settings icon
share icon
سوال

خُدا نے قائن کے لیے کونسا نشان ٹھہرایا تھا (پیدایش 4باب15آیت)؟

جواب


قائن کی طرف سے اپنے بھائی ہابل کو قتل کرنے کے بعد خدا نے قائن کے سامنے اعلان کیا کہ " اب تُوزمین کی طرف سے لعنتی ہوا۔ جس نے اپنے منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے۔ جب تُو زمین کو جوتے گا تو وہ اب تجھے اپنی پیداوار نہ دیگی اور زمین پر تُو خانہ خراب اور آوارہ ہوگا" (پیدائش 4 باب11-12آیات)۔ اس کے جواب میں قائن نے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " میری سزا برداشت سے باہر ہے ۔ دیکھ آج تُو نے مجھے رُویِ زمین سے نکال دیا ہے اور مَیں تیرے حضور سے رُوپوش ہوجاؤنگا اور زمین پر خانہ خراب اور آوارہ رہونگا، اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی مجھے پائیگا قتل کر ڈالیگا"(پیدایش 4باب13-14آیات) خدا نے اُسے جواب دیا کہ " نہیں بلکہ جو قائن کو قتل کرے اُس سے سات گُنا بدلہ لیا جائیگا اور خُداوند نے قائن کے لئے ایک نشان ٹھہرایا کہ کوئی اُسے پاکر مار نہ ڈالے۔ سو قائن خُداوند کے حضور سے نکل گیا اور عدؔن کے مشرق کی طرف نُود کے علاقہ میں جا بسا" (پیدائش 4باب15-16آیات)۔

قائن کے لیے ٹھہرائے گئے نشان کی نوعیت بہت زیادہ بحث اور قیاس آرائیوں کا موضوع رہی ہے۔ وہ عبرانی لفظ جس کا ترجمہ "نشان" کیا گیا ہے وہ "اوتھ" ہے اور یہ کسی نشان، علامت، یا نشان کے طور پر دی گئی کسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عبرانی صحائف میں دوسری جگہوں پر لفظ "اوتھ owth" کا استعمال 79 دفعہ کیا گیا ہے اور اکثر اس کا ترجمہ "علامت یا نشان " کے طور پر کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہ عبرانی لفظ اُس نشان کی صحیح نوعیت کی شناخت پیش نہیں کرتا جو خدا نے قائن کے لیے ٹھہرایا تھا۔ بہرحال یہ جو کچھ بھی تھا ، یہ ایک ایسا نشان یا علامت تھی جس کی وجہ سے یہ بتایا گیا تھا کہ قائن کو قتل نہ کیا جائے ۔ کچھ لوگ تجویز کرتے ہیں کہ یہ نشان ایک داغ تھا، یا کسی قسم کا ٹیٹوتھا۔ بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو،اِس نشان کی درست نوعیت کی شناخت عبارت کا مرکز نہیں ہے۔یہاں پر حقیقی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ خدا لوگوں کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ قائن سے انتقام لیں ۔ اورقائن کے لیے جو نشان ٹھہرایا گیا تھااُس نے اِس مقصد کو پورا کر دیا۔

ماضی میں بہت سے لوگ قائن کے لیے ٹھہرائے گئے نشان کو سیاہ جلد سمجھتے تھے– اُن کا ماننا تھا کہ خُدا نے قائن کی خاص شناخت کے لیے اُس کی جلد کی رنگت کو سیاہ کر دیا تھا۔ اب چونکہ قائن خُدا کی طرف سے لعنتی ٹھہرایا گیا تھا، پس اِس طرح کے خیال نے بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی تھی کہ سیاہ رنگت کی جلد والے لوگ دراصل لعنت زدہ ہیں۔ بہت سے لوگوں نے افریقی غلاموں کی تجارت اور سیاہ فام لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کے جواز کے طور پر "قائن کے نشان" کی تعلیم کا استعمال کیا۔ قائن کے نشان کی یہ تشریح بالکل غیر بائبلی ہے۔ عبرانی صحائف کے اندر لفظ "اوتھowth " کہیں پر بھی جلد کی سیاہ رنگت کو بیان کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ پیدایش 4 باب میں ہونے والی لعنت خود قائن کی ذات پر ہوئی تھی اور وہاں پر قطعی طور پر یہ اشارہ نہیں ملتا کہ اُس کی وہ لعنت اُس کی آئندہ نسلوں میں بھی منتقل ہو جائے گی۔ اِس دعوے کی کوئی بائبلی بنیاد نہیں ہے کہ قائن کی نسل کے لوگ سیاہ جلد کے مالک ہونگے۔ مزید برآں، اگر تو نوح کے کسی بیٹے کی کوئی بیوی قائن کی اولاد سے ہوتی تو اُس صورت میں تو قائن کی نسل کسی حد تک آگے جاری رہی ہوگی (ہم نہیں جانتے کہ نوح کے کسی بیٹے کی بیوی قائن کی اولاد میں سے تھی یا نہیں ) لیکن اگر ایسا نہیں تھا تو قائن کی تو ساری نسل طوفانِ نوح کے ساتھ ہی ختم ہو گئی ہوگی۔

خدا نے قائن کے لیے کیا نشان ٹھہرایا تھا؟ بائبل میں اِس حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔ نشان کا مطلب یا مقصد یہ تھا کہ قائن کو قتل نہ کیا جائے اور یہ مقصد نشان کی نوعیت کی شناخت سے زیادہ اہم تھا۔ نشان جو بھی تھا، اس کا جلد کی رنگت اور قائن کی نسل پر آبائی لعنت کے آنے کیساتھ بالکل بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ نسل پرستی کرنے یا کسی خاص انسانی طبقے یا نسل کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کے لیے قائن کے نشان کو بطورِ بہانہ یا جواز استعمال کرنا بالکل غیر بائبلی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا نے قائن کے لیے کونسا نشان ٹھہرایا تھا (پیدایش 4باب15آیت)؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries