settings icon
share icon
سوال

بائبل میں مذکور موسیٰ کون تھا ؟

جواب


موسیٰ پرانے عہد نامے کی نمایاں ترین شخصیات میں سے ایک ہے ۔ ابرہام جبکہ "ایمانداروں کا باپ" اور اپنے لوگوں کے لیے خُدا کے فضل کے غیر مشروط عہد کا وصول کنندہ کہلاتا ہے تو موسیٰ وہ شخص تھا جسےخُدا کی طرف سے اپنے لوگوں کو چھڑانے کے لیے چنا گیا تھا۔ خُدا نے موسیٰ کو خاص طور پراس لیے چُنا کہ وہ بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکال کر موعودہ سرزمین میں آزادی کی زندگی تک لے جائے ۔ موسیٰ کو پرانے عہد کے درمیانی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور عام طور پر اُس کا ذکر شریعت مہیا کرنے والے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر موسیٰ اسفارِ خمسہ کا مرکزی مصنف ہے جو پوری بائبل کی بنیادی کتابیں ہیں ۔ پرانے عہد نامے میں موسیٰ کا کردار نئے عہد نامہ میں خُداوند یسوع کے ادا کردہ کردار کی ایک مثال اور عکس ہے۔ اس لحاظ سے اُس کی زندگی یقیناً قابلِ مشاہدہ ہے۔

ہم موسیٰ کو سب سے پہلے خروج کی کتاب کے ابتدائی ابواب میں دیکھتے ہیں ۔1 باب میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب بزرگ یوسف نے اپنے خاندان کو بڑے قحط سے بچایا اور انہیں(مصر میں) جشن کے علاقے میں آباد کیاتو ابرہام کی اولاد کئی نسلوں تک مصر میں امن کے ساتھ آباد رہی جب تک کہ وہ فرعون نہ آیا جو " یُوسف کو نہیں جانتا تھا" (خروج 1 باب 8 آیت ) ۔ اُس فرعون نے عبرانی لوگوں پر جبر کیا اور انہیں اپنے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے غلاموں کے طور پر استعمال کیا۔ چونکہ خدا نے عبرانی لوگوں کو تیزی سے برومند اور کثیر التعداد کیا تھا اس لیے مصری اپنے ملک میں رہنے والے یہودیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خوفزدہ ہونے لگے۔ لہذا فرعون نے عبرانی عورتوں کے ہاں پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کو مار ڈالنے کا حکم جاری کیا (خروج 1باب 22آیت )۔

خروج 2باب میں ہم موسیٰ کی ماں کو اپنے بچّے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ اُسے ایک ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں بہا دیتی ہے ۔ وہ ٹوکری بالآخر فرعون کی بیٹی کو مل گئی اور اُس نے اُسے اپنے بچّے کے طور پر اپنا لیا اور خود فرعون کے محل میں اُس کی پرورش کی۔ موسیٰ جیسے جیسے بالغ ہوتا گیا وہ اپنی قوم کی حالت زار کے لیے ہمدردی محسوس کرنے لگا اور ایک مصری کو ایک عبرانی غلام کو مارتے ہوئے دیکھ کر موسیٰ نے مداخلت کی اور مصری کو مار ڈالا۔ ایک اور موقع پر جب موسیٰ نے دو عبرانیوں کے درمیان جھگڑے میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو ایک عبرانی نے موسیٰ کو ملامت کیا اور طنزیہ انداز میں اُس سے کہا"کیا جس طرح تُو نے اُس مِصر ی کو مار ڈالا مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے؟ "(خروج2باب 14آیت)۔ اس خیال سے کہ اس کے مجرمانہ فعل کا راز فاش ہو گیا ہے موسیٰ مدیان کے ملک کی طرف بھاگ گیا جہاں اُس نے پھر سے مداخلت کی- اس بار اُس نے یترو کی بیٹیوں کو کچھ گڈرئیوں سے بچایا۔ شکرگزاری کے اظہار میں یترو نے(جسے رعو ایل بھی کہا جاتا ہے) اپنی بیٹی صفورہ کو موسیٰ سے بیا ہ دیا (خروج 2باب15-21 آیات )۔ موسیٰ تقریباً چالیس سال تک مدیان میں رہے۔

موسیٰ کی زندگی کا اگلا اہم واقعہ جلتی ہوئی جھاڑی میں خُدا کے ساتھ اُس کا آمنا سامنا تھا (خروج 3-4ابواب) جہاں خُدا نے موسیٰ کو اپنے لوگوں کا نجات دہندہ بننے کے لیے بلایا۔ اپنے ابتدائی عذر اور اس واضح درخواست کے باوجود کہ خدا کسی اور کو بھیج دےموسیٰ خدا کی پیروی کرنے پر تیار ہو گیا۔ خدا نے موسیٰ کے بھائی ہارون کو اس کے ساتھ بھیجنے کا وعدہ کیا۔ باقی کہانی سب کو معلوم ہے۔ موسیٰ اور اس کا بھائی ہارون خدا کے نام پر فرعون کے پاس جاتے اور اُس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اپنے خدا کی عبادت کے لیے جانے دے۔ فرعون ضد میں آکر ایسا کرنے سے ساتھ انکار کرتا ہے اور خدا کے غصب کی دس آفتیں لوگوں اور ملک پر آتی ہیں اور آخری آفت میں مصریوں کے پہلوٹھوں کی ہلاکت ہوتی ہے۔ اس آخری آفت سے پہلے خُدا موسیٰ کو حکم دیتا ہے کہ وہ فسح منائے جو مصر میں اپنے لوگوں کو غلامی سے چھڑانے میں خُدا کے بچانے کے عمل کی یادگار ہے۔

خروج کے بعد، موسیٰ لوگوں کو بحیرہ قلزم کے کنارے پر لے گیا جہاں خدا نے پانی کے دوحصے کرکے اور عبرانی لوگوں کو دوسری جانب جانے کی اجازت دی جبکہ مصری فوج کو غرق کر دیا اور یوں اپنے لوگوں کو بچانے کا ایک معجزہ کیا (خروج 14باب)۔ موسیٰ لوگوں کو کوہ ِسینا کے دامن میں لے آیا جہاں شریعت مہیا کی گئی اور خدا اور وجود میں آنے والی اسرائیل کی نئی قوم کے درمیان پرانا عہد قائم کیا گیا (خروج 19-24ابواب )۔

خروج کی باقی کتاب اور احبار کی پوری کتاب اُس وقت قلمبندہوتی ہیں جب بنی اسرائیل کوہِ سینا کے دامن میں خیمہ زن تھے۔ خُدا موسیٰ کو خیمہ ِ اجتماع -عبادت کے لیے ایک سفری شامیانہ جسے نقل و حمل کے پیشِ نظر آسانی سے لگایا اور اُکھاڑا جا سکتا تھا- کی تعمیر اور عبادت کے لیے برتن ، کاہنوں کے لباس اور عہد کا صندوق بنانے کے لیے تفصیلی ہدایات دیتا ہے جو اُس کے لوگوں کے درمیان اور اُس جگہ خُدا کی موجودگی کی علامت ہے جہاں سردار کاہن سالانہ کفارہ ادا کرے گا ۔

خدا موسیٰ کو اس بارے میں بھی واضح ہدایات دیتا ہے کہ خدا کی عبادت کیسے کی جائے اور لوگوں میں پاکیزگی اور تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے رہنما اصول کیا ہیں ۔ گنتی کی کتاب اسرائیلیوں کوکوہِ سینا سے وعدے کی سرزمین کے کنارے کی طرف بڑھتے ہوئے دکھاتی ہے، لیکن جب بارہ میں سے دس جاسوس ملک پر قبضہ کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت کے بارے میں ایک بُری خبر لاتے ہیں تو اسرائیلی اُس ملک میں داخل ہونے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ خدا یہودیوں کی اُس نسل کو اُن کی نافرمانی کے باعث بیابان میں مرنے کی سزا دیتا ہے اور اُن کے لیے مقرر کر تا ہے کہ وہ چالیس سال تک بیابان میں بھٹکتے رہیں۔ گنتی کی کتاب کے اختتام پر بنی اسرائیل کی اگلی نسل وعدے کی سرزمین کی سرحدوں پر واپس آ پہنچتی ہے اور خدا پر بھروسہ کرنے اور ایمان کے ساتھ اُس پر قابض ہونے کے لیے تیار ہے۔

استثنا کی کتاب موسیٰ کو لوگوں کے سامنے کئی نصیحتی خطاب کرتے اور انہیں خدا کی نجات بخش طاقت اور وفاداری کی یاد دلاتے ہوئے پیش کرتی ہے ۔ وہ شریعت کو دوسری بار دہراتا (استثنا 5باب) اور بنی اسرائیل کی اُس نسل کو خدا کے وعدوں کو قبول کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ خود موسیٰ کو مریبہ میں اُس کے گناہ کی وجہ سے ملک میں داخل ہونے سے منع کر دیا جاتا ہے (گنتی 20باب 10-13آیات )۔ استثنا کی کتاب کے آخر میں موسیٰ کی وفات کے بیان کو قلمبند کیا گیا ہے (استثنا 34باب)۔ اُسے کوہِ نبو پر چڑھ کر وہاں سےموعودہ سر زمین کو دیکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ جب موسیٰ مرا تو اُس کی عمر 120 سال تھی اور بائبل درج کرتی ہے کہ " نہ تو اُس کی آنکھ دُھندلانے پائی اور نہ اُس کی طبعی قُوت کم ہُوئی " (استثنا 34باب 7آیت )۔ موسیٰ کو خُداوند نے خود دفن کیا (استثنا 34باب5-6آیات ) اور یشوع نے لوگوں کے قائد کے طور پر عہدہ سنبھالا (استثنا 34باب 9آیت )۔ استثنا 34باب 10-12 آیات بیان کرتی ہیں "اور اُس وقت سے اب تک بنی اِسرائیل میں کوئی نبی مُوسیٰ کی مانِند جس سے خُداوند نے رُوبرُو باتیں کیں نہیں اُٹھا۔اور اُس کو خُداوند نے مُلکِ مِصر میں فِرعو ن اور اُس کے سب خادِموں اور اُس کے سارے مُلک کے سامنے سب نِشانوں اور عجیب کاموں کے دِکھانے کو بھیجا تھا۔یُوں مُوسیٰ نے سب اِسرائیلیوں کے سامنے زورآور ہاتھ اور بڑی ہیبت کے کام کر دِکھائے "۔

مندرجہ بالا موسیٰ کی زندگی کا محض ایک مختصر خاکہ ہے اور یہ مضمون خدا کے ساتھ اُس کے تعامل ، اُس نےلوگوں کی کس طور سے رہنمائی کی ، اُس نے یسوع مسیح کی جن مختلف طریقوں سے پیشین گوئی کی، یہودی عقیدے میں اُس کی مرکزیت ،یسوع کی صورت کی تبدیلی کے وقت اُس کے ظہور، اور دیگر تفصیلات کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ لیکن یہ اُس شخص کی ہمیں کچھ شناخت فراہم کرتا ہے۔ لہذا اب ہم موسیٰ کی زندگی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ موسیٰ کی زندگی کو عام طور پر 40، 40 سالہ تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ فرعون کے محل میں اُس کی زندگی کاپہلا دور ہے۔ فرعون کی بیٹی کے لے پالک بیٹے کی حیثیت سے موسیٰ کو مصر کے شہزادے کی تمام مراعات اور سہولیات حاصل تھیں۔ اُس نے " مِصریوں کے تمام علُوم کی تعلِیم پائی اور وہ کلام اور کام میں قُوت والا تھا" (اعمال 7باب 22آیت )۔ جب عبرانی لوگوں کی حالت زار نے اس کی رُوح کو پریشان کرنا شروع کیا تو موسیٰ نے اپنے لوگوں کا نجات دہندہ بننے کی ٹھان لی ۔

جیسا کہ ستفنس یہودی سرداروں کی جماعت کے سامنے کہتا ہے "اُس نے تو خیال کِیا کہ میرے بھائی سمجھ لیں گے کہ خُدا میرے ہاتھوں اُنہیں چھٹکارا دے گا مگر وہ نہ سمجھے " (اعمال 7باب 25آیت )۔ اس واقعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ایک باعمل شخص ہونے کے ساتھ ساتھ شدید غصے اور جلد بازی سے کاموں کو کرنے کا رجحان رکھتا تھا۔ کیا خدا اپنے لوگوں کو بچانا چاہتا تھا؟ جی ہاں۔ کیا خُدا موسیٰ کو نجات کے اپنے چُنے ہوئے آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا؟ جی ہاں۔ لیکن موسیٰ، خواہ عبرانی لوگوں کے چھٹکارے کے عمل میں اپنے کردار سے واقعی واقف تھا یا نہیں اُس نے جلد بازی اور بے احتیاطی سے کام لیا۔ اُس نے اپنے وقت پر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو خدا اپنے مخصوص وقت پر کرنا چاہتا تھا۔ ہمارے لیے سبق پوری طرح واضح ہے: ہمیں نہ صرف خُدا کی مرضی کو پورا کرنے بلکہ اپنے وقت کی بجائے اُس کے مخصوص وقت کے مطابق اُسکی مرضی کو پوراکرنے کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہونے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ بائبل کی بہت سی دیگر مثالوں سے واضح ہوتاہے کہ جب ہم اپنے وقت کے مطابق خدا کی مرضی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم موجودہ صورت حال کو پہلے سے زیادہ بگاڑ دیتے ہیں ۔

موسیٰ کو بڑھنے اور بالغ ہونے اور خُدا کے حضور عاجز اور فروتن بننا سیکھنے کے لیے وقت درکار تھا اور یہ ہمیں موسیٰ کی زندگی کے اگلے باب، مِدیان کی سرزمین میں اُس کے 40 سالہ دور کی طرف لے جاتا ہے ۔ اس دوران موسیٰ نے ایک چرواہے، ایک شوہر اور ایک باپ کی عام زندگی گزارنا سیکھا۔ خدا نے ایک پُرجوش اور غصے سے بھرے نوجوان کو لیا اور اُسے اپنے استعمال کے لئے کامل آلے کی صورت میں ڈھالنے اور تشکیل دینے کے عمل کی ابتدا کی ۔ ہم اُس کی زندگی کے اِس دور سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اگر پہلا سبق خدا کے وقت کا انتظار کرنا ہے تو دوسرا سبق یہ ہے کہ ہم خدا کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے بیکار نہ بیٹھے رہیں۔ اگرچہ بائبل موسیٰ کی زندگی کے اس حصے کی تفصیلات پر زیادہ وقت خرچ نہیں کرتی لیکن ایسا نہیں ہے کہ موسیٰ خُدا کی طرف سے بلاہٹ کے انتظار میں بے کار بیٹھا ہو ا تھا۔ اُس نے 40 سالوں کا بیشتر حصہ ایک چرواہے کے طور طریقوں کو سیکھنے اور ایک خاندان کی کفالت اور پرورش میں گزارا۔ یہ کوئی معمولی باتیں نہیں ہیں! اگرچہ ہم خدا کے ساتھ "پہاڑ کی چوٹی"جیسے بلند و بالا تجربات کرنے کی خواہش کر سکتے ہیں تاہم ہماری زندگیوں کا 99 فیصد حصہ وادی میں ہی دنیا کے اُن روزمرہ کے کام کرنے میں گزرتا رہتاہے جو زندگی کو تشکیل دیتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں جنگ میں شامل کرے ہمیں خدا کے لیے "وادی میں" رہنے کی ضرورت ہے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا زندگی کی بظاہر معمولی باتوں میں ہماری تربیت کرتا اور آنے والے وقت میں اپنی بلاہٹ کے لیے تیار کرتا ہے۔

ایک اور بات جو ہم موسیٰ کے مدیان میں گزارے گئے وقت کے دوران دیکھتے ہیں یہ ہے کہ جب خدا نے آخر کار اُسے خدمت کے لیے بلایا تو موسیٰ مزاحمت کرنے لگا۔ اپنی زندگی کے اوائل میں با عمل موسیٰ جو اب 80 سال کا ہے حد سے زیادہ ڈرپوک ہو گیا تھا ۔ جب اُسے خُدا کی خاطر بات کرنے کے لیے بلایا گیا تو موسیٰ نے کہا کہ مَیں " رُک رُک کر بولتا ہوں اور میری زُبان کُند ہے " (خروج 4باب 10آیت )۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ موسیٰ کو ممکنہ طور پر بولنے میں مشکل تھی۔ شاید ایسا ہو، لیکن پھر ستفنس کے لیے یہ بات کرنا عجیب تھا کہ موسیٰ "کلام اور کام میں قوت والا تھا" (اعمال 7 باب 22آیت )۔ شاید موسیٰ مصر میں واپس جانا اور پھر سے ناکام ہونا نہیں چاہتا تھا ۔ یہ کوئی غیر معمولی احساس نہیں ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگوں نے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کی (خواہ وہ خدا کے لیے تھا یا نہیں) اور ناکام ہوئے ہیں اور پھر دوبارہ کوشش کرنے سے ہچکچا تے رہے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ موسیٰ نے دو چیزیں نظر انداز کر دی تھیں۔ ایک تو وہ واضح تبدیلی تھی جو اُس کی اپنی زندگی میں بیابان میں گزارے گئے 40 سالوں میں رونما ہوئی تھی۔ دوسری اور زیادہ اہم تبدیلی یہ تھی کہ خدا اُس کے ساتھ ہوگا۔ موسیٰ پہلے اس لیے ناکام نہیں ہوا تھا کہ اُس نے بے احتیاطی سے کام لیا بلکہ اس لیے کہ اُس نے خدا کے بغیر کام کیا۔ لہٰذا یہاں سیکھنے کے لیے سبق یہ ہے کہ جب آپ خدا کی طرف سے ایک واضح بُلاہٹ کو پہچان لیتےہیں تو پھر یہ جانتے ہوئے ایمان کے ساتھ آگے بڑھیں کہ خدا آپ کے ساتھ ہے! بزدل مت بنیں بلکہ خُداوند میں اور اُس کی قدرت کے زور میں مضبوط بنیں (افسیوں 6باب 10)۔

موسیٰ کی زندگی کا تیسرا اور آخری باب وہ باب ہے جس پر کلامِ مقدس تاریخی طور پر یعنی اسرائیل کے چھٹکارے میں اس کے کردار کے بارے میں سب سے زیادہ وقت صرف کرتا ہے ۔ موسیٰ کی زندگی کے اس باب سے بھی کئی اسبا ق اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ لوگوں کا موثر رہنما کیسے بنا جائے ۔ بنیادی طور پر موسیٰ کے کندوں پر بیس لاکھ عبرانی مہاجرین کی ذمہ داری تھی۔ جب معاملات اُس پر منفی اثرات چھوڑنے لگے تو اُس کے سسر یترونے اُسے اپنی ذمہ داری دوسرے وفادار کے ساتھ بانٹنے کی تجویز دی ، یہ ایک ایسا سبق جسے دوسروں پر اختیار رکھنے والے بہت سے لوگوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے (خروج 18باب)۔ ہم ایک ایسے شخص کو بھی دیکھتے ہیں جو اپنے کام میں مدد کے لیے خدا کے فضل پر انحصار کرتا تھا۔

موسیٰ مسلسل طور پر لوگوں کی خاطر خدا کے حضور التجا کر تارہا۔ تمام با اختیار لوگ خدا سے اُن لوگوں کی خاطر شفاعت کریں گے جو اُن کے ماتحت ہیں ! موسیٰ خُدا کی موجودگی کی ضرورت سے بخوبی واقف تھا اور یہاں تک کہ اُس نے خُدا کے جلال کو دیکھنے کی درخواست کی (خروج 33باب)۔ موسیٰ جانتا تھا کہ خدا کے بغیر خروج بے معنی ہوگا۔ یہ خدا ہی تھا جس نے بنی اسرائیل کو ممتاز کیا تھا اور انہیں اُس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ موسیٰ کی زندگی ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ کچھ گناہ ایسے بھی ہیں جو زندگی بھر ہمارا تعاقب کرتےرہیں گے۔ وہی غصہ جس نے موسیٰ کو مصر میں مصیبت میں ڈالا تھا اُسی نے اُسے بیابان میں آوارگی کے دوران بھی مصیبت میں مبتلا کیا تھا۔ مریبہ کے مذکورِ بالا واقعے میں لوگوں کو پانی مہیا کرنے کے لیے موسیٰ نے غصے سے چٹان پر مارا۔ پھر بھی اُس نے نہ تو خدا کے نام کو جلال دیا اور نہ ہی اُس نے خدا کے احکامات پر صحیح طور پر عمل کیا۔ اِس وجہ سے خدا نے اُسے وعدہ کی زمین میں داخل ہونے سے منع کر دیا ۔ اسی طرح، ہم سبھی کچھ ایسے گناہوں سے مغلوب ہو جاتے ہیں جو ہمیں تمام دن پریشان کرتے رہتے ہیں،ایسے گناہ جن کے لیے ہمیں مسلسل چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ صرف چند عملی اسباق ہیں جو ہم موسیٰ کی زندگی سے سیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اگر ہم موسیٰ کی زندگی کو کلامِ مقدس کی مجموعی ترتیب کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسی اہم الہیاتی سچائیاں نظر آتی ہیں جو نجات کی کہانی سے تعلق رکھتی ہیں۔ عبرانیوں کا مصنف 11 باب میں موسیٰ کو ایمان کی مثال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ہم سیکھتے ہیں کہ ایمان کی وجہ سے موسیٰ نے اپنے لوگوں کی مصیبت میں اُس کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے فرعون کے محل کی شان و شوکت سے انکار کر دیا۔ عبرانیوں کا مصنف بیان کرتا ہے" مسیح کے لئے لعن طعن اُٹھانے کو مِصرؔ کے خزانوں سے بڑی دَولت جانا کیونکہ اُس کی نِگاہ اَجر پانے پر تھی " (عبرانیوں 11باب 26آیت)۔ موسیٰ کی زندگی ایمان پر مبنی تھی اور ہم جانتے ہیں کہ ایمان کے بغیر خدا کو پسند آنا ناممکن ہے (عبرانیوں 11باب 6آیت )۔ اسی طرح ،یہ ایمان ہی سے ہے کہ ہم اِس زندگی میں دنیاوی مشکلات کو آسمانی اجر کی طرف دیکھتے ہوئے برداشت کر سکتے ہیں (2 کرنتھیوں 4باب 17-18آیات )۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ موسیٰ کی زندگی مسیح کی زندگی کی مثال تھی۔ مسیح کی طرح، موسیٰ ایک عہد کا درمیانی تھا۔ ایک بار پھر، عبرانیوں کا مصنف اس نقطے کو عیاں کرنے کے لیے بہت زیادہ کوشش کرتا ہے (بالموازنہ عبرانیوں 3 باب ؛ 8-10ابواب)۔ پولس رسول بھی 2 کرنتھیوں 3 باب میں یہی نکات بیان کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موسیٰ جس عہد کا درمیانی تھا وہ وقتی اور مشروط تھاجبکہ مسیح ابدی اور غیر مشروط عہد کا درمیانی ہے۔ مسیح کی طرح موسیٰ نے اپنے لوگوں کو چھٹکارہ عطا کیا۔ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی اور قید سے چھٹکارہ دلایا اور انہیں موعودہ ملک کنعان میں لایا۔ مسیح اپنے لوگوں کو گناہ اور ابدی سزا کی غلامی اور قید سے نجات دیتا ہے اور انہیں ایک نئی دُنیا میں ابدی زندگی کے موعودہ ملک میں پہنچائے گا یہ تب ہوگا جب وہ اُس بادشاہی کی تکمیل کرنے کے لیے واپس آئے گا جس کی شرعات اس نے اپنی پہلی آمد پر کی تھی ۔ مسیح کی طرح موسیٰ بھی اپنی قوم کے لیے ایک نبی تھا۔ موسیٰ نےبالکل اُسی بنی اسرائیل کو خُدا کا کلام سُنایا تھا جیسے مسیح نے سنایا تھا (یوحنا 17باب 8آیت )۔

موسیٰ نے پیشین گوئی کی کہ خُدا قوم میں سے اُس جیسا ایک اور نبی بھرپا کرے گا (استثنا 18باب 15آیت )۔ یسوع اور ابتدائی کلیسیا تعلیم دیتی اور یقین رکھتی تھی کہ جب موسیٰ نے یہ الفاظ قلمبند کئے تھے تو وہ خداوند یسوع کے بارے میں بیان کر رہا تھا (بالموازنہ یوحنا 5باب 46آیت ؛ اعمال 3باب 22آیت ؛ 7باب 37آیت )۔ پس موسیٰ کی زندگی کئی ایک طرح سے مسیح کی زندگی کا پیش خیمہ تھی۔ اِس طرح، ہم اِس بات کی جھلک دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کس طرح تمام انسانی تاریخ میں وفادار لوگوں کی زندگیوں میں نجات کے اپنے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ اس سے ہمیں یہ امید ملتی ہے کہ جس طرح خُدا نے اپنے لوگوں کو بچایا اور اُنہیں موسیٰ کے اعمال کے ذریعے آرام بخشا اُسی طرح خُدا ہمیں بھی بچائے گا اور اب اور آنے والی زندگی میں مسیح میں ایک ابدی سبت کا آرام بخشے گا۔

آخر میں، اس بات پر غور کرنا دلچسپی کا حامل ہوگا کہ اگرچہ موسیٰ نے اپنی زندگی کے دوران کبھی بھی وعدے کی سرزمین میں قدم نہیں رکھا تھا لیکن اپنی موت کے بعد اُسے وعدے کی سرزمین میں داخل ہونے کا موقع بخشا گیا ۔ پہاڑ پر صورت تبدیل ہونے کے موقع پر جب خداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو اپنے مکمل جلال سے متعارف کرایا تو اُس کے ساتھ پرانے عہد نامے کی دو شخصیات، موسیٰ اور ایلیاہ بھی تھیں جو شریعت اور انبیاء کی نمائندگی کرتے تھے۔ آج کے دن موسیٰ مسیح میں اُس حقیقی سبت کے آرام کا تجربہ کر رہا ہے جس میں ایک دن تمام مسیحی شریک ہوں گے (عبرانیوں 4باب 9آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل میں مذکور موسیٰ کون تھا ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries