کیا ہمیں خاص جدوجہد کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے یا پھر یہ انتظار کرنا چاہیے کہ خُدا خود کوئی انتظام کرے گا؟


سوال: کیا ہمیں خاص جدوجہد کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے یا پھر یہ انتظار کرنا چاہیے کہ خُدا خود کوئی انتظام کرے گا؟

جواب:
ان دونوں سوالات کا جواب "ہاں" ہے۔ تاہم اِن سوالات کے درمیان ا ہم توازن کا پایا جانا ضروری ہے۔ چونکہ اِن دونوں سوالات کا جواب ہاں ہے تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب ہمیں دیوانہ وار اپنے شریک ِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے، اور اِس کام میں ایسے لگ جانا چاہیے گویا اِس کا انحصار صرف ہماری اپنی کاوشوں پرہی ہے۔ اور نہ ہی ہمیں یہ سوچتے ہوئے غیر متحرک ہونا ہےکہ خُدا خود ہی ایک دِن ہمارے شریکِ حیات کو ہمارے دروازے پر لا کھڑا کرے گا، جو ہمارے لیے دروازے کو کھٹکھٹائے گا، اُس نے ہاتھ میں انگوٹھی پہن رکھی ہوگی اور وہ ہمارے ساتھ نکاح پڑھوانے کے لیے تیار ہوگا۔

جس وقت اضحاق کی شادی کا وقت آیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اُس کو سرانجام دینے کے لیے کچھ لوگ متحرک ہوئے (اُس دور کے رسم و رواج کے مطابق اضحاق کے باپ نے اُسکی شادی کا انتظام کیا۔)ابرہام نے اپنے ایک نوکر کو بھیجا کہ وہ خصوصی کاوش سے اُس کے بیٹے اضحاق کے لیے ایک دُلہن ڈھونڈ کر لائے (پیدایش 24 باب)۔ وہ خادم کچھ خاص خصوصیات کی حامل لڑکی کو تلاش کر رہا تھا اور اُس نے اپنی تلاش کے عمل میں دُعا کو ہمیشہ ہی پیشِ نظر رکھا (12-14آیات)۔ خُدا نے اُس نوکر کی دُعاؤں کا جواب دیا اور یوں اضحاق اور ربقہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے (67آیت)۔

بحیثیت مسیحی جب ہم ایک بار یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہماری زندگی کے ایک خاص مقام پر ہمارے لیے شریکِ حیات کی تلاش کرنے کا وقت ہے تو ہمیں دُعا کے ساتھ اِس عمل کا آغاز کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کےحوالے سے خود کو خُدا کی مرضی کے تابع کریں ۔ "خُداوند میں مسرُور رہ اور وہ تیرے دِل کی مرادیں پُوری کرے گا"(37 زبور 4آیت)۔ خُداوند میں مسرُور رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُسے جاننے میں خوشی محسوس کریں اور اُس پر اعتماد رکھیں کہ وہ بدلے میں ہمیں مزید خوشی بخشے گا ۔ وہ اپنی مرضی کو ہمارے دِلوں میں ڈالے گا اور شریکِ حیات کی تلاش کے پسِ منظر میں اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسے شریکِ حیات کی خواہش کریں جیساخُدا ہمارے لئے چاہتا ہے کیونکہ جسے خدا جانتا اور ہماری زندگی میں لاتا ہے ایسا شخص ہمارے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہوگا ۔ امثال 3 باب 6 آیت بیان کرتی ہے"اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری رہنمائی کرے گا"۔ شریکِ حیات کی تلاش میں خُدا کو پہچاننے کا مطلب ا ُس کی حاکمانہ مرضی کے تابع ہونا اور اُسے یہ بتانا ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے گا وہی سب سے بہترفیصلہ ہے اور آپ اُسے قبول کریں گے۔

اپنے آپ کو خُدا کی مرضی کے تابع کرنے کے بعد ہمیں خُدا پرست شوہر یا بیوی کی خصوصیات کے بارے میں پوری طرح واضح ہونا چاہیے اور کسی ایسے شخص کی تلاش کرتے رہنا چاہیے جو اِس رُوحانی معیار پر پُورا اُترتا ہو۔ سب سے پہلے تو اِن خصوصیات کی واضح سمجھ حاصل کرنا ضروری ہے اور اِس کے بعد کسی ایسے شخص کی تلاش کی جانی چاہیے جو اِن خصوصیات پر پورا اُترے۔ کسی کی "محبت میں مبتلا " ہونا اور پھر اِس بات سے آگا ہ ہونا کہ وہ شخص رُوحانی طور پر ساتھی بننے کا اہل نہیں دردِ دِل کو دعوت دینے اور اپنے آپ کو ایک کٹھن صورتحال میں ڈالنے کا باعث ہوتا ہے ۔

ایک بار جب ہم جان جاتے ہیں کہ بائبل فرماتی ہے کہ ہمیں اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے تو ہم یہ سمجھتے ہوئے گرمجوشی سے شریکِ حیات کی تلاش شروع کر سکتے ہیں کہ خُدا اُسے ہماری زندگی میں ضرور لائے گا کیونکہ ہم اُس کی کامل مرضی اور مناسب وقت کے مطابق تلاش کر رہے ہیں ۔ اگر ہم دُعا کرتے ہیں تو خُدا ہمیں اُس شخص تک پہنچا دے گا جسے اُس نے ہمارے لئے چُناہے۔ اگر ہم اُس کے مقرر کردہ وقت کا انتظار کرتے ہیں تو خدا اُس شخص کو ہمیں مہیا کر دے گا جو ہمارے پسِ منظر، شخصیت اور خواہشات کے لحاظ سے موزوں ہے۔ ہمیں خدا اور اُس کے وقت پر بھروسہ کرنا چاہیے (امثال 3 باب 5آیت)

کچھ لوگ 1کرنتھیوں7 باب میں سے ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس سے ایسا لگتا ہے کہ ہمیں شریکِ حیات کی تلاش کبھی نہیں کرنی چاہیے ۔ 27آیت کہتی ہے " اگر تیرے بیوی نہیں تو بیوی کی تلاش نہ کر"۔ لفظی طور پر دیکھیں تو یہ بہت سیدھی سادھی بات معلوم ہوتی ہے مگر اِس آیت کا سیاق و سباق بہت سی اور معلومات فراہم کرتا ہے ۔ پولس رسول 26آیت میں کہتا ہے "پس موجودہ مصیبت کے خیال سے میری رائے میں آدمی کےلیے بہتر ہے کہ جیسا ہے ویسا ہی رہے "۔ ابتدائی کلیسیا کے دور میں کلیسیا کے لیے ایذارسانی کے حالات کے پیشِ نظرپولس رسول اصل میں کہہ رہا تھا کہ وہ شادی جیسے بڑے منصوبوں کو ترتیب نہ دیں کیونکہ فی الحا ل اُن کےلیےیہی بہتر ہے ۔ ایذارسانی کا وقت ایک شادی شدہ جوڑے کےلیے زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے اور اگر اُس شادی شُدہ جوڑے کے بچّے بھی ہوں تو حالات اور زیادہ بدتر ہوسکتے ہیں۔ پولس رسول یہ خیال 28 آیت کے دوسرے حصے میں بیان کرتا ہے " مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پائیں گے اور مَیں تمہیں بچانا چاہتا ہوں "۔ پولس رسول اسیِ پسِ منظر میں مزید کہتا ہے " اگر تُو بیاہ کرے بھی تو گناہ نہیں "۔ لہذا شادی کے لیے جیون ساتھی کی تلاش کرنا غلط بات نہیں ۔

یقیناً اگرکسی شخص کےلیے خدا کی یہی مرضی ہو کہ وہ شادی نہ کرے تو اِس صورت میں شریکِ حیات کی تلاش کرنا مناسب بھی نہیں ۔ بعض اوقات خدا لوگوں کو بالکل بھی شادی نہ کرنے کے لیے کہتا ہے یہ وہ لوگ ہیں " جنہوں نے آسمان کی بادشاہی کےلیے اپنے آپ کو " شادی سے بازرکھا ہوا ہے ۔ یسوع فرماتا ہے " جو قبول کر سکتا ہے وہ قبول کرے " (متی19باب 12آیت )۔ ایسے حالات میں خدا واضح کر دیتا ہے کہ اُس کی مرضی یہی ہے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا ہمیں خاص جدوجہد کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے یا پھر یہ انتظار کرنا چاہیے کہ خُدا خود کوئی انتظام کرے گا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں