settings icon
share icon
سوال

یسوع مسیح کی زندگی میں اہم واقعات کون کون سے تھے ؟ (حصہ اوّل)

جواب


ذیل میں یسوع مسیح کی زندگی کے اہم واقعات اور بائبل کی وہ کتابیں درج ہیں جن جن میں اِن واقعات کو بیان کیا گیا ہے (حصہ اوّل ):

پیدایش: (متی 1-2ابواب؛ لوقا 2باب) – اِ ن حوالہ جات کے اندر کرسمس کی معروف کہانی یعنی مسیح کی زمینی زندگی کے آغاز سے متعلقہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں ۔ مریم اور یوسف، سرایِ میں جگہ نہ ملنا ،چرنی میں موجود بچّہ، اپنے بھیڑوں کے ساتھ چرواہے ، حمد کرتا فرشتوں کا ایک گروہ۔ ہم مشرق سے مجوسیوں کو ستارے کی رہنمائی میں بیت لحم میں آتے اور بچے مسیح کو تحائف پیش کرتے اور یوسف، مریم اور یسوع کو مصر فرار ہوتے اور بعد میں ناصرۃ واپس آتے بھی دیکھتے ہیں ۔ اِن حوالہ جات میں یسوع مسیح کا آٹھویں دن ہیکل میں لایا جانا،بارہ سال کی عمر میں ہیکل میں آنا ، وہاں اُستادوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ہیکل میں پیچھے رہ جانا بھی شامل ہے ۔ نجات دہندہ کی پیدایش کی دو ہزار سال پرانی کہانی حیرت انگیز ، شاندار اور با معنی تفصیلات سے بھری ہوئی ہے جسے اُس وقت موجود لوگوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال بعد کے ایماندار نے محفو ظ رکھا ہے ۔ لیکن خدا کی بحیثیت انسان زمین پر آمد کی کہانی کی ابتدا ہزاروں سال پہلے موعودہ مسیحا کے متعلق پیشین گوئیوں کے ساتھ ہوئی تھی۔ خُدا نے پیدایش 3باب 15آیت میں ایک نجات دہندہ کا ذکر کیا ۔ صدیوں بعد یسعیاہ نبی نے ایک کنواری کے بارے میں پیشین گوئی کی جو حاملہ ہو گی اور ایک بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عمانویل رکھے گی جس کا مطلب ہے "خدا ہمارے ساتھ" (یسعیاہ 7:باب 14آیت )۔ مویشیوں کے اصطبل میں عاجزانہ ابتدا مسیح کی زندگی کے اہم واقعات میں سے پہلا واقعہ ہے جب خُدا ہمارے ساتھ رہنے کے لیے آیا ،اور اپنے لوگوں کو مکتی دینےاور ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لیے پیدا ہوا۔

بپتسمہ: (متی 3باب 13-17آیات ؛ مرقس 1باب 9-11آیات ؛ لوقا 3باب 21-23آیات ) – خداوند یسوع کا دریائے یردن پر یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لینا اُس کی عام لوگوں میں خدمت کا پہلا عمل ہے۔ یوحنا کا بپتسمہ توبہ کا بپتسمہ تھا اور اگرچہ خُداوند یسوع کو اس طرح کے بپتسمہ کی ضرورت نہیں تھی لیکن خود کو گنہگاروں کے مشابہ کرنے کے لیے وہ اِسے لینے پر تیار ہو گیا۔ دراصل جب یوحنا نے خُداوند یسوع کے اُس سے بپتسمہ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ وہ خود خدا وند یسوع سے بپتسمہ لینا چاہتا تو خُداوند یسوع نے اصرار کیا۔ اُس نے کہا کہ "ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے " تو یوحنا نے ایسا ہونے دیا (متی 3باب 13-15آیات)۔ اپنے بپتسمہ میں خداوند یسوع اُن گنہگاروں کے مشابہ ہو گیا جن کے گناہوں کو وہ جلد ہی صلیب پر اُٹھانے والا تھا جہاں وہ ان کے گناہ کے ساتھ اپنی راستبازی کو بدل دے گا (2 کرنتھیوں 5باب 21آیت )۔ مسیح کا بپتسمہ نہ صرف اُس کی موت اور جی اُٹھنے کی علامت ہے بلکہ مسیحی بپتسمہ لینے کا عمل بپتسمے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور کھلے عام مسیح کی اُن لوگوں کے ساتھ شناخت کرتا ہے جن کے لیے وہ جان دے گا۔

اس کے علاوہ مسیح کے بپتسمے کے دوران خُدا نے اُس مسیحا کی خود تصدیق کی جس مسیحا کا طویل مدت سے انتظا ر کیا جارہا تھا اور خُدا نے آسمان سے فرمایا: ''یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں" (متی 3باب 17آیت )۔ بلاشبہ یسوع کا بپتسمہ انسان کے سامنے تثلیث کے پہلے ظہور کا منظر تھا۔ بیٹے نے بپتسمہ لیا،باپ نے آسمان سے آواز دی اور رُوح القدس کبوتر کی صورت میں اُس پر اترا۔ باپ کا حکم، بیٹے کی فرمانبرداری اور رُوح القدس کی قوت مسیح کی خدمت اور زندگی کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں ۔

پہلا معجزہ: (یوحنا 2باب 1-11آیات) – یہ کہنابالکل مناسب ہے کہ یوحنا کی انجیل وہ واحد انجیل ہے جو یسوع کے پہلے معجزے کو درج کرتی ہے۔یوحنا کی انجیل کا موضوع اور مقصد مسیح کی الوہیت کو بیان کرنا ہے۔یہ واقعہ جہاں یسوع پانی کو مے میں بدل دیتا ہےزمینی چیزوں پر اُس کی الٰہی قدرت کو عیاں کرتا ہے ،یہی وہ قدرت ہے جوشفا یابی کے بہت سے معجزات اور ہوا اور سمندر جیسے عناصر پر اختیار کی صورت میں پھر ظاہر ہوگی۔ یوحنا ہمیں مزید بتاتا ہے کہ اِس پہلے معجزے کے دو نتائج نکلے -مسیح کا جلال ظاہر ہوا اور شاگرد اُس پر ایمان لائے (یوحنا 2باب 11 آیت )۔ جب مسیح نے انسانی صورت اختیار کی تو اُس کی الٰہی ، جلالی فطرت پوشیدہ تھی ، لیکن اس معجزے جیسے واقعات میں اُس کی حقیقی فطرت پوری طرح واضح ہو گئی اور اُن سب پر ظاہر ہوئی جو سمجھ رکھتے تھے (متی 13باب 16آیت )۔ شاگرد ہمیشہ خداوندیسوع پر ایمان رکھتے تھے لیکن معجزات نے اُن کے ایمان کو مضبوط کرنے اور انہیں اُس مشکل وقت کے لیے تیار کرنے میں مدد کی جو اُن پر آنے والا تھا۔

پہاڑ ی وعظ: (متی 5باب 1آیت -7باب 29آیت ) –پہاڑی وعظ شاید اب تک کا سب سے مشہور وعظ ہے جو خُداوند یسوع کی طرف سے اُس کی زمینی خدمت کے اوائل میں اُس کے شاگردوں کے سامنے کیا گیا تھا۔ "مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے"، "زمین کے نمک"، "آنکھ کے بدلے آنکھ"، "جنگی سوسن،" مانگو تو تم کو دیا جائے گا" اور "بھیڑوں کے بھیس میں بھیڑیے" سمیت بہت سے یادگار جملے جنہیں آج ہم جانتے ہیں ، اور اِس کے ساتھ ساتھ دو کوس جانے ، دوسرا گال پھیر دینے اور بایاں ہاتھ نہ جانے کہ دہنا ہاتھ کیا کرتا ہے جیسے تصورات اِسی وعظ میں سے ہیں ۔ اِس وعظ میں دُعائے ربانی بھی شامل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہاڑی وعظ نے فریسیوں اور اُن کے اعمال کی بنیاد پر راستباز ٹھہرنے کے مذہبی تصور کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچایا تھا ۔ محض شریعت کی لفظی تشریح کرنے کی بجائے اُس کی رُوح کی وضاحت کرتے ہوئے خداوند یسوع نے اِس بات کو بالکل واضح کر دیا کہ ضابطہ پرستی نجات کے لیے بالکل فائدہ مند نہیں ہے اور یہ کہ شریعت کے تقاضوں کو پورا کرنا اصل میں انسانی لحاظ سے ناممکن ہے۔ وہ نجات کے لیے سچے ایمان کی دعوت اور اِس تنبیہ کے ساتھ وعظ کا اختتام کرتا ہے کہ نجات کا راستہ تنگ ہے اور اُسے پانے والے بہت کم ہیں۔ یسوع اُس کے کلام کو سُننے اور اُس پر عمل کرنے والے لوگوں کا اُن عقل مند معماروں کے ساتھ موازنہ کرتا ہے جو اپنے گھروں کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کرتے ہیں اور جب طوفان آتے ہیں تو اُن کے گھر قائم رہتےہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع مسیح کی زندگی میں اہم واقعات کون کون سے تھے ؟ (حصہ اوّل)
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries