settings icon
share icon
سوال

زندہ قربانی بننے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


رومیوں 12باب 1آیت میں پولس رسول کہتا ہےکہ "پس اَے بھائیو۔ مَیں خُدا کی رحمتیں یاد دِلا کر تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ اپنے بدن اَیسی قُربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔" روم کی کلیسیا کے ایمانداروں کو پولس کی یہ نصیحت تھی کہ وہ خود کو خُدا کے لیے قربان گاہ کی قربانی کے طور پر نہیں، جیسا کہ موسوی شریعت جانوروں کی قربانی کا تقاضا کرتی تھی بلکہ زندہ قربانی کے طور پر قربان کریں۔ لغت قربانی کی تعریف"خدا کے لیے مخصوص اور پیش کی جانے والی کسی چیز" کے طور پر کرتی ہے۔ ایمانداروں کی حیثیت سے ہم کس طرح خود کو زندہ قربانی کے طور پر خدا کے لیے مخصوص کرتے اور اُس کے حضور پیش کرتے ہیں؟

پرانے عہد کے تحت خدا جانوروں کی قربانیاں قبول کرتا تھا۔ لیکن یہ صرف خُدا کے برّے یسوع مسیح کی قربانی کی طرف اشارہ تھیں۔ صلیب پر اُس کی حتمی اورایک ہی بار ہمیشہ کے لیے دی جانے والی قربانی کے باعث پرانے عہد نامے کی قربانیاں منسوخ ہو گئیں اور اب کوئی اثر نہیں رکھتی ہیں (عبرانیوں 9باب 11-12 آیات)۔ نجات بخش ایمان کے وسیلہ سے مسیح میں شامل لوگوں کے لیے واحد قابلِ قبول عبادت خود کو مکمل طور پر خُداوند کے لیے پیش کرنا ہے۔ خُدا کے اختیار کے زیر ِ اثر ایماندارکے غیر نجات یافتہ بدن کو راستبازی کے ایک آلہ کے طور پر اُس کے تابع کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنا ضروری ہے (رومیوں 6باب 12-13آیات؛ 8باب 11-13آیات)۔ ہماری خاطر خُداوند یسوع کی حتمی قربانی کے پیش نظر صرف یہی بات "مناسب" ہے۔

عملی لحاظ سے زندہ قربانی کیسی دکھائی دیتی ہے؟ اِس سے اگلی آیت (رومیوں 12باب 2آیت ) اس بات کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ ہم اس دنیا کے ہم شکل نہ بننے کے وسیلہ سے خدا کے لیےزندہ قربانی ہیں۔ 1 یوحنا 2باب 15-16آیات میں دنیا کو ہمارے لیے جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دنیا جو کچھ پیش کرتی ہے اُس کا خلاصہ ان تین چیزوں میں کیا جا سکتا ہے۔ جسم کی خواہش میں وہ سب کچھ شامل ہے جو ہماری خواہشات کو متاثر کرتا ہے اور اس میں کھانے ،پینے، جنسی تسکین حاصل کرنے اور کسی بھی ایسی چیز کے لیے شدید خواہشات شامل ہیں جو ہماری جسمانی ضروریات کو پورا کرتی ہیں ۔ آنکھوں کی خواہش میں زیادہ تر مادیت پرستی ، ہر اُس چیز کی حرص کرنا شامل ہے جو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس نہیں ہے اور ان لوگوں پر رشک کرنا بھی شامل ہے جن کے پاس وہ چیزیں ہوتی ہیں جنہیں ہم چاہتے ہیں ۔ زندگی کی شیخی کی وضاحت کسی بھی ایسی خواہش کے طور پر کی جا سکتی ہے جو ہمیں مغرور بنادیتی اور ہمیں ہماری زندگی کے تخت پر بٹھا دیتی ہے۔

ایماندار کس طرح سے دُنیا کے ہمشکل نہیں ہو سکتے؟ " عقل نئی ہو جانے " کے وسیلہ سے ۔ بنیادی طور پر ہم یہ کام خدا کے کلام کی قوت کے وسیلے کرتے ہیں جو ہمیں تبدیل کرتا ہے۔ ہمیں کلامِ مقدس کو سننے (رومیوں 10باب 17آیت)، پڑھنے (مکاشفہ 1باب 3آیت)، مطالعہ کرنے (اعمال 17باب 11آیت)، یاد رکھنے/ذہن نشین کرنے (119زبور 9-11آیات)اور اس پر دھیان گیان (1زبور 2-3آیات) کرنے کی ضرورت ہے ۔ خدا کا کلام جو رُوح القدس کے ذریعہ سے ہمارے دلوں میں کام کرتا ہے زمین پر وہ واحد قوت ہے جو ہمیں دنیاداری سے حقیقی رُوحانیت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ درحقیقت ہمیں "ہر نیک کام کے لئے بِالکُل تیّار ہو " جانے کی ضرورت ہے (2 تیمتھیس 3باب 16آیت) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم "خُدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامِل مرضی تجربہ سے معلُوم " کرنے کے قابل ہو جائیں گے (رومیوں 12باب 2آیت) ۔ ہر ایماندار کے لیے خُدا کی یہی مرضی ہے کہ وہ یسوع مسیح کے لیے زندہ قربانی بنے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

زندہ قربانی بننے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries