settings icon
share icon
سوال

اپنے سارے دل، جان، عقل اور طاقت سے خداوند سے محبت رکھنے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب


" سُن اَے اِسرائیلؔ! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔ تُو اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خُداوند اپنے خُدا سے محبّت رکھ"(استثنا 6باب 4-5آیات)۔ یہ حکم شیما کے نام سے جانا جاتا ہے جو عبرانی متن میں پہلے لفظ "سُن" سے ماخوذ ہے۔ دورِ حاضرکے یہودی شیما کی تلاوت شام اور صبح کرنے کو اپنے مقدس ترین فرائض میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ خُداوند یسوع نے اس کا ذکر توریت کے سب سے بڑے حکم کے طور پر کیا ہے (متی 22باب 36-37آیات)۔

ایسا لگتا ہے کہ اس حکم کی پیروی کرنا ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطری حالت میں یہ ناممکن ہے۔ خدا کی شریعت کی پیروی کرنے میں انسان کی بے بسی کا اس حکم سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ گناہ آلود فطرت کا حامل کوئی بھی انسان تمام 24گھنٹے خدا سے اپنے سارے دل، جان اور طاقت سے محبت نہیں رکھ سکتا۔ انسانی لحاظ سے یہ ناممکن ہے۔ لیکن خدا کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کرنا گناہ ہے۔ لہذا حتیٰ کہ اُن سب گناہوں پر غور کیے بغیر جو ہم ہر روز کرتے ہیں اِس ایک حکم کی پیروی کرنے میں ہماری بے بسی کے باعث ہم سب سزا کے لائق ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خُداوند یسوع نے فریسیوں کو خدا کی شریعت کی پیروی کرنے میں ان کی نااہلی کی مسلسل یاد دہانی کرائی۔ وہ انہیں اُن کے مکمل رُوحانی دیوالیہ پن اوراُنکی ایک نجات دہندہ کی ضرورت کو اُن پر عیاں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ گناہ سے اُس پاکیزگی کے بغیر جوخُداوند یسوع فراہم کرتا ہے اور رُوح القدس کی قوت بخش موجودگی کے بغیر جو نجات پانے والوں کے دلوں میں بستا ہے خدا سے کسی بھی حد تک محبت رکھنا ناممکن ہے۔

لیکن بحیثیت مسیحی ہمیں گناہ سے پاک کیا گیا ہے اور رُو ح القدس ہماری زندگی میں بسا ہوا ہے۔چنانچہ ہم خدا سے اُس طور سے محبت رکھنا کیسے شروع کریں جیسے ہمیں رکھنی چاہیے ؟ جس طرح مرقس 9باب 24آیت میں بیان کردہ آدمی نے خُدا وند سے اپنی بے اعتقاد ی کا علاج کرنے کی التجا کی تھی اِسی طرح ہم بھی خُدا سے زندگی کے اُن معاملات میں مدد کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں جہاں ہم اُس کے ساتھ اپنے سارے دل، جان، عقل اور طاقت سے محبت نہیں رکھتے۔ اس ناممکن کام کو کرنے کےلیے ہمیں اُس کی قوت کی ضرورت ہے اور ہم اُس قوت کی تلاش کرنے او ر اُسے اپنانے کے وسیلہ سے آغاز کر سکتے ہیں۔

متعدد معاملات میں خدا کے لیے ہماری محبت اور جذبہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔ یقیناًنئے نجات یافتہ مسیحی نوجوان اپنے لیے خُدا کی محبت اور خُدا کے لیے اپنی محبت سے بہت زیادہ واقف ہوتے ہیں ۔ لیکن جدوجہد اور مشکل ایام کے دوران خدا کی وفاداری کی گواہی سے ہی خدا کے لئے محبت گہری سے گہری ہوتی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم اپنے لیے اُس کی شفقت، رحم، فضل اور محبت کے ساتھ ساتھ گناہ کے لیے اُس کی نفرت، اُس کی پاکیزگی، اور اُس کی راستبازی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھ سکتے جسے ہم نہیں جانتے، اس لیے اُسے جاننا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایسے لوگ جو خدا اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرتے ہیں ،جو سب سے بڑھ کر اُس سے محبت کرنے کے حکم کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں جو خدا کی باتوں میں مگن رہتے ہیں۔ وہ خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے ، دعا کرنے ،ہر بات میں خُدا کی فرمانبرداری اور عزت کرنے اور خُداوند یسوع مسیح کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ خدا کے لئے ہماری محبت اِن رُوحانی اُصولوں کے ذریعہ سے ہی نشوونما پاتی اور اُس کے جلال کے لئے پختہ ہوتی جاتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اپنے سارے دل، جان، عقل اور طاقت سے خداوند سے محبت رکھنے کا کیا مطلب ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries