آپ کے مالیات کی نظام کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟



سوال: آپ کے مالیات کی نظام کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟

جواب:
کلام پاک کے پاس مالیات کے انتظام کی بابت کہنےکے لئے بہت کجھ ہے۔ قرضہ پہ لینے سے متعلق کلام پاک عام طور سے اس کے خلاف نصیحت دیتاہے۔ دیکھیں امثال کی کتاب

27-26، 22:7، 20:16؛ 5-1 :6۔ ("مالدار مسکین پر حکمران ہو تاہے اور قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے۔۔ تو ان میں شامل نہ ہو جو ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اور نہ ان میں جو قرض کے ضامن ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اگر تیرے پاس اداکرنے کو کچھ نہ ہو تو وہ تیرا بستر تیرے نیچے سے کیوں کھینچ لے جائے"؟)۔ بار بارکلام پاک دولت کی جمع خوری کے خلاف تنبیہ کرتاہے اور ہماری حوصلہ افزائی کرتاہے کہ دولت کی جمع خوری کے عوض میں ہم روحانی راستبازی کی تلاش کریں۔ امثال 28:20 : دیانتدار آدمی برکتوں سے معمور ہوگا۔ لیکن جو دولتمند ہونے کے لغے جلدی کرتاہے بے سزا نہ چھوٹے گا"۔ امثال 23:5؛ 18:11؛ 11:4؛ 10:15 بھی دیکھیں۔

امثال 11-6 :6 کاہلیت سے متعلق اور مالی بربادی سے متعلق دانشمندی فراہم کرتا ہے جو ایک ناگزیر طریقہ پیش کرتاہے۔ ہم سے کہا گیا ہے کہ ایک کاہل کو کام کاجی چیونٹی سے سبق سیکھنی چاہئے ۔ اس کی روشوں پر غور کرنی چاہئے اور اسکی دانشمندی سیکھنا ہے کہ کس طرح وہ اپنی خورش جمع کرتی ہے۔ یہ عبارت بھی ہم کو نیند کے غلبہ کے خلاف آگاہ کرتی ہے جبکہ ہم کو کوئی نہ کوئی فائدہ مند کام انجام دیتے رہنا چاہئے۔ ایک "سست" آدمی کاہل گنا جاتاہے۔ ایک سست آدمی کام کرنے کےبجائے ہمیشہ آرام کرنا پسند کرتاہے مگر ایسے شخص کاخاتمہ یقینی ہے۔ یعنی کہ غریبی عسرت اور تنگی۔ عکس کے دوسرے کنارے پر وہ شخص ہے جو پیسہ کمانے کی دھن میں مسلط ہوچکاہے۔ واعظ 5:10 کے مطابق ایسے شخص کے پاس دولت کاانبار ہے پھر بھی وہ آسودہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ لگاتار اور زیادہ اور زیادہ دولت حاصل کرنا چاہتا ہے مگر 1 تموتھیس 11-6 :6 کو دیکھیں کہ یہ عبارت کس طرح دولت کی خواہش کے جال میں گرفتار ہونے کے خلاف خبردار کرتاہے۔

اپنے خود کے اوپردولتمندی کی خواہش کا ذخیرہ لگانے کے بجائے کلام پاک کا نمونہ یہ ہے کہ ایک شخص دینے والا بنے نہ کہ صرف لینے والا۔ اس بات کویاد رکھیں: جو تھوڑابوتاہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اسی قدر دے، نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے، کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتاہے" (2 کرنتھیوں 7-6 :9)۔ اس کے علاوہ خدا نے جو بھی کچھ ہمیں عطا کیاہے اس کے لئے ایک اچھے مختار ہونےکے لئے کلام پاک ہماری حوصلہ افزائی کرتاہے۔ لوقا 13-1 :16 میں یسوع نے ایک کمزور مختاری کے خلاف ایک بے ایمان مختار کی تمثیل پیش کی تاکہ ہم خبردار ہو جائیں۔ اس کہانی کا اخلاقی نصیحت یہ ہےکہ "پس جب تم نا راست دولت میں دیانتدار نہ ٹھہرے تو حقیقی دولت کون تمہارے سپرد کرے گا؟ (آیت 11)۔ اس کے ساتھ ہی ہم اپنے خاندان کی ضرورتیں پوری کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں جس طرح 1 تموتھیس 5:8 ہم کو یاد دلاتاہےکہ "اگر کوئي اپنوں کی اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبر گیری نہ کرے تو وہ شخص ایمان کا منکر اور بے ایمان سے بھی بدتر ہے"۔

مختصر طور پر پیسے کے انتظام کی بات کلام پاک کیا کہتاہے؟ اس کا مختصر جواب ایک واحد لفظ میں خلاصہ کیاجا سکتاہے۔ حکمت ۔ ہم کو اپنے پیسوں کے ساتھ عقلمند ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم کو پیسہ بچانے کی ضرورت ہے۔ مگر ذخیرہ کرنا نہیں ہے۔ ہم کو پیسے خرچ کرنے ہیں مگر دور اندیشی اور جانچ پڑتال کے ساتھاپنے اور اپنے خاندان کی ضرورت کے مطابق۔ اس کے علاوہ خدا نے جس طرح ہم کوعطا کیا ہے اس کا حصہ ہم کو خوشی، شادمانی، زبیحانہ طور سے اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوٹاناہے۔ ہم کو دوسروں کی مدد کرتے ہوئے اس کا استعمال کرناہے مگر بصیرت کے ساتھ اور خدا کے روح کی رہنمائی کے ساتھ۔ دولتمند ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے مگر دولت سے پیار کرنا یہ برا ہے۔ غریب ہونا کوئی برائی نہیں ہے مگر نکمی چیزوں میں پیسوں کو ضائع کرنا غلط بات ہے۔ پیسوں کے انتظام کی بابت کلام پاک کا بااصول پیغام ہے پیسوں کی بابت عقلمند ہونا۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



آپ کے مالیات کی نظام کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟