کیا ہمیں سرگرمی کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے، یا انتظار کرنا چاہیے کہ خُدا ہمارے شریکِ حیات کو ہمارے پاس لائے گا؟


سوال: کیا ہمیں سرگرمی کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے، یا انتظار کرنا چاہیے کہ خُدا ہمارے شریکِ حیات کو ہمارے پاس لائے گا؟

جواب:
دونوں سوالوں کا جواب "ہاں" ہے۔ دونوں کے درمیان ایک اہم توازن پایا جاتا ہے۔ ہمیں شریک حیات کی تلاش خوف و فکر کے ساتھ نہیں کرنی، جیسا کہ اِس کا انحصار صرف ہماری اپنی کاوشوں پر ہے۔ اور نہ ہی ہمیں یہ سوچتے ہوئے غیر متحرک ہونا ہےکہ خُدا خود ہی ایک دِن ہمارے شریکِ حیات کو ہمارے دروازے پر پہنچا دے گا۔ مسیحیوں کے طور پر، ایک بار جب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ وقت شریکِ حیات کی تلاش شروع کرنے کا ہے، تو ہمیں اِس عمل کو دُعا کے ساتھ شروع کرنا چاہیے۔ اپنی زندگیوں کے لئے اپنے آپ کو خُدا کی مرضی کے تابع کرنا پہلا قدم ہے۔ "خُداوند میں مسرُور رہ اور وہ تیرے دِل کی مرادیں پُوری کرے گا"(زبور 37 آیت 4)۔ خُداوند میں مسرُور رہنے کا مطلب ہے کہ ہم اُسے جاننے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور اُس پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ بدلے میں ہمیں مزید خوش کرے گا۔ وہ اپنی خواہشات ہمارے دِلوں میں ڈالے گا، اور شریکِ حیات کی تلاش کے تناظر میں، اِس کا مطلب ہے کہ ہم خواہش کریں کہ ہمیں کِس قسم کا شریکِ حیات چاہیے، جیسے وہ ہمارے لئے چاہتا کرتا ہے اور جو جانتا ہے وہ ہمیں مزید خوش کرے گا۔ امثال باب 3 آیت 6 بیان کرتی ہے، "اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری رہمنائی کرے گا"۔ شریکِ حیات کی تلاش میں اُس کو پہچاننے کا مطلب اُس کی حاکمانہ مرضی کے تابع ہونا اور اُسے بتانا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے وہ بہترین فیصلہ ہے ، اور آپ اُسے قبول کریں گے۔

اپنے آپ کو خُدا کی مرضی کے تابع کرنے کے بعد ، ہمیں خُدا پرست شوہر یا بیوی کی خصوصیات پر واضح ہونا چاہیے اور کسی ایسے شخص کی تلاش کرنا چاہیے جو روحانی سطح کی قابلیت پر پُورا اُترتا ہو۔ یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے اِن خصوصیات کی واضح تفہیم ہو، پھر کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اِن خصوصیات پر پورا اُترے۔ کسی کی "محبت میں گرفتار" ہونا اور پھر دریافت کرنا کہ وہ ساتھی بننے کے لئے روحانی طور پر اہل نہیں ہے دِل کے درد کو دعوت دینا اور اپنے آپ کو بہت مشکل حالت میں ڈالنا ہے۔

ایک بار جب ہم جان جاتے ہیں کہ بائبل فرماتی ہے کہ ہمیں اپنے لئے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے، تو ہم یہ سمجھتے ہوئے گرمجوشی کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش شروع کر سکتے ہیں کہ جب ہم تلاش کے عمل میں ہیں، تو خُدا اپنی کامل مرضی اور مناسب وقت پر اُسے ہماری زندگیوں میں ضرور لائے گا۔ اگر ہم دُعا کرتے ہیں، تو خُدا ہمیں اُس شخص تک پہنچا دے گا جِسے وہ ہمارے لئے چُنتا ہے۔ اگر ہم اُس کے مقرر کردہ وقت کا انتظار کرتے ہیں، ہمیں وہ شخص مہیا کر دیا جائے گا جو ہمارے پسِ منظر، شخصیت، اور خواہشات کے مطابق موزوں ہے۔ ہمیں اُس پر اور اُس کے وقت پر بھروسہ کرنا ہے (امثال باب 3 آیت 5)، یہاں تک کہ جب وہ وقت ہمارا وقت نہ ہو تب بھی بھروسہ کرنا ہے۔ بعض اوقات خُدا لوگوں کو شادی نہ کرنے کے لئے بُلاتا ہے (1 کرنتھیوں باب 7)، لیکن ایسے حالات میں، وہ شادی کی خواہش کو ختم کرتے ہوئے اِس بات کو واضح کرتا ہے۔ خُدا کا وقت کامل ہے اور ہم ایمان اور صبر کے ساتھ اُس کے وعدوں کو حاصل کریں گے (عبرانیوں باب 6 آیت 12)۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
کیا ہمیں سرگرمی کے ساتھ اپنے شریکِ حیات کی تلاش کرنی چاہیے، یا انتظار کرنا چاہیے کہ خُدا ہمارے شریکِ حیات کو ہمارے پاس لائے گا؟