settings icon
share icon
سوال

شاگرد بنانا کیوں ضروری ہے ؟

جواب


شاگرد بنانا دُعا کا جواب دینےکے لیے ہمارے خداوند کا ایک ذریعہ ہے" اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو"(متی 6باب 9-10آیات)۔ اپنی لامحدود حکمت میں خُداوند یسوع نے دنیا کے تمام لوگوں تک نجات کا پیغام پہنچانے کے لیے مخصوص پیروکاروں یعنی اپنے شاگردوں کو استعمال کرنے کا انتخاب کیا۔ آسمان پر جانے سے پہلے اپنے آخری الفاظ میں اُس نے اُن باتوں کو ایک حکم کے طور پر شامل کیا: "کہ آسمان اور زمین کا کُل اِختیار مجھے دِیا گیا ہے۔ پس تُم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور رُوح القُدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور اُن کو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا مَیں نے تم کو حکم دِیا اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں"(متی 28باب 18-20آیات)۔

شاگرد بنانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے نجات کی خوشخبری پھیلانے کا خُداوند کا منتخب طریقہ ہے۔ عام لوگوں میں اپنی خدمت کے دوران خُداوند یسوع نے اپنے چنے ہوئے بارہ لوگوں- شاگردوں کو تعلیم دینے اوراُنکی تربیت کرنے میں تین سے زیادہ برس صرف کئے ۔ اُس نے اُن کے سامنے بہت سے قائل کرنے والے شواہد پیش کئے کہ وہ خُدا کا بیٹا اور موعودہ مسیحا ہے ؛ وہ اُس پر ایمان لے آئے تاہم یہ ایمان کامل نہ تھا۔ اُس نے لوگوں سے کلام کیا لیکن اپنی تمثیلوں اور معجزات کا مطلب سکھانے کے لیے وہ اپنے شاگردوں سے اکثرپوشیدگی میں باتیں کرتا تھا ۔ اُس نے خدمتی کاموں کے لیے اُنہیں دیگر علاقوں میں بھی بھیجا۔ اُس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ جلد ہی وہ اپنی موت اور جی اٹھنے کے بعد اپنے باپ کے پاس واپس چلا جائے گا (متی 16باب 21آیت ؛ یوحنا 12باب 23-36آیات؛14باب2-4آیات) اگرچہ وہ اُسے سمجھ نہیں سکتے تھےلیکن اُس نے شاگردوں سے یہ حیران کن وعدہ کیا:" مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر اِیمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہُوں وہ بھی کرے گا بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں"(یوحنا 14باب 12آیت)۔ خُداوند یسوع نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ اپنے رُوح القدس کو بھیجے گا کہ ہمیشہ اُن کے ساتھ رہے (یوحنا 14باب 16-17آیات)۔

اورجیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا پنتکُست کے دن رُوح القدس زُور سے ایمانداروں پر نازل ہوا جنہوں نے اُس کے بعد سب کو خوشخبری سنانے کے لیے ہمت پائی تھی ۔ اعمال کی کتاب کا بقیہ حصہ اُن تمام باتوں کا دلچسپ بیان پیش کرتا ہے جو اُن کے وسیلے پوری ہوئی تھیں ۔ ایک شہر میں مخالفین نے کہاکہ" وہ شخص جنہوں نے جہان کو باغی کر دِیا یہاں بھی آئے ہیں"(اعمال 17باب 6آیت)۔ لوگ خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لائے اور وہ بھی شاگرد بن گئے۔ جب جھوٹے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے شاگردوں کو سخت ایذار سانی کا سامنا کرنا پڑا تو وہ دوسرے علاقوں میں منتشر ہو گئے اور مسیح خُداوند کے فرمان کی تعمیل کرتے رہے ۔ تمام رومی سلطنت اور بالآخر دیگر قوموں میں کلیسیائیں قائم کی گئیں۔

بعد میں مارٹن لوتھر جیسے دیگر شاگردوں کے وسیلہ سے یورپ کو اصلاح کاری کے ذریعے خُداوند یسوع مسیح کی انجیل کے لیے تیار کیا گیا۔ آخرکار مسیحیوں نے مسیح خُداوند کی منادی کے لیے نئے علاقوں کی طرف ہجرت کی۔ اگرچہ دنیا بھر میں انجیل کی بشارت پوری طرح نہیں ہوئی لیکن چیلنج اب پہلے کی نسبت قابل عمل لگتا ہے۔ ہمارے خدا وند کا فرمان برقرار ہےکہ " پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو ۔۔۔ یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا مَیں نے تم کو حکم دِیا " ۔ایک شاگرد کی خصوصیات کو عام طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

• وہ جو اپنی نجات کے بارے میں پُر یقین (یوحنا 3باب 16آیت ) اور زندگی میں بسنے والے روح القدس (یوحنا14باب 26-27آیات) کے وسیلہ سے متحرک ہے؛

• وہ جو ہمارے خداوند اور نجات دہندہ کے فضل اور عرفان میں بڑھتا جاتا ہے (2پطرس 3باب 18آیت)؛ اور

• وہ جو مَردوں اور عورتوں کی کھوئی ہوئی رُوحوں کے لیے مسیح کی انجیل بانٹنے کا بوجھ رکھتا ہے۔خُداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ "فصل تو بُہت ہے لیکن مزدُور تھوڑے ہیں۔ پس فصل کے مالِک کی منّت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدُور بھیج دے"(متی 9باب 37-38 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شاگرد بنانا کیوں ضروری ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries