settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


خدا وند ی ِ نجات کا عقیدہ سکھاتا ہے کہ مسیح کو خُداوند کے طور پر تسلیم کرنا اور مسیح پر نجات دہندہ کے طور پر اعتقاد رکھنا دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ خدا وند ی ِ نجات اِس عقیدے کے بالکل برعکس ہے جسے بعض اوقات Easy believism ) آسان ایمان کا نظریہ ) قرار دیا جاتا ہے یا اِس تعلیم کے خلاف ہے کہ نجات حقائق کے ایک مخصوص مجموعے کو تسلیم کرنے کے وسیلے حاصل ہوتی ہے۔

خدا وند ی ِ نجات کے معاملہ کو اُجاگر کرنے والی جان میک آرتھر کی کتاب The Gospel Accord to Jesus (انجیل بمطابق یسوع ) اس تعلیم کا کچھ یوں خلاصہ کرتی ہے: "ایمان کے لیے انجیل کی دعوت اس بات کو لازمی قرار دیتی ہے کہ گنہگاروں کے لیے اپنے گناہ سے توبہ کرنا اور مسیح کے اختیار کے تابع ہونا ضروری ہے ۔" دوسرے الفاظ میں ایک گنہگار جو توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے نجات نہیں پاتاکیونکہ وہ اپنے گناہ اور نجات دہندہ کو بیک وقت تھامے نہیں رکھ رہ سکتا۔ اور وہ گنہگار جو اپنی زندگی میں مسیح کے اختیار کو رَد کرتا ہے اُس کے پاس نجات بخش ایمان نہیں کیونکہ حقیقی ایمان خُدا کے تابع ہوجانے پر مشتمل ہے۔ لہذا انجیل کی خوشخبری محض ایک فکری فیصلہ لینے یا دعا کرنے سے زیادہ کا تقاضا کرتی ہے؛ انجیل کا پیغام شاگردیت کی بلاہٹ ہے۔ بھیڑیں فرمانبرداری میں اپنے چرواہے کی پیروی کریں گی۔

خدا وند ی ِ نجات کے عقیدے کے حامی یسوع کی اپنے زمانے کے مذہبی ریاکاروں کو بار بار کی گئی تنبیہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ محض رُوحانی حقائق سے اتفاق کرنے سے کسی شخص کو بچایا نہیں جا سکتا۔ اِس کے لیے دِل کی تبدیلی بہت زیادہ ضروری ہے۔ یسوع نے شاگردیت کی بڑی قیمت پر زور دیاہے : "جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرےپیچھے نہ آئے وہ میرا شاگِرد نہیں ہو سکتا"(لوقا 14باب 27آیت) اور "تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ ترک نہ کرے وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا"(33آیت)۔ اِسی حوالے میں یسوع شا گردیت کی قیمت کا تخمینہ لگانے کی بات کرتا ہے؛ جبکہ دوسرے حوالے میں وہ پوری وفاداری پر زور دیتا ہے:"جو کوئی اپنا ہاتھ ہَل پر رکھ کر پیچھے دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائِق نہیں"(لوقا 9باب 62آیت)۔

یسوع پہاڑی وعظ میں فرماتا ہے کہ ابدی زندگی ایک تنگ راستہ ہے جس پر چلنے والے" تھوڑے '' (متی 7باب 14آیت) ہیں؛ اس کے برعکس آسان ایمان کا نظریہ اس راستے کو کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ایمان کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی شخص اِس میں داخل ہو سکے۔ یسوع فرماتا ہے کہ "ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے" (آیت 17)؛ اس کے برعکس آسان ایمان کے نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک درخت کوئی پھل نہیں لاتا یا کچھ بُرا پھل لاتا ہے تو بھی وہ درخت اچھا ہو سکتا ہے۔ یسوع فرماتا ہے کہ بہت سے لوگ جو "اَے خداوند اَے خداوند" کہتے ہیں خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوں گے (21-23آیات)؛ اس کے برعکس آسان ایمان کا نظریہ سکھاتا ہے کہ "خداوند خداوند " کہنا ہی کافی ہے۔

خدا وند ی ِ نجات کا عقیدہ سکھاتا ہے کہ ایمان کے سچے دعوے کو ایمان کے شواہد کی پشت پناہی حاصل ہوگی۔ اگر کوئی شخص واقعی خداوند کی پیروی کر رہا ہےتو وہ خدا وندکے احکامات پر عمل کرے گا۔ ایسا شخص جو جان بوجھ کر توبہ کے بغیر گناہ میں زندگی بسر کر رہا ہے اُس نے یقیناً مسیح کی پیروی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ مسیح ہمیں گناہ سے نکل کر راستبازی میں آنے کی دعوت دیتا ہے ۔بلاشبہ بائبل واضح طور پر سکھاتی ہے کہ مسیح پر ایمان ایک تبدیل شدہ زندگی کا باعث ہو گا (2کرنتھیوں 5باب 17آیت؛ گلتیوں 5باب 22-23آیات؛ یعقوب 2باب 14-26آیات)۔

خدا وند یِ نجات کا عقیدہ کاموں کے وسیلہ سے نجات کا عقیدہ نہیں ہے۔ خدا وند یِ نجات کے عقیدے کے حامی یہ بیان کرنے میں بڑے محتاط ہیں کہ نجات صرف فضل ہی سے ہے، اور یہ بھی کہ ایماندار کسی بھی طرح کے اچھے کام سرانجام دینے سے پہلے ہی نجات یافتہ قرار پاتے ہیں ، مزید برآں یہ بھی کہ مسیحی گناہ کر سکتے اور کر تے ہیں۔ تاہم حقیقی نجات لازماً ایک تبدیل شدہ زندگی کی طرف رہنمائی کرے گی۔ نجات یافتہ لوگ اپنے نجات دہندہ کےلیے وقف رہیں گے۔ ایک سچا مسیحی اپنی زندگی میں غیر اعتراف شُدہ یا غیر ترک شُدہ گناہوں کی موجودگی کی بدولت راحت محسوس نہیں کرے گا۔

یہاں نو تعلیمات ہیں جو خداوند ی ِ نجات کے عقیدے کو آسان ایمان کے نظریے سے جُدا کرتی ہیں:

1. توبہ ایمان کے لیے محض کوئی مترادف لفظ نہیں ہے۔ کلامِ مقدس سکھاتا ہے کہ گنہگاروں کو توبہ کے تعلق سے ایمان کو بروئے کار لانا چاہیے (اعمال 2باب 38آیت؛ 17باب 30آیت ؛ 20باب 21آیت؛ 2پطرس 3باب 9آیت)۔ توبہ گناہ کو قبول کرنے اور مسیح کو رَد کرنے جیسے رویے سے بدل کر گناہ کو رَد کرنے اور مسیح کو قبول کرنے جیسی ذہنی تبدیلی ہے( اعمال 3باب 19آیت؛ لوقا 24باب 47آیت) اور یہاں تک کہ یہ خدا کی بخشش ہے (2 تیمتھیس 2باب 25آیت )۔ حقیقی توبہ جو کسی شخص کے مسیح کے اختیارکے تابع ہو جانے پر واقع ہوتی ہے اُس کے نتیجے میں رویے میں تبدیلی لازمی آتی ہے۔ (لوقا 3باب 8آیت؛ اعمال 26باب 18-20آیات)۔

2. ایک مسیحی ایک نیا مخلوق ہے اور وہ محض "ایمان رکھنے" سے باز آکر نجات سے محروم نہیں ہو سکتا۔ ایمان بذات خود خدا کی بخشش ہے (افسیوں 2باب 1-5، 8آیات)، اور حقیقی ایمان ہمیشہ قائم رہتا ہے (فلپیوں1باب 6آیت)۔ نجات مکمل طور پر خدا کا کام ہےنہ کہ انسان کا ۔ جو لوگ مسیح کو خداوند مان کر اُس پر ایمان لاتے ہیں وہ اپنی کسی ذاتی کوشش کے بغیر ہی نجات پاتے ہیں (ططس 3باب 5آیت)۔

3. ایمان کا مرکزی نقطہ مسیح بذات ِخود ہےکوئی وعدہ، دعا یا عقیدہ نہیں (یوحنا3باب 16آیت)۔ ایمان میں مسیح کے لیے شخصی وفاداری کا شامل ہونا ضروری ہے (2 کرنتھیوں 5باب 15آیت)۔ یہ انجیل کی سچائی سےقائل ہونے سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ دنیا سے دستبردار ہونا اور خداوند کی پیروی کرنا ہے۔ خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ "میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پیچھےپیچھے چلتی ہیں"(یوحنا 10باب 27آیت)۔

4. سچا ایمان ہمیشہ تبدیل شدہ زندگی کو جنم دیتا ہے (2 کرنتھیوں5باب 17آیت)۔ رُوح القدس کے وسیلہ سے باطنی انسانیت تبدیل ہوتی جاتی ہے (گلتیوں 2باب 20آیت)اور مسیحی ایک نئی فطرت کو حاصل کرتا ہے (رومیوں 6باب 6آیت)۔ وہ لوگ جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں - جومسیح کے اختیار کے تابع ہیں - وہ یسوع کی پیروی کرتے (یوحنا 10باب 27آیت)، ساتھی ایمانداروں سے محبت رکھتے (1یوحنا 3باب 14آیت)، خدا کے احکام کی پیروی کرتے (1یوحنا 2باب 3آیت؛ یوحنا 15باب 14آیت) خدا کی مرضی پوری کرتے (متی 12باب 50 آیت)، خدا کے کلام پر قائم رہتے ( یوحنا 8باب 31آیت)، خدا کے کلام پر عمل کرتے (یوحنا 17باب 6آیت)، اچھے کام کرتے (افسیوں 2باب 10آیت) اور ایمان میں بڑھتے جاتے ہیں ( کلسیوں 1باب 21-23آیات؛ عبرانیوں 3باب 14آیت)۔ نجات دیگر بتوں کے ساتھ یسوع کو اپنے بت خانے میں شامل کرنا نہیں ہے؛یہ یسوع کی بالا دستی کے ساتھ بتوں کی مکمل تباہی ہے ۔

5. خُدا کی " اِلٰہی قُدرت نے وہ سب چیزیں جو زِندگی اور دِین داری سے مُتعلِّق ہیں ہمیں اُس کی پہچان کے وسیلہ سے عنایت کیں" (2 پطرس 1باب 3آیت ؛بالموازنہ رومیوں 8باب 32آیت)۔ لہذا نجات محض فردوس کا ٹکٹ نہیں ہے۔ یہ وہ ذریعہ ہے جس کے وسیلے ہم اس زمینی زندگی میں (عملی طور پر) پاک کئے جاتے ہیں اور جس کے وسیلے ہم فضل میں بڑھتے جاتے ہیں۔

6. کلامِ مقدس سکھاتا ہے کہ یسوع سب کا خداوند ہے۔ مسیح غیر مشروط طور پر اپنی مرضی کے تابع ہو جانے کا مطالبہ کرتا ہے (رومیوں 6باب 17-18آیات؛ 10باب 9-10آیات)۔ وہ لوگ جو خُدا کی مرضی کے خلاف سرکشی میں زندگی بسر کرتے ہیں اُن کے پاس ابدی زندگی نہیں کیونکہ وہ " مغرُوروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو تَوفیق بخشتا ہے"(یعقوب 4باب 6آیت)۔

7. جو لوگ مسیح پر سچا ایمان رکھتے ہیں اُس سے محبت کریں گے (1 پطرس 1باب 8-9آیات؛ رومیوں 8باب 28-30آیات؛1کرنتھیوں 16باب 22آیت)۔ اور جن سے ہم محبت رکھتے ہیں اُنہیں ہم خوش کرنا چاہتے ہیں (یوحنا 14باب 15، 23آیت)۔

8. کلامِ مقدس سکھاتا ہے کہ رویہ ایمان کی ایک اہم پرکھ ہے۔ فرمانبرداری اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی شخص کا ایمان حقیقی ہے یا نہیں (1 یوحنا 2باب 3آیت)۔ اگر کوئی شخص مسیح کی فرمانبردار ی کرنے کو تیار نہیں تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اُس کا "ایمان" محض نام ہی کاہے (1یوحنا 2باب 4آیت)۔ کوئی شخص یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے کا دعویٰ اور کچھ وقت کے لئے فرمانبرداری کرنے کا دکھاوا کر سکتا ہے لیکن اگر اُس میں کوئی دِلی تبدیلی نہیں آتی ہے تو اُس کی اصل فطرت بالآخر خود بخود عیاں ہو جاتی ہے۔ یہوداہ اسکریوتی کا معاملہ ایسا ہی تھا۔

9. حقیقی ایماندار ٹھوکر کھا سکتے اور گراوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں گے (1 کرنتھیوں 1باب 8آیت)۔ شمعون پطرس کے معاملہ میں ایسا ہی ہوا تھا ۔ ایک ایسا "ایماندار" جو خُداوند سے پوری طرح منہ موڑ لیتا اور کبھی واپس نہیں آتا ، صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ کبھی نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا تھا (1 یوحنا 2باب 19آیت)۔ یہوداہ اسکریوتی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا تھا (دیکھیں یوحنا 6باب 70آیت)۔

وہ شخص جو مسیح پر ایمان کے وسیلے گناہ سے نجات پا چکا ہے اُسے گناہ آلودہ زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں کرنی چاہیے (رومیوں 6باب 2آیت)۔ بلاشبہ رُوحانی ترقی کسی شخص اور اس کے حالات پر منحصر ہونے کے باعث جلد یا بدیر رونما ہو سکتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ شروع میں تبدیلی ہر کسی پر ظاہر نہ ہوں ۔ بالآخر خدا جانتا ہے کہ اُس کی بھیڑیں کون کون سی ہیں اور وہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے کامل وقت کے مطابق بالغ کرے گا۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیحی گناہ کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی بھر دنیا وی زندگی بسر کرے اور کبھی بھی اُس خُداوند کے نام کو جلال دینے کی کوشش نہ کرے جس نے اُسے اپنے خون سے خریداہے ؟ کیا کوئی گنہگار مسیح کی خداوند ی کو رد کر نے کے باوجود یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اُس کا نجات دہندہ ہے ؟ کیا کوئی شخص "گنہگار کی دعا" مانگنے کے باوجود ایسی زندگی بسر کر سکتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو "مسیحی" کہے ؟ خداوندیِ نجات کا عقید ہ کہتا ہے "نہیں"۔ آئیں ، ہم نام نہاد گنہگاروں کو جھوٹی امید نہ دیں۔ بلکہ آئیں ہم خُدا کی پوری مرضی کا اعلان کریں: "تمہیں نئے سِرے سے پَیدا ہونا ضرور ہے" (یوحنا 3باب 7آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries