settings icon
share icon
سوال

بائبل میں مذکور ایوؔب کون تھا ؟

جواب


ایوؔب کی زندگی اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ انسان اکثر اُن متعدد طریقوں سے بے خبر ہوتے ہیں جن کے ذریعے خدا ہر ایماندار کی زندگی میں کام کر رہا ہے۔ ایوؔب کی زندگی اس عام سوال کو بھی اجاگر کرتی ہےکہ "اچھے لوگوں کے ساتھ بُرا کیوں ہوتا ہے؟" یہ ایک قدیم ترین سوال ہے جس کا جواب دینا مشکل ہے، لیکن ایماندار جانتے ہیں کہ خُدا ہمیشہ سے با اختیار ہے اور چاہے جوکچھ بھی رونما ہو ، کوئی بات اتفافی طور پر واقع نہیں ہوتی ۔ ایوؔب ایک ایماندار تھا؛ وہ جانتا تھا کہ خدا تخت نشین ہے اور مکمل اختیار رکھتا ہےحالانکہ اُس کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ اُس کی زندگی میں اتنی خوفناک آفتیں کیوں رونما ہو رہی ہیں۔

ایوؔب "کامل اور راست باز تھا اور خدا سے ڈرتا اور بد ی سے دُور رہتا تھا " (ایوؔب 1باب 1آیت )۔ اُس کے دس بچّے تھے اور وہ بڑا مالدار آدمی تھا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ایک دن شیطان خدا کے حضور حاضر ہوا اور خدا نے شیطان سے پوچھا کہ وہ ایوؔب کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ شیطان نے ایوب پرالزام لگایا کہ وہ خدا کی صرف اس لیے عزت کرتا ہے کیونکہ خدا نے اُسے برکت دے رکھی ہے ۔ لہذا،خدا نے شیطان کو ایوؔب کی دولت اور اُس کے بچّوں کو چھین لینے کی اجازت دے دی۔ بعد میں ،خدا نے شیطان کو ایوؔب کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچانے کی اجازت بھی دے دی۔ گوکہ ایوؔب کو شدید دُکھ ہوا لیکن اُس نے کسی بھی بدی کا خدا پر الزام نہ لگایا (ایوؔب 1باب 22آیت ؛ 42باب 7-8آیات )۔

ایوؔب کے دوستوں کو یقین تھا کہ ایوب نے لازماً سزا کے لائق کوئی گناہ کیا ہے اوراُنہوں نے اِس بارے میں اُس سے بحث کی۔ لیکن ایوب نے اپنی بے گناہی کو برقرار رکھا حالانکہ اُس نے تسلیم کیا کہ وہ مرنا چاہتا ہے اور اُس نے خدا کے بارے میں سوالات کئے ۔اِس سے پہلے کہ خُدا خود ایؔوب کو جواب دیتا، ایک ناتجربہ کار آدمی، الیہو نےخدا کی طرف سے بات کرنے کی کوشش کی۔ ایوب 38-42 ابواب میں خدا کی ذات کی وسعت اور طاقت کے بارے میں کچھ نہایت شاندار شاعری شامل ہے ۔ ایوؔب نے اِن الفاظ کے ساتھ عاجزی اور توبہ کے ساتھ خُدا کے خطاب کا جواب دیا کہ اُس نے اُن چیزوں کے بارے میں بات کی ہے جن کے بارے میں وہ نہیں جانتا تھا (ایوب 40باب 3-5آیات؛ 42باب 1-6آیات )۔ خُدا نے ایوب کے دوستوں کو بتایا کہ وہ اُن پر غصے ہے کیونکہ اُنہوں نے ایوؔب کے برعکس خُدا کی ذات کے بارے میں جھوٹ بولاتھا(ایوب 42باب 7-8آیات )۔ خدا نے ان سے کہا کہ وہ اپنی خطا کے لیے قربانیاں گزرانیں اور ایوؔب اُن کی خاطر دعا کرے گا اور خدا ایوؔب کی دعا قبول کرے گا۔ ایوؔب نے غالباً اپنے دوستوں کو اُن کی سخت دلی کے لیے معاف کرتے ہوئے ایسا ہی کیا ۔ خُدا نے ایوؔب کے مال و دولت کو دو گنا کر دیا (ایوب 42باب 10آیت ) اور اُسکے "آخِری ایّام میں اِبتدا کی نسبت زِیادہ برکت بخشی " (ایوب 42 باب 12آیت )۔ ایوؔب اپنی مصیبت کے بعد 140 سال تک جیتا رہا۔

ایوب نے حتی ٰ کہ اُن دل دہلا دینے والے حالات میں بھی خُدا پر اپنا ایمان نہ کھویا جن کے وسیلے اُس کا گہرا متحان لیا گیاتھا۔ ہمارے لیے یہ تصور کرنا ہی مشکل ہے کہ ہم ایک ہی دن میں اپنی تمام چیزوں -جائیداد، مال اور یہاں تک کہ بچّوں کو بھی کھو دیں ۔ اتنے بڑے نقصان کے بعد زیادہ تر لوگ مایوسی میں غرق ہو جائیں گے اور شاید خودکشی کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔ اگرچہ ایوؔب اس قدر افسردہ تھا کہ اُس نے اپنے پیدا ہونے کے دن پر لعنت کی (ایوب 3باب 1-26آیات ) لیکن ایوؔب نے نہ تو کبھی خدا پر لعنت کی (ایوب 2باب 9-10آیات ) اور نہ ہی اپنے اُس فہم میں لڑکھڑایا کہ خدا اب بھی اختیاررکھتا ہے۔ دوسری جانب ایوؔب کے تینوں دوستوں نے تسلی دینے کی بجائے اُسکی غلط صلاح کاری کی اور یہاں تک کہ اس پر ایسا سنگین گناہ کرنے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے خدا نے اُسے مصیبت میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایوؔب خُدا کو اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اس طرح کام نہیں کرتا ؛درحقیقت، اُس کا خدا کے ساتھ اتنا گہرا، شخصی تعلق تھا کہ وہ یہ کہنے کے قابل تھا" دیکھو وہ مُجھے قتل کرے گا۔ مَیں اِنتِظار نہیں کرُوں گا۔بہر حال مَیں اپنی راہوں کی تائِید اُس کے حضُور کرُوں گا "(ایوب 13باب 15آیت )۔ جب ایوؔب کی بیوی نے اُسے تجویز دی کہ وہ خدا پر لعنت کرے اور مر جائے تو ایوب نے جواب دیا کہ " تُو نادان عَورتوں کی سی باتیں کرتی ہے۔ کیا ہم خُدا کے ہاتھ سے سُکھ پائیں اور دُکھ نہ پائیں؟ " (ایوب 2باب 10آیت )۔

اُس کے بچّوں کی موت اور اُس کی جائیداد کے نقصان سے لے کر اُس کی جسمانی اذیت تک ایوؔب کی حالتِ زار، اس کے علاوہ اس کے نام نہاد دوستوں کی پُر جوش تقریراُس کے ایمان کو ہلانے کا سبب نہ بنی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا نجات دہندہ کون ہے، وہ جانتا تھا کہ وہ ایک زندہ نجات دہندہ ہے، اور وہ جانتا تھا کہ ایک دن وہ جسمانی طور پر زمین پر آکھڑا ہوگا (ایوب 19باب 25آیت )۔ وہ سمجھتا تھا کہ انسان کے دن مقرر (گنے ہوئے) ہیں اور انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا (ایوب 14باب 5آیت )۔ ایوب کی رُوحانی دانشمندی پوری کتاب میں عیاں ہے۔ یعقوب رسول ایوؔب کا ثابت قدمی کے ایک نمونے کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ " اَے بھائِیو! جن نبیوں نے خُداوند کے نام سے کلام کِیا اُن کو دُکھ اُٹھانے اور صبر کرنے کا نمُونہ سمجھو۔ دیکھو صبر کرنے والوں کو ہم مُبارک کہتے ہیں۔ تم نے ایُّوب کے صبر کا حال تو سُنا ہی ہے اور خُداوند کی طرف سے جو اِس کا انجام ہُوا اُسے بھی معلُوم کر لِیا جس سے خُداوند کا بہت ترس اور رَحم ظاہر ہوتا ہے " (یعقوب 5باب 10-11آیات )۔

ایوب کی کتاب میں کئی سائنسی اور تاریخی حقائق بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ کتاب جدید سائنس کی آمد سے بہت پہلے اشارہ کرتی ہے کہ زمین گول ہے (ایوب 22باب 14آیت )۔ یہ کتاب اگرچہ ڈائنوسار کا ذکر اُسکے نام کے ساتھ نہیں کرتی، بیہی موتھ نامی جانور کی تفصیل یقیناً ڈائنوسار سے ملتی جلتی ہے جو انسان کے ساتھ ساتھ رہتے تھے (ایوب 40باب 15-24آیات )۔

ایوب کی کتاب ہمیں اُس پردے کے پیچھے کی ایک جھلک دکھاتی ہے جو زمینی زندگی کو آسمانی زندگی سے جُدا کرتا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان اور اس کے گرائے ہوئے فرشتوں کو اب بھی آسمان تک رسائی ، وہاں ہونے والی مخصوص ملاقاتوں میں جانے کی اجازت ہے۔ اُن واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان زمین پر اپنی برائی کے کام میں مصروف ہے، جیسا کہ ایوب 1باب 6-7آیات میں درج ہے۔ نیز یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سے شیطان " بھائیوں پر الزام لگانے والا"ہے جو کہ مکاشفہ 12باب 10آیت کے بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ چیز اُس کے تکبر اور غرور کو عیاں کرتی ہےجیسا کہ یسعیاہ 14باب 13-14آیات میں لکھا ہے۔ یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ شیطان کیسے خدا کو چیلنج کرتا ہے ؛ اُسے اعلیٰ و ارفع ہستی کا مقابلہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں۔ ایوؔب کا بیان شیطان کو بالکل اُسی طرح پیش کرتا ہے جیسے وہ حقیقت میں ہے –پوری طرح متکبر اور شریر ہے۔

ہم ایوؔب کی کتاب سے غالباً سب سے بڑا سبق یہ سیکھتے ہیں کہ خدا اِس حوالے سے کسی انسان کے سامنے جوابدہ نہیں ہے کہ وہ کیا کرتا ہے یا کیانہیں کرتا۔ ایوب کا تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ممکن ہے کہ ہم کسی مصیبت کی مخصوص وجہ کے بارے میں کبھی نہ جان پائیں لیکن ہمیں اپنے خود مختار، مقدس، راستباز خدا پر بھروسہ رکھنے کی ضرورت ۔ وہ اپنی سب راہوں میں کامل ہے (18زبور 30آیت)۔ چونکہ خُدا کی راہیں کامل ہیں لہذا ہم اِس بات پر بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کرتا- اور جس بات کی اجازت دیتا ہے وہ بھی کامل ہیں ۔ ہم خُدا کی مرضی کو مکمل طور پر سمجھنے کی توقع نہیں کر سکتے جیسا کہ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ " میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں " (یسعیاہ 55باب8-9آیات )۔

خُدا کے لیے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اُس کی فرمانبرداری کریں، اُس پر بھروسہ کریں اور اُس کی مرضی کے تابع رہیں، چاہے ہم اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم خدا کو اپنی آزمایشوں میں -ممکنہ طور پر اپنی آزمایشوں کی وجہ سے ہی - اپنے ساتھ پائیں گے ۔ ہم اپنے خدا کی عظمت کو اور زیادہ واضح طور پر دیکھیں گے اور ایوؔب کے ساتھ کہیں گے کہ " مَیں نے تیری خبر کان سے سُنی تھی پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے " (ایوب 42باب 5آیت )۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل میں مذکور ایوؔب کون تھا ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries