settings icon
share icon
سوال

پیدایش کی کتاب میں بیان کردہ لوگ اتنے زیادہ برسوں تک کیونکر جیتے رہے؟

جواب


یہ بات کسی حدتک ایک بھید ہی ہے کہ پیدایش کی کتاب کے ابتدائی ابواب میں بیان کردہ لوگوں نے کیسے اتنی زیادہ لمبی عمریں پائیں اور اتنے زیادہ برسوں تک جیتے رہے۔ اِس بارے میں بائبل کے عالمین کی طرف سے بہت سے مفروضا ت پیش کئے گئے ہیں ۔ پیدایش 5باب سیت کی راستباز نسل کا نسب نامہ بیان کرتا ہے – یہ وہ نسل تھی جس سے بالآخر مسیحا نے آنا تھا۔ شاید خدا نے ان کی راستبازی اور فرمانبرداری کے باعث اِس نسل کو خاص لمبی عمر کی برکت سے نوازا تھا۔ اگرچہ یہ ممکنہ وضاحت ہو سکتی ہے لیکن بائبل پیدایش 5باب میں درج لوگوں کی زندگی کے لمبے عرصے کو کہیں بھی کسی خاص فرد یا خاندان سے منسوب نہیں کرتی ۔ مزید یہ ہے کہ پیدایش 5باب حنوک کے علاوہ کسی اور شخص کے خا ص راستباز ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ امکان ہے کہ اِس دور میں ہر شخص کئی سو سال زندہ رہا تھا ۔ اور پھر ہو سکتا ہے کہ متعد د عناصر نے اِس تبدیلی میں حصہ ڈالا ہو۔

طوفان کے موقع پر ایسا کچھ ہو ا جس نے انسانو ں کی زندگی کے دورانیے کو کم کر دیا تھا ۔ طوفان ِ نوح سے پہلے ( پیدایش 5باب 1- 32آیات ) اور طوفان نوح کے بعد ( پیدایش 11باب 10- 32آیات) کے لوگو ں کی زندگی کے دورانیے کا موازنہ کریں ۔ طوفا ن ِ نوح کے فوراً بعد انسان کی زندگی کا دورانیہ ڈرامائی انداز میں کم ہو گیا اور پھر لگا تارکم ہی ہو تا گیا ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی اہم وجہ پیدایش 6باب 3آیت میں ہو: " تب خداوند نےکہا کہ میری رُوح انسان کے ساتھ ہمیشہ مُزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تو بھی اُس کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوگی" ۔ بہت سے لوگ " ایک سو بیس برس" کے حوالہ کو خدا وند کی طرف سے انسانی عمر پر عائد کردہ نئی حد کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ بہرحال موسیٰ (جو ایک بیس برس تک جیتا رہا )کے زمانہ تک تو زندگی کا دورانیہ بہت کم ہو چکا تھا ۔ تاہم ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ موسیٰ کے زمانہ کے بعد بھی کوئی شخص ایک سو بیس برس تک جیتا تھا۔

اس سوال " پیدایش کی کتاب میں بیان کردہ لوگ اتنے زیادہ برسوں تک کیونکر جیتے رہے " کے بارے میں ایک مفروضہ"پانی کے شامیانہ" کے تعلق سے بھی ہے جو زمین کے گردفضا کے اندر اوزون کی صورت میں اِس زمین کو گھیرے ہوئے تھا ۔ پانی کے شامیانے کے مفروضے کے مطابق " فضا کے اُوپر" کا پانی ( پیدایش 1باب 7آیت) ہریاول گھر یعنی گرین ہاؤس کے اثر کو پیدا کرتا تھا اورسورج کی زیادہ ترخطرناک شعاعوں کو روک دیتا تھاجس کے نتیجے میں زمین پر زندگی گزارنے کے مثالی حالات پیدا ہوگئے تھے مگر اب یہ خطرناک شعاعیں براہ را ست زمین سے ٹکراتی ہیں ۔ طوفانِ نوح کے موقع پر پانی کے شامیانہ/ اوزون کےٹوٹ کر زمین پر برسنے کے باعث (پیدایش 7باب 11آیت) یہ مثالی ماحول ختم ہو گیا تھا ۔ تاہم پانی کے شامیانے /اوزون کا مفروضہ آجکل کے زیادہ تر تخلیق کے حامیوں کی طر ف سے مسترد کر دیا گیا ہے ۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ تخلیق کے عمل کے بعد انسان کی چند ابتدائی نسلوں میں انسانی جینیاتی ترتیب میں گناہ کی بدولت کچھ نقائص پیدا ہوتے چلے گئے ۔ آدم اور حوا ایک کامل حالت میں پیدا کئے گئے تھے وہ یقیناً بیماری اور کمزور ی کے خلاف زبردست قوتِ مدافعت رکھتے تھے ۔ مگر وراثت میں اُن کی اولاد میں یہ خصوصیات بتدریج کم ہوتی چلی گئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گناہ کے باعث انسانی جینیاتی ترتیب مسلسل خراب ہوتی گئی اور انسان موت اور بیماری کے مقابلے میں لگا تار کمزور ہوتا گیا تھا ۔ پس یہ بات انسانی حیات کے دورانیے میں شدید کمی کی وجہ بنی ہوگی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

پیدایش کی کتاب میں بیان کردہ لوگ اتنے زیادہ برسوں تک کیونکر جیتے رہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries