کیا مسیحی عورتوں کو میک اپ کرنا یا زیورات پہننا چاہیے؟



سوال: کیا مسیحی عورتوں کو میک اپ کرنا یا زیورات پہننا چاہیے؟

جواب:
کچھ مسیحی عہدِ جدید کے چند حوالوں کو پیش کرتے ہوئے (جن سے لگتا ہے کہ ایسے کام کرنا منع ہے)یہ ایمان رکھتے ہیں کہ عورتوں کا میک اپ کرنا یا زیورات پہننا غلط ہے۔ اگرچہ ہم یقینی طور پرنئے سرے سے پیدا ہونے والے خُدا کے فرزندوں کی قائلیت کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہماری تعلیمات خُدا کے کلام سے تجاوز نہ کریں۔ ہم"انسانی خیالات کو خُدا کے احکام کے طور پر سکھانا نہیں چاہتے" (مرقس باب 7آیت 7)۔

میک اپ کرنے یا زیورات پہننے کی معقولیت کی جانچ پڑتال کے لئے ، ہم پہلا سموئیل باب 16 آیت 7 سے شروع کرتے ہیں : "کیونکہ خُداوند انسان کی مانند نظر نہیں کرتا اِس لئے کہ انسان ظاہری صُورت کو دیکھتا ہے پر خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے"۔ یہ آیت ہمارے نقطہ نظر کی حد بندیوں کے متعلق ایک بنیادی اصول عائد کرتی ہے: ہم ظاہری صُورت کو فطری طور پر دیکھتے ہیں، خُدا اندرونی سچائی کو دیکھتا ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ظاہری شکل و صورت اہم نہیں ہے، یقیناً ہم بصری اشاروں کے ذریعہ سے دوسروں کے ساتھ آسانی سے گفتگو کرتے ہیں، اور جِس وضع کا ہم اپنے لئے انتخاب کرتے ہیں وہ بغاوت، سعادت مندی ، لاپرواہی، احتیاط وغیرہ کا اظہار کر سکتی ہے۔ لیکن ظاہری شکل وصورت دھوکہ دہی بھی ہو سکتی ہے، اور یہ دِل کا سنگین معاملہ بھی ہے۔ ظاہری شکل وصورت کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے وہ انسان کے دیکھنے کے لئے کِیا جاتا ہے، اور ہمیں اِس کے بارے میں محتاط ہونا چاہیے، لیکن خُدا کا تعلق اُن باتوں کے ساتھ زیادہ ہے جو ہمارے دِل میں ہوتی ہیں۔

عوامی پرستش کے لئے اصولوں کے سیاق و سباق میں پولُس رسول فرماتا ہے، "اِسی طرح عورتیں حیادار لِباس سے شرم اور پرہیز گاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں نہ کہ بال گُوندھنے اور سونے اور موتیوں اور قیمتی پوشاک سے۔ بلکہ نیک کاموں سے جیسا خُدا پرستی کا اقرار کرنے والی عورتوں کو مُناسب ہے" (پہلا تھِمُتھِیُس باب 2 آیات 9 تا 10)۔ یہ اُن حوالہ جات میں سے ایک ہے جِس کی وجہ سے بعض عورتیں میک اپ کرنے یا زیورات پہننے سے اجتناب کرتی ہیں۔

اِس حوالے میں چند باتوں پر غور کریں: پہلی بات، لباس پہننے کا ایک معیار ہونا چاہیے جو عبادت میں عورت کے لئے درُست ہو۔ پولُس خصوصیات بیان نہیں کر رہا بلکہ بتا رہا ہے کہ عورت کا لباس حیادار ، مہذب، اور قابلِ احترام ہونا چاہیے۔ ایسی کوئی بھی چیز پہننا جو بے حیا ، غیر مہذب، اور نا قابلِ احترام ہو غلط ہے۔ حیا اور بے حیائی کے درمیان لکیر کھینچنا انفرادی ہو سکتی ہے، اور شرم وحیا کسی حد تک ثقافتی اقدار پر منحصر ہوتی ہے، لیکن ہر ایماندار کو خلاف ورزی سے بچنے کے لئے کافی سمجھدار ہونا چاہیے۔

دوسری بات، خُدا کی پرستش کرنے والی عورتوں کے ایک مناسب بناؤ سنگار اور ایک غیر مناسب بناؤ سنگار ہے۔ خُدا پرست عورتوں کے لئے مناسب بناؤ سنگار صرف اُن کے نیک اعمال ہیں۔ تبیتا "ہمیشہ نیک کام اور خیرات کرنے" کے وسیلہ سے خوبصورتی سے اپنے آپ کو سنوارتی تھی (اعمال باب 9 آیت 36)۔ خُدا پرست عورتوں کے لئے غیر مناسب بناؤ سنگار وہ سنگار ہے جو اُسے متکبر بناتا ہے یا اُس کی ظاہری شکل و صورت کی طرف توجہ کھینچتا ہے: مثالیں بال گُوندھنا، سونا اور موتی اور قیمتی پوشاک پہنا ہیں۔ عبادت میں توجہ کا مرکز خُدا ہونا چاہیے، نہ کہ جدید فیشن، سب سے بڑا ہیرا، یا سب سے زیادہ وضع دار بالوں کے فیشن۔ چرچ جانے کے لئے 3000 ڈالر کا لباس پہنا، یا بھڑکیلے چمکدار زیورات پہننا خُدا پرست عورتوں کا صیحح طور پر تیار ہونا نہیں ہے۔ اگروہ اُسی لباس کو فروخت کر کے مسیحی خیرات میں پیسہ دے، تو اُس کے لئے کتنا ہی بہتر ہو، اور غریب کی بھی کافی بہتر خدمت ہو جائے۔ بالوں کا فیشن بنانے میں گزرا ہوا ُس کا وقت کسی حاجت مند کی خدمت میں گزارنا شاید زیادہ بہتر ہوتا۔

پہلا تھِمُتھِیُس باب 2 آیات 9 تا 10 میں پولُس خُد اکو خوش کرنے کی کوشش اور آدمیوں کو خوش کرنے کی کوشش کے درمیان موازنہ قائم کرتا ہے۔ عوامی پرستش کی عبادت فیشن شو نہیں ہونی چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ عورت زیورات نہیں پہن سکتی یا اپنے بالوں کے مختلف سٹائل نہیں بنا سکتی۔ بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ چرچ جانے کے لئے اِن کاموں کی بے اعتدالی اور اضافی پن غیر مناسب ہے۔ ہم سب کو تکبر کے خلاف اور دوسروں (یا اپنے آپ) کو نہایت اہم باتوں یعنی خُدا کی پرستش اور دوسروں کی خدمت سے بھٹکانے کے خلاف محتاط ہونا ضروری ہے۔

ایک اور حوالہ جو عورتوں کے میک اپ کرنے یا زیورات پہننے کے مسلہ کو بیان کرتا ہے پہلا پطرس باب 3 آیات 3 تا 5 ہے، "اور تمہارا سنگار ظاہری نہ ہو یعنی سرگوندھنا اور سونے کے زیور اور طرح طرح کے کپڑے پہننا۔ بلکہ تمہاری باطنی اور پوشیدہ انسانیت حِلم اور مزاج کی غُربت کی غیر فانی آرایش سے آراستہ رہے کیونکہ خُدا کے نزدیک اِس کی بڑی قدر ہے۔ اور اگلے زمانہ میں بھی خُدا پر اُمید رکھنے والی مُقدس عورتیں اپنے آپ کو اِسی طرح سنوارتی اور اپنے اپنے شوہر کے تابع رہتی تھیں"۔

پطرس ایک عورت کی بیرونی عارضی خوبصورتی اور اندرونی دیر پا رہنے والی خوبصورتی کے تقابل پر زور دیتا ہے۔ حقیقی طور پر خوبصورت عورت "نیک اور پُرسکون رُوح" رکھتی ہے۔ ہو سکتا ہے دُنیا میں اُس پر زیادہ غور نہ کیا جائے، لیکن خُدا اُس کے دِل کودیکھتا ہے۔ خود غرض زیبایش و آرایش کے لئے خوبصورتی کی طمطراق دِکھانا مسیح کی عاجزی کے مطابق نہیں ہے، خاص طور پر جب یہ خُود نمائی عبادت میں کی جاتی ہے۔ دوبارہ کہتے ہیں، کہ اِس کا مطلب یہ نہیں ہےکہ بال گوندھنا گناہ ہے،بلکہ اِس کا مطلب ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کے لئے اپنے بالوں، اپنے زیورات، یا اپنے کپڑوں پر انحصار کرتے ہیں وہ بطالت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ خُدا ترس کردار کو فروغ دینا زیادہ بہتر ہے۔

خلاصے کے طور پر، زیورات پہننا، میک اپ کرنا، یا بال گوندھنا، ذاتی طور پر غلط نہیں ہے جب تک یہ حیادار انداز میں کیا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ، ایسی چیزیں نیک اعمال یا شکستہ روح کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی۔ مسیحی عورت کو اپنی ظاہری شکل و صورت پر اتنی توجہ نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنی روحانی زندگی کو نظر انداز کرنا شروع کر دے۔ اِسی طرح عبادت میں توجہ خُدا پر ہونی چاہیے نہ کہ خود پر۔ اگر ایک عورت اپنے شکل و صورت پر حد سے زیادہ وقت اور پیسہ خرچ کر رہی ہے، تو مسلہ یہ ہے کہ اُس عورت کی ترجیحات غلط ہیں۔ مہنگے زیورات اور کپڑے اِس مسلہ کے نتائج ہیں نہ کہ خود مسلہ ہیں۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا مسیحی عورتوں کو میک اپ کرنا یا زیورات پہننا چاہیے؟