settings icon
share icon
سوال

کیا کسی کنواری /کنوارے مسیحی کو کسی ایسے انسان سے شادی کر لینی چاہیے جو کنواری/کنوارہ نہ ہو؟

جواب


مسیحی شادی کے لیے مثالی صورتحال یقینی طور پر یہی ہے کہ جب دونوں لوگ کنوارے ہیں، اور اُن کو یہ معلوم ہے کہ جنسی تعلق بنانے کے لیے خُدا کی نظر میں شادی ہی واحد اور جائز طریقہ ہے ۔ لیکن ہم ایک مثالی دُنیا کے اندر نہیں بستےبہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا شخص جو ایک خُدا پرست خاندان میں رہا ہو اور بچپن سے ہی اپنی زندگی خُداوند کو دے چکا ہو اُسکی خواہش ہوتی ہے کہ کسی ایسے فرد سے شادی کرے جس کی رُوحانی زندگی 20 سال یا 30 سال کی عمر میں تبدیل ہوئی ہوتی ہے۔ پس ایسی صورت میں وہ مسیحی فرد اپنے ساتھ اپنے ماضی کے اُن بہت سارے معیاروں کو لے آتا ہے جو جن کے بارے میں اُس نے باہر کی دُنیا سے سیکھا اور جو خُدا کی پاک مرضی کے خلاف ہیں۔ اب جب ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر کے مسیح پر ایمان رکھتے ہوئے خُدا کے پاس آتے ہیں تو وہ یقینی طور پر ہمارے گناہوں کو ہم سے ایسے دور کر دیتا ہے جیسے مشرق مغرب سے دور ہے (103 زبور 12 آیت)، لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اپنے گناہوں کی پرانی ترین یادیں رہ جاتی ہیں اور کسی انسان کے لیے اپنے ماضی کو بھول جانا اتنا آسان نہیں ہے۔ جب شادی کے بندھن میں بندھنے والے لوگوں میں سے کوئی ایک بھی دوسرے ساتھی کی ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو بھول نہیں سکتا اور اُنہیں معاف نہیں کرتا تو یہ رویہ اُن کی شادی شُدہ زندگی پر بہت منفی طریقے سے اثر اندا ز ہوتا ہے۔

اِس سے پہلے کہ ہم کسی ایسے انسان کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھیں جو ماضی میں جنسی تعلقات کا تجربہ رکھتا ہو، ہمارے لیے یہ جاننا بہت ہی زیادہ ضروری ہے کہ نجات اور گناہوں کی معافی ہمیں خُدا کے فضل کے وسیلے سے دی جاتی ہے۔ " کیونکہ تم کو اِیمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں ۔ خُدا کی بخشش ہے۔اور نہ اَعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے " (افسیوں 2باب8-9آیات)۔ جب ہم اِس بات کو پورے طور پر سمجھنا شروع کرتے ہیں کہ حقیقی طور پر معاف کئے جانے کا کیا مطلب ہے تو پھر ہم خُدا کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمیں معاف کرنے کے لیے خُدا ہمارے ساتھ کیسی محبت رکھتا ہے، اور پھر یہ بات ہمارے لیے دوسروں کو معاف کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ کسی کو معاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے انسان یعنی اپنے جیون ساتھ کے ماضی کو بھلا دینا اور اُس فرد کو ایک نئے مخلوق کے طور پر دیکھنا (2 کرنتھیوں 5باب17آیت)۔ مسیح نے اُس دوسرے فرد کے گناہوں کے لیے بھی جان دی ہے اور ابھی ممکنہ شریک حیات کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنے دوسرے ساتھی کے ماضی کی یادوں کے باوجود اُس کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے یا نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پر ہمارے عقائد لفظی اور کتابی حالت سے تبدیل ہو کر عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔

دوسرے کو معاف کرنے کے تعلق سے ہمیں ہمیشہ ہی اپنے ماضی کو خُدا کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جنسی گناہ خُدا کے نزدیک بہت بُرااور رنجیدہ کرنے والا ہے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ جھوٹ بولنا، دھوکا دینا، بُرے خیالات رکھنا، شراب پینا، تمباکو نوشی کرنا ، بے صبر ا، متکبر اور دوسروں کو معاف نہ کرنے والا ہونا بھی ایسے ہی گناہ ہیں جنہیں خُدا نا پسند کرتا ہے۔ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو اور جو ایسا ہو کہ "پہلا پتھر مار سکے؟"مسیح کے پاس آنے سے پہلے ہم میں سے ہر ایک "اپنے گناہوں اور قصوروں کے سبب سے مُردہ " تھا اور ہم خُدا کے فضل کے وسیلے سے زندہ کئے گئے ہیں (افسیوں 2باب 1-5آیات)۔ ابھی سوال یہ ہے کہ کیا ہم دوسروں کو اِس طرح سے معاف کر سکتے ہیں جیسے مسیح خُداوند نے ہمیں معاف کیا ہے؟ مکمل طور پر اور پورے دل سے؟ ایسا کر لینے کی صلاحیت رکھنا ایک سچا مسیحی ہونے کی نشانی ہے۔ یسوع نے کہا ہے کہ اگر ہم نے لوگوں کو معاف نہ کیا تو خُدا بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا (متی 6باب14-15آیات)۔ ابھی یسوع یہاں پر یہ نہیں کہہ رہا کہ اگر ہم لوگوں کو معاف نہیں کرتے تو ہم خُدا کی معافی کو حاصل نہیں کر سکتے، کیونکہ کلامِ مُقدس میں مرقوم ہے کہ خُدا کی طرف سے ملنے والی معافی اُس کے فضل کی بدولت ہے، بلکہ خُداوند یسوع کہہ رہا ہے کہ معاف کرنے والا دل اِس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ ایک سچے مسیحی ایماندار کا دل ہے جس میں رُوح القدس بستا ہے۔ مسلسل طور پر دوسروں کو معاف نہ کرنے کا رویہ ایک سخت، اور نیا نہ بنائے گئے(سنگین ) دِل کی علامت ہے۔

کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے جو شادی سے پہلے اپنے کنوار پن کی حالت میں نہیں رہا کسی بھی ایماندار کو بہت زیادہ سوچ بچار، دُعا اور اپنی ذات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یعقوب 1باب5آیت بیان کرتی ہے کہ اگر ہم حکمت پانا چاہتے ہیں تو خُدا سے مانگیں اور وہ ہمیں بالکل مفت اپنی حکمت عطا کرے گا۔ اِس قسم کے کسی فیصلے یا انتخاب کرنے کے مرحلے میں مدد پانے کے لیے کسی خُدا پرست پاسبان، لیڈر یا بائبل کی درست اور واضح تعلیم دینے والی کلیسیا کے ساتھ تعلق اور رفاقت ضروری ہے۔ کچھ کلیسیاؤں کے اندر منگنی سے پہلے ازدواجی زندگی کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے بہترین کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مزید برآں ممکنہ جیون ساتھی کے ساتھ کھل کر اِن سارے موضوعات پر بات کرنے سے دونوں کے ماضی کی ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن پر اُنہیں بات کرنے اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کی ضرورت ہوگی۔

بہترین حالات کے اندر بھی شادی ایک چیلنج ہوتی ہے اور اِس کو کامیاب بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ دونوں فریقین ہی اِس بات کے مستحق ہیں کہ اُنہیں غیر مشروط محبت کی جائے۔ افسیوں 5باب شادی شُدہ زندگی میں میاں بیوی کے کردار کے بارےمیں بات کرتا ہے لیکن یہ حوالہ دونوں لوگوں کے لیے اِس اہم اصول کے بیان کے ساتھ شروع ہوتا ہے کہ ، " مسیح کے خَوف سے ایک دُوسرے کے تابع رہو۔ " (افسیوں 5باب 21 آیت)۔ قربانی دینے کے لیے تیار رہنا اور شادی کی مضبوطی، بحالی اور استحکام کے لیے خدمت کا جذبہ رکھنا کسی بھی مرد اور عورت کے اندر رُوحانی بلوغت کی نشانی ہوتی ہے۔ بائبلی تعلیمات کی بنیاد پر عقلمندی کے ساتھ اپنے جیون ساتھی کا چناؤ کرنا ضروری بات ہے، لیکن اتنی ہی اہم بات ہماری اپنی رُوحانی بڑھوتری اور اپنی زندگیوں کو خُدا کی مرضی کے تابع کرنا ہے۔ ایک شخص جو یہ چاہتا ہے کہ وہ ایسا ایماندار بنے جیسا خُدا اُسے بنانا چاہتا ہے اِس قابل ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ایسی عورت بننے میں مدد کرے جیسا خُدا اُس عورت کے لیے اپنی مرضی رکھتا ہے۔ پھر یہ لوگ اپنے ماضی کی سبھی باتوں کے باوجود اپنی شادی کو ایک ایسے اتحاد کے طور پر تعمیر کر سکیں گے جس سے خُدا کے نام کو جلال ملتا ہے اور جس سے وہ دونوں لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کسی کنواری /کنوارے مسیحی کو کسی ایسے انسان سے شادی کر لینی چاہیے جو کنواری/کنوارہ نہ ہو؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries