settings icon
share icon
سوال

میاں بیوی میں دہ یکی دینے پر نااتفاقی کے موقع پر کیاکِیا جانا چاہیے ؟

جواب


جب ایک شوہر اور بیوی "دہ یکی" دینے پر یا اِس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ مقامی کلیسیا یا دیگر کلیسیائی خدمتوں کے لیے کتنا روپیہ پیسہ دینا چاہیے تو اِس کا نتیجہ جھگڑے کی صورت میں نکلتا ہے۔ سب سے پہلے تو اِس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ نئے عہد نامے کی تعلیمات کے تحت مسیحیوں پر اپنی آمدن کا 10 فیصد حصہ دینا لاگو نہیں ہے۔ خُدا نے پرانے عہد نامے کے اندر یہودیوں کی معیشت میں دہ یکی کے قانون کو قائم کیا۔ دہ یکی کا قانون تو شریعت کے دئیے جانے سے بھی پہلے موجود تھا (پیدایش 14باب20 آیت) اور احبار 27باب30 آیت بیان کرتی ہے کہ یہودیوں کے لیے زمین کے بیج یا درخت کے پھل کی دہ یکی کو خُدا کے حضور لانا ضروری تھا۔ اِستثنا 14باب22 آیت میں موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ خُدا کہتا ہے کہ " تُو اپنے غلّہ میں سے جو سال بسال تیرے کھیتوں میں پَیدا ہو دَہ یکی دینا۔ " بنی اسرائیل کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنی تمام آمدن کا دسواں حصہ لا کر خُدا کے حضور میں پیش کرے۔ دہ یکی سے خیمہ اجتماع اور بعد میں ہیکل اور کہانتی نظام کی مدد کی جاتی تھی۔

آج ہماری دہ یکی اور ہماری طرف سے پیش کیا جانے والا ہدیہ محبت کی قربانی ہے جو ہم خُدا کی حضوری میں اُن برکات کی شکر گزاری کے لیے لاتے ہیں جو ہمیں اُس کے فرزند ہونے کی وجہ سے ملی ہوئی ہیں۔ ہم پرانے عہدنامے کی معیشت کے قانون کے ماتحت نہی بلکہ ہم فضل کے دور میں جی رہے ہیں۔ ہماری دہ یکی اور ہماری طرف سے پیش کی جانے والی ہدیے کی قربانی ہماری مقامی کلیسیاؤں میں خُدا کے کام کے ساتھ ساتھ بشارتی کوششوں کی حمایت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

جب ہم خُداوند کو دیتے ہیں تو ہمیں خوشی کے ساتھ دینا چاہیے۔" لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا۔جس قدر ہر ایک نے اپنے دِل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے "(2 کرنتھیوں 9باب6-7 آیات)۔ مجبوری سے دینے یا کسی کمی کی تلافی کرنے کے لیے دینے سے ہمیں رُوحانی طور پر فائدہ نہیں ہوگااور نہ ہی اِس سے گھر والوں کو برکت ملے گی۔

خُدا کی طرف سے بیان کردہ ترتیب میں شوہر اور بیوی ایک ہیں (مرقس 10باب8 آیت)۔ مثالی بات یہ ہوگی کہ شوہر اور بیوی خُدا کی راہ میں دینے کے لیے باہمی طور پر تبادلہ خیال کریں اوراُنہیں بائبل کے اصولوں کی بنیاد پر مناسب رقم اور مناسب مقصد کے حوالے سے باہمی فیصلہ اور معاہدہ کرنا چاہیے۔ اگر دینےکے بارے میں اختلاف ہو تو بیوی اپنے شوہر کا اختیار غصب نہیں کر سکتی اور اُس کی جگہ پر روپیہ پیسہ نہیں دے سکتی یا اُسے دینے سے روکنے کی کوشش نہیں کر سکتی۔ اگر وہ ایسا کرے تو وہ خود خاندان کی سرداری اور سربراہی لینے کی کوشش کرے گی (افسیوں 5باب22-33 آیات) اور یہ خُدا کے حکم کے خلاف ہے۔ بیویوں کو خُدا کے حکم کی تابعداری میں چلنا اور اُسی کے تابع رہنا ہے (افسیوں 5باب22 آیت)۔ اِسی طرح شوہروں کو بھی اپنے آپ کو خُدا کے حکم کے تابع کرتے ہوئے اپنی بیویوں سے غیر مشروط محبت کرنی ہے (افسیوں 5باب22-33 آیات)۔ ایک شوہر کو دُعا میں ٹھہر کر اپنی بیوی کی ساری مدد پر غور کرنا چاہیے اور پھر بالآخر اپنے آپ کو خُدا کی ہدایت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک شریکِ حیات غیر ایماندار ہو تو بھی وہی اصول موجود ہیں۔ شوہر خاندان کا سربراہ ہونے کے ناطےخُدا کی خدمت کے لیے کچھ دینے کے بارے میں فیصلوں کی حتمی ذمہ داری اُٹھاتا ہے۔

خُدا کے حکم کے تابع ہونے کی بدولت اپنے ایمان پر قائم رہنے کے لیے نعمت اور خُدا کا فضل ملے گا۔ خُدا کے پاس چیزوں کو کرنے کا اپنا طریقہ ہے، اور ہم بڑے اعتماد کے ساتھ خاموشی کے ساتھ کھڑے ہو سکتے اور دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں اپنے اوپر چیزوں کو لینے کی ضرورت نہیں۔جو کچھ ہمیں غلط نظر آ رہا ہوتا ہے خُدا اُسے ٹھیک کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ 1 سموئیل میں ہمیں یہ ابدی اصول ملتا ہے: " سموئیل نے کہا کیا خُداوند سوختنی قُربانیوں اور ذبیحوں سے اِتنا ہی خُوش ہوتا ہے جتنا اِس بات سے کہ خُداوند کا حکم مانا جائے؟ دیکھ فرمانبرداری قُربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے " (1 سموئیل 15باب22 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

میاں بیوی میں دہ یکی دینے پر نااتفاقی کے موقع پر کیاکِیا جانا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries