settings icon
share icon
سوال

مسیحی ہم جنس پرستوں کی شادی اور عام شادی میں برابری کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟

جواب


"شادی میں مساوات/برابری" دراصل لونڈے بازوں کی شادی / ہم جنس پرستوں کی شادی کو زیر بحث لانے والا نعرہ ہے ۔ "شادی میں مساوات" کی اصطلاح اِس گفتگوکو ازسر نو ترتیب دینے اور ہم جنس پرستوں کی شادی کی مخالفت کرنے والوں کو کسی حد تک غیر منطقی قرار دینے کی ایک کوشش ہے۔ ہم جنس پرستانہ ازدواج کو شادی کے طور پر تسلیم کرنے کی مخالفت کرنا ایک بات ہے۔ لیکن شادی کے حقوق میں "مساوات" کی مخالفت کرنا زیادہ مشکل بات ہے۔ کون سا امریکی مساوات سے انکار کرے گا؟ تاہم وجہ کو کوئی نیا نام دینے سے بحث میں زیرِ غور بنیادی موضوعات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اگر "شادی کی مساوات" سے مراد "ہم جنس پرستانہ ازدواج "ہے تو مسیحیوں کو اِس کی مخالفت کرنی چاہیے۔

مسیحی شادی کی مساوات کے مخالف کیوں ہیں؟ یہ سوال اپنے آپ میں گمراہ کن ہے۔ تمام مسیحی شادی کی مساوات، ہم جنس پرستانہ ازدواج ، یا یہ جو کچھ بھی کہلاتی ہے اُسکے مخالف نہیں ہیں۔ بہت سے مسیحی ہم جنس پرستانہ ازدواج کو قانونی لحا ظ سے بطور شادی تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسے مسیحیوں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ جنسی اخلاقیات کے حوالے سے قانون سازی نہیں کی جانی چاہیے اور یہ بھی کہ ایک آزاد معاشرے میں لوگوں کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ جس سے چاہیں شادی کر سکیں۔ بائبلی لحاظ سے کہا جائے تو یہ ایک المناک غلطی ہے۔

بائبل اس بارے میں پوری طرح واضح ہے کہ ہم جنس پرستی ایک غیر فطری گناہ ہے (احبار 18باب 22آیت ؛ رومیوں 1باب 26-27آیات؛ 1کرنتھیوں 6باب 9آیت)۔ بائبل شادی کو خدا کی ایجاد کے طور پر پیش کرتی ہے اور خدا نے اِسے ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان زندگی بھر کے عہد کے طور پر بیان کیا ہے (پیدایش 2باب 24آیت ؛ 1 کرنتھیوں 7باب 2-16آیات ؛ افسیوں 5باب 23-33آیات)۔ بائبل کے مطابق ایک ہم جنس پرستانہ ازدواج شادی نہیں ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت قانونی طور پر شادی کی نئی تعریف کو منظو رکر لیتی ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ معاشرہ ہم جنس ازدواج کے زبردست حق میں ہے۔ ایک ہم جنس پرستانہ ازدواج ہمیشہ سے خدا کی تخلیق کا بگاڑ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

لادین اور غیر مسیحی تعلیمات میں تیز ی سے ترقی کرنے والے جدید معاشروں کے اندر شادی کی مساوات کی بحث بالآخر ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک جیتنے والی ہے۔ قومی سطح پر توبہ اور مسیحی ایمان کی تجدید نو کو ترک کرتے ہوئے ہم جنس پرستانہ ازدواج کو اُن سے متعلق تمام حقوق اور مراعات کے ساتھ باضابطہ طور پر جائز شادیوں کے طور پر تسلیم کیا جانے والا ہے ۔ لیکن معاشرہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ مسیح کے پیروکاروں کو اُس کے کلام کے موافق جینا چاہیے اوراُس کے تابع ہونا ہے۔ اور اُس کا کلام صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان طے پاتی ہے۔ بحیثیت مسیحی ہم اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ ہم ایک لا دین اور ناراست قوم میں رہتے ہیں لیکن ہم معاشرے کی بدلنے والی رسومات کے مقابلے میں خدا کے لاتبدیل کلام کی قدر کرتے ہیں۔"ہرگِز نہیں۔ بلکہ خُدا سچّا ٹھہرے اور ہر ایک آدمی جُھوٹا"( رومیوں 3باب 4آیت)۔

مسیحیوں کو اس لحاظ سے ہم جنس پرست جوڑوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ معاشرتی طور پر اُنہیں ازدواجی سند اور حکومتی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ٹیکس میں چھُوٹ، وراثت کے حقوق، ہسپتال کے دورے کے حقوق، وغیرہ کا بائبل میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن جب شادی کی تعریف کی بات آتی ہے تو مسیحیوں کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ شادی کے بندھن کو خدا نے تخلیق کیا ہے ۔ کسی انسان کو یہ حق یا اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی نئے سرے سے تشریح کرے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے کہ حکومتیں اور معاشرے اس کی جو بھی حمایت کرتے ہیں، ہم جنس پرست جوڑے مخالف جنس شادیوں کے حقیقی معنوں میں کبھی برابر نہیں ہوں گے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی ہم جنس پرستوں کی شادی اور عام شادی میں برابری کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries