settings icon
share icon
سوال

مَیں خُدا کے لیےاپنی زندگی کیسے گزاروں؟

جواب


خدا نے اپنے کلام میں ہمیں چند بہت واضح ہدایات دی ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی اُس کے لیے کیسے بسر کرنی چاہیے ۔ ان ہدایات میں ایک دوسرے سے محبت کرنے (یوحنا 13باب 34-35آیات ) ، اپنی خودی کا انکارکرتے ہوئے اس کی پیروی کرنے کی بُلاہٹ (متی 16باب 24آیت)، غریبوں اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کرنے کی نصیحت (یعقوب 1باب 27آیت) اور ان لوگوں کی طرح گناہ آلود چال چلن میں مبتلا نہ ہونےکا حکم بھی شامل ہے جو خدا کو نہیں جانتے (1تھسلنیکیوں 5باب 6-8آیات)۔ جب شریعت کے ایک اُستاد نے یسوع سے سب سے بڑے حکم کے بارے میں پوچھا تو یسوع خدا کی مرضی کے مطابق بسر کی جانے والی زندگی کا خلاصہ یوں پیش کرتے ہوئے اِن الفاظ میں جواب دیتا ہے کہ" اوّل یہ ہے اَے اِسرائیل سُن۔ خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔ اور تُو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبّت رکھ۔ دوسرا یہ ہے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔ اِن سے بڑا اَور کوئی حکم نہیں" ( مرقس 12باب 29-31 آیات)۔

اپنی مصلوبیت سےپہلے یسوع کی دُعا بھی ہماری زندگی کے مقصد پر روشنی ڈالتی ہے ۔ ایمانداروں کا ذکر کرتے ہوئے یسوع دُعا کرتا ہے کہ " وہ جلال جو تُو نے مجھے دِیا ہے مَیں نے اُنہیں دِیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔ مَیں اُن میں اور تُو مجھ میں تاکہ وہ کامل ہو کر ایک ہو جائیں اور دُنیا جانے کہ تُو ہی نے مجھے بھیجا اور جس طرح کہ تُو نے مجھ سے محبّت رکھّی اُن سے بھی محبّت رکھّی۔ اَے باپ! مَیں چاہتا ہُوں کہ جنہیں تُو نے مجھے دِیا ہے جہاں مَیں ہوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُو نے مجھے دِیا ہے کیونکہ تُو نے بِنایِ عالَم سے پیشتر مجھ سے مُحبّت رکھّی۔ اَے عادِل باپ! دُنیا نے تو تجھے نہیں جانا مگر مَیں نے تجھے جانا اور اِنہوں نے بھی جانا کہ تُو نے مجھے بھیجا۔ اور مَیں نے اُنہیں تیرے نام سے واقف کِیا اور کرتا رہوں گا تاکہ جو محبّت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اُن میں ہو اور مَیں اُن میں ہوں" ( یوحنا 17باب 22-26آیات)۔ یسوع کی خواہش ہمارے ساتھ رفاقت رکھنے کی ہے ۔

ویسٹ منسٹر مختصر کیٹیکزم بیان کرتا ہے کہ " انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد خدا کو جلال دینا اور اُس میں ہمیشہ مسرور رہنا ہے۔ " خدا کے لیے بسر کی جانے والی زندگی سے اُس کا نام جلال پاتا ہے ۔ ہم اپنی پوری ذات – دل ، جان ، طاقت اور عقل کے ساتھ اُس کے طالب ہوتے ہیں ۔ ہم مسیح میں پیوست ہیں اور اس لیے دوسروں سے محبت کرنے کے وسیلہ سے اُس کی مانند عمل کرتے ہیں ۔ ایسا کرنے سے ہم اُس کے نام کو جلال دینے کے ساتھ ساتھ اُسکی رفاقت سے بھی لطف انداز ہوتے ہیں جس کے لیے اصل میں ہمیں تخلیق کیا گیا ہے ۔

جو لوگ خدا کےلیے زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں وہ یقیناً اُس کے کلام میں اُس کی تلاش بھی کرتے ہیں ۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں کلام کے اطلاق کےلیے رُوح القدس کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے ۔ خدا کے لیےزندگی بسر کرنے کا مطلب اپنی مرضی اور خواہشات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے سب چیزوں میں خدا کی مرضی کو ترجیح دینا ہے ۔ ہم جتنا زیادہ خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں اور اُسے اور زیادہ گہرے طور پر جانتے جاتے ہیں اُتنی ہی زیادہ اُس کی خواہشات ہماری فطرت کا حصہ بنتی جاتی ہیں ۔ جیسے جیسے ہم ایمان میں پختہ ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے خدا کے احکامات کی پیروی کرنے کی ہماری خواہش بڑھتی جاتی ہے کیونکہ اُس کے ساتھ ہماری محبت بڑھتی جاتی ہے ۔ جیسا کہ یسوع نے فرمایا ہے "اگر تم مجھ سے محبّت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے" ( یوحنا 14باب 15 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں خُدا کے لیےاپنی زندگی کیسے گزاروں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries