداوند کی خدمت کی پہلے سے ہی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ابرہام اپنی تھکا دینے والی جنگ کے بعد یسوع مسیح سے ملا ہو اور اُسے جلال دیا ہو۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ملکِ صدق کون تھا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries