settings icon
share icon
سوال

کیا ہمیں گناہگار سے محبت اور گناہ سے نفرت کرنی چاہیے؟

جواب


بہت سے مسیحی "گنہگار سے محبت، گناہ سے نفرت" جیسا فقرہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کہاوت بالکل اِنہیں الفاظ میں بائبل کے اندر نہیں پائی جاتی۔ بہرحال یہوداہ 1 باب 22-23 آیات میں بالکل ایسا ہی ایک خیال پیش کیا گیا ہے: "اور بعض لوگوں پر جو شک میں ہیں رَحم کرو۔اور بعض کو جھپٹ کر آگ میں سے نکالو اور بعض پر خوف کھا کر رَحم کرو بلکہ اُس پوشاک سے بھی نفرت کرو جو جسم کے سبب سے داغی ہو گئی ہو۔" اِس آیت کی روشنی میں ہماری منادی یا خدمت کی سب سے نمایاں خصوصیت گناہگار کے لیے تو رحم لیکن گناہ اور اُس کے اثرات کے لیے ایک صحت مند نفرت ہونی چاہیے۔

ہمیں اُن گناہگاروں پر رحم کرنے کی ضرورت ہے جن کے لیے یسوع نے اپنی جان دی تھی، اور ہم نے "اپنے آپ کو بھی گناہوں اور دُنیاداری سے پاک رکھنا ہے" – جس کے اجزاء "خالص اور بے عیب دین داری "پر مشتمل ہیں(یعقوب 1باب 27 آیت)۔ تاہم ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے ہم ناکامل انسان ہیں اور ہمارے اور خُدا کے درمیان محبت کرنے اور نفرت کرنے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ حتیٰ کہ مسیحی ہوتے ہوئے بھی ہم نہ تو کامل طور پر محبت کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز سے کامل طور پر(بغض/عداوت کے بغیر) نفرت کر سکتے ہیں۔ لیکن خُدا یہ دونوں چیزیں ہی کامل طور پر کر سکتا ہےکیونکہ وہ خُدا ہے۔ خُدا بغیر کسی گناہ آلود اِرادے کے نفرت کر سکتا ہے۔ اِس لئے وہ کامل اور مقدس طریقے سے گناہ اور گناہگار سے نفرت کر سکتا ہے اور پھر بھی اُس گناہگار کے توبہ کرنے اور ایمان لانے کی بدولت اُس کو محبت بھری معافی فراہم کرنے کو تیار رہتا ہے(ملاکی1 باب3 آیت؛ مکاشفہ2 باب 6 آیت؛ 2 پطرس 3باب 9 آیت)۔

بائبل واضح طور پر سکھاتی ہے کہ خُدا محبت ہے۔ 1یوحنا 4باب 8-9 آیات فرماتی ہیں، "جو محبت نہیں رکھتا وہ خُدا کو نہیں جانتا کیونکہ خُدا محبت ہے۔ جو محبت خُدا کو ہم سے ہے وہ اِس سے ظاہر ہوئی کہ خُدا نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اُس کے سبب سے زندہ رہیں"۔ یہ بات اہم بھید یا راز ہے لیکن سچ ہے کہ خُدا ایک ہی وقت میں کامل طور پر کسی بھی شخص سے محبت اور نفرت کر سکتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ کسی انسان کو اِس لیے پیار کر سکتا ہے کیونکہ اُس نے اُسے تخلیق کیا ہے اور وہ اُسے نجات دے سکتا ہے، اور وہ کسی شخص کی بے ایمانی اور گناہ آلود طرز زندگی کی وجہ سے اُس سے نفرت بھی کر سکتا ہے۔ نا کامل انسان کے طور پر ہم یہ کام نہیں کر سکتے ، اِس لیے ہمیں خود کو یہ یاد دِلانا ضروری ہوتا ہے کہ "گنہگار سے محبت ، لیکن گناہ سے عداوت کرو"۔

یہ کام کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم اِس بات کو پہچانتے ہوئے کہ گناہ اصل میں ہے کیا ، اِس میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے اور اِسے خُدا کی فطرت کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کرتے ہوئے گناہ اِس نفرت کر سکتے ہیں ۔ اِس حوالے سے کوئی عُذر نہیں ہونا چاہیے یا اِس چیز کو کبھی ہلکا نہیں لیا جانا چاہیے۔ ہم گناہگار کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آ کر (1 پطرس 2 باب 17 آیت)، اُن کے لیے دُعا کر کے (1 تیمتھیس 2 باب1 آیت) اور اُن کے سامنے مسیح یسوع کی گواہی دے کر پیار کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ اگرچہ ہم کسی بھی گناہگار شخص کے گناہ آلود کاموں اور اُس کی گناہ آلود طرزِ زندگی اور انتخابات کی تائید نہیں کرتے لیکن اِن سب کے باوجود ایسے لوگوں کے ساتھ عزت اور مہربانی سے پیش آ کر اُن سے محبت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

کسی شخص کو گناہ میں پھنسے رہنے کی اجازت دینا محبت کرنا نہیں ہے۔ اِسی طرح کسی شخص کویہ بتانا کہ وہ گناہ میں زندگی گزار رہا ہے اُس سے نفرت کرنا نہیں ہے۔ اصل میں اِن کے برعکس جو باتیں ہیں وہ سچ ہیں۔ گناہ موت کی طرف لے کر جاتا ہے (یعقوب 1 باب 15 آیت)، اور جب ہم محبت میں کسی گناہگار کے سامنے سچ بولتے ہیں تو حقیقت میں اُس گناہگار سے محبت کرتے ہیں(افسیوں 4 باب 15 آیت)۔ ہم گناہ سے چشم پوشی کرنے، اِسے نظر انداز کرنے، اور اِس کے عذر کو قبول نہ کرنے کی صورت میں گناہ سے نفرت کرتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ہمیں گناہگار سے محبت اور گناہ سے نفرت کرنی چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries