settings icon
share icon
سوال

بائبل میں مذکور ستفنس کون تھا ؟

جواب


اعمال 6باب 5آیت ستفنس نامی خدا کے ایک وفادار بندے کو متعارف کراتی ہے: " جو ایمان اور رُوح ا لقدس سے بھرا ہوا تھا "۔ یہ قابل ذکر بات ہے کہ ایسے وفادار ایماندار ہمیشہ سے موجود رہے ہیں جن کی خداوند سے محبت اور وابستگی اس قدر نمایاں نظر آتی ہے کہ اُن کے آس پاس کے دوسرے لوگ اِس چیز کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ستفنس ایسا ہی آدمی تھا۔ ستفنس کی ذاتی زندگی-اُس کے والدین، اُس کے بہن بھائی یا اُس کی بیوی یا بچّوں کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے؛ تاہم اُس کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے وہ واقعی اہم ہے۔ وہ یقینی موت کا سامنا کرنے پر بھی وفادار تھا۔

ستفنس اُن سات آدمیوں میں سے ایک تھا جنہیں ابتدائی کلیسیا میں بیواؤں کی خبر گیری کے لیے اُس وقت منتخب کیا گیا تھا جب اِس حوالے سے تنازعہ پیدا ہوا تھا اور رسولوں نے تسلیم کیا کہ انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ وہ " فضل اور قوت سے بھرا ہوا لوگوں میں بڑے بڑے عجیب کام اور نشان ظاہر کیا کرتا تھا" (اعمال 6باب 8آیت )۔ جب اُس کی مخالفت کی گئی تو ستفنس کے ساتھ بحث کرنے والے اُس حکمت کا مقابلہ نہ کر سکے جو رُوح القدس کی طرف سے ستفنس کو دی گئی تھی ۔ لہٰذا لوگوں نے ستفنس کو جھوٹااور قصوروار ٹھہرانے کا فیصلہ کیا اور اُس پر کفر کا فتویٰ دیتے ہوئے اُسے گرفتار کر لیا (اعمال 6 باب11-14آیات)۔

اعمال 7باب ستفنس کی گواہی کو قلمبند کرتاہے جو شاید بائبل کی کسی بھی کتاب میں درج بنی اسرائیل اور خدا کے ساتھ اُن کے رشتے کی سب سے مفصل اور جامع تاریخ ہے۔ ستفنس اپنے زمینی وجود کے بارے میں فکر مند نہیں تھا بلکہ وہ نتائج سے قطع نظر یسوع مسیح کے ساتھ ثابت قدم رہنے کا عزم کئے ہوئے تھا ۔ خُدا نے اُسے دلیری سے بات کرنے ، اپنے مسیحا یسوع کو پہچاننے میں بنی اسرائیل کی ناکامی ،اُسے رَد اور قتل کرنے پر درست طور پر اُن کو موردِ الزام ٹھہرانے کی تحریک بخشی، جیسا کہ اُنہوں نے اپنے گزشتہ زمانوں میں زکریا ہ اور دیگر نبیوں اور وفادار لوگوں کو قتل کیا تھا۔ ستفنس کا وعظ بنی اسرائیل اور خُدا کے چُنے ہوئے لوگوں کے طور پر اُن کی ناکامی کے خلاف ایک فردِ جرم تھی جن کے ساتھ شریعت، مقدس چیزوں اور مسیحا کا وعدہ کیا گیا تھا۔ گوکہ بنیادی طور پر یہ الزامات درست تھے لیکن یہودیوں کی طرف سے انہیں مناسب انداز میں قبول نہ کیا گیا تھا۔

اپنے وعظ میں ستفنس نے انہیں اُن کے وفادار بزرگ ابرہام اور خُدا کے بارے میں یاد دلایا کہ خدا کس طرح ابرہام کو ایک بُت پرست سرزمین سے ملکِ اسرائیل میں لایا تھا جہاں اُس نے اُس کے ساتھ عہد باندھا تھا ۔ اس نے یوسف کے مصر میں قیام سے لے کر 400 سال بعد موسیٰ کے وسیلہ سے اُن کی رہائی تک اپنے لوگوں کے سفر کے بارے میں بات کی۔ اُس نے یاد د لایا کہ کس طرح موسیٰ مدیان کے بیابان میں جلتی ہوئی جھاڑی میں خدا سے ملا تھا اور اُس نے وضاحت کی کہ خدا نے کس طرح موسیٰ کو قوت بخشی کہ وہ اُس کے لوگوں کو بت پرستی اور غلامی سے نکال کر آزادی اور وعدے کی سرزمین میں بحالی کے وقت میں پہنچائے ۔ اپنے پورے وعظ میں اُس نے بار بار انہیں اُن کی اُس لگاتار سرکشی اور بت پرستی کی یاد دلائی جو اُنہوں نے خدا کے عظیم کاموں کے چشم دید گواہ ہونے کے باوجود کی تھی اور یوں وہ اُن کی اپنی تاریخ کے ذریعے اُن پر الزام لگاتا رہا جس نے انہیں اس قدر غصہ دلایا کہ اُنہوں نے مزید کچھ سننا نہ چاہا۔

موسوی شریعت بیان کرتی ہے کفر کرنے کا مرتکب عام طور پر بذریعہ سنگسارموت کی سزا کا مستحق ہوتا ہے (گنتی 15باب 30-36آیات)۔اِس سے پہلے کہ یہ متکبر ، غیر نجات یافتہ یہودی مقرر کردہ سزا اُسے دیتے اور ستفنس کو سنگسار کرنا شروع کرتے ، اعمال 7باب 55-56آیات اُس کے آسمان اور زمین کے درمیانی پردے سے پار گزرنے سے پہلے اُس کی زمینی زندگی کے آخری لمحات کو قلمبند کرتی ہیں: " مگر اُس نے رُوحُ القُدس سے معمُور ہو کر آسمان کی طرف غَور سے نظر کی اور خُدا کا جلال اور یِسُو ع کو خُدا کی دہنی طرف کھڑا دیکھ کر۔کہا کہ دیکھو! مَیں آسمان کو کُھلا اور اِبنِ آدم کو خُدا کی د ہنی طرف کھڑا دیکھتا ہُوں۔"

کلسیوں 3باب 2-3آیات کے الفاظ ستفنس کی زندگی کے بارے میں لکھے جا سکتے تھے حالانکہ اِن کا اطلاق تمام ایمانداروں کی زندگی پر ہوتا ہے : "عالم بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے ۔ کیونکہ تم مر گئے تھے اور تمہاری زندگی مسیح کے ساتھ خدا میں پوشدہ ہے۔" ستفنس کی زندگی اور اِس سے بھی بڑھ کر اُس کی موت اس بات کا نمونہ ہونی چاہیے کہ ہر ایماندار کو کس طرح زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے: موت کے وقت بھی خُداوند کے لیے وابستہ؛ دلیری سے خوشخبری سنانے کے لیے وفادار؛ خدا کی سچائی سے واقف؛ اور خدا کی طرف سے اُس کے منصوبے اور مقصد کے لیے استعمال ہونے کے لیے تیار ۔ ستفنس کی گواہی اب بھی گمراہ اور تباہ ہوتی دنیا کے لیے روشنی ، مینارِ نگہبانی ہونے کے ساتھ ساتھ ابرہام کی اولاد کی ایک صحیح تاریخ کا درجہ رکھتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل میں مذکور ستفنس کون تھا ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries