settings icon
share icon
سوال

کیا ابدی تحفظ گناہ کرنے کا اجازت نامہ ہے؟

جواب


ابدی تحفظ کے عقیدے کے حوالے سے سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ عقیدہ "مبینہ طور پر"لوگوں کو اپنی من پسند زندگی گزارنے کی اجازت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ و ہ پھر بھی نجات یافتہ ہیں۔ یہ بات جس طریقے سے کہی جا رہی ہے وہ بظاہر سچ محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں یہ سچ نہیں ہے۔وہ شخص جس کی زندگی واقعی خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے تبدیل ہو چکی ہو وہ کبھی بھی جان بوجھ کر گناہ آلود زندگی نہیں گزارے گا۔ ہمیں اِن دو باتوں میں واضح فرق کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک مسیحی کو (جو پہلے ہی ایمان لا کر نجات پا چکا ہے )کس طرح سے زندگی گزارنی چاہیے اوراِس کے برعکس کسی شخص کو نجات پانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

بائبل اِس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ نجات یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے خُدا کے فضل ہی سے ممکن ہے (یوحنا 3باب16آیت؛ افسیوں 2باب 8- 9آیات)۔ جس وقت کوئی فرد خُداوند یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لاتا ہے وہ راستباز ٹھہرا یا اور بچایا جاتا ہےا ور نجات کے تحت محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نجات ایمان کے وسیلے حاصل کر کے اُس کو اعمال کے ذریعے سے قائم رکھا جائے۔ پولس رسول اِس مسئلے پر گلتیوں 3باب3آیت میں بات کرتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ "کیا تم اَیسے نادان ہو کہ رُوح کے طور پر شروع کر کے اب جسم کے طور پر کام پُورا کرنا چاہتے ہو؟" اگر ہم نے ایمان کے وسیلے نجات پائی ہے تو ہماری نجات ایمان ہی کے وسیلے قائم اور محفوظ بھی رہتی ہے۔ ہم خود سے کچھ بھی ایسا نہیں کر سکتے جس کے صلے میں ہم نجات پا سکیں۔ اِس لیے ہم اپنے کسی بھی طرح کےاعمال سے اپنی نجات کو قائم یا محفوظ بھی نہیں رکھ سکتے۔ خُدا خود ہی ہماری نجات کو قائم رکھتا ہے (یہوداہ 24آیت)۔ یہ خُدا کا ہاتھ ہی ہے جو ہم سب ایمان لانے والوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے (یوحنا 10باب 28-29آیات)۔یہ خُدا کی محبت ہی ہے جس سے ہمیں کوئی بھی چیز جُدا نہیں کر سکتی(رومیوں 8باب38-39آیات)۔

ابدی تحفظ کے عقیدے کاکسی بھی طرح کا انکار اصل میں اِس بات پر یقین یا ایمان رکھنے کے مترادف ہے کہ ہمیں اپنی مسلسل کوششوں اور اپنے اچھے اعمال کے ذریعے سے اپنی نجات کو قائم رکھنا ہے۔یہ بات مسیحیت کے نجات بالفضل کے عقیدےکے بالکل متضاد ہے۔ ہم خُداوند یسوع کی راستبازی کی بدولت بچائے گئے ہیں جو ہمارے لیے محسوب کی گئی ہے (رومیوں 4باب 3- 8آیات)۔ ایسا کہنا کہ ہمیں اپنی نجات کو قائم رکھنے کے لیے خُدا کے کلام کی تابعداری کرنی چاہیے یا نیک اعمال کرنے چاہییں دراصل یہ تاثر دیتا ہے کہ ہمارے گناہوں کی قیمت چُکانے کے لیےخُداوند یسوع کی موت ناکافی تھی۔ خُداوند یسوع مسیح کی موت یقینی طور پر ہم سب کے ماضی، حال اور مستقبل کے گناہوں یعنی نجات پانے سے پہلے کے اور نجات حاصل کرنے کے بعد (نا دانستہ طور پر سرزد ہونے والے) سبھی گناہوں کی قیمت چُکانے کے لیے کافی ہے(رومیوں5 باب 8آیت؛ 1 کرنتھیوں 15باب 3آیت؛ 2 کرنتھیوں 5باب21آیت)۔

کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسیحی جیسے بھی چاہے (حتیٰ کہ گناہ آلود قسم کی )زندگی گزار سکتا ہے اور پھر بھی وہ نجات یافتہ ہو سکتا ہے؟ یہ ایک فرضی/قیاسی سوال ہے کیونکہ بائبل اِس بات کو پورے طور پر واضح کرتی ہے کہ ایک مسیحی کبھی بھی اپنی زندگی "جیسے وہ چاہےنہیں گزار سکتا۔"تمام مسیحی خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے کے سبب سے نئی مخلوق ہیں (2 کرنتھیوں 5باب17آیت)۔ مسیحی اپنی زندگیوں سےجسم کے پھل (گلتیوں 5باب19-21آیات) نہیں بلکہ رُوح کے پھل ظاہر کرتے ہیں (گلتیوں 5باب 22- 23 آیات)۔ 1 یوحنا 3باب6- 9آیات واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ ایک مسیحی کبھی بھی نجات کے بعد مسلسل گناہ میں زندگی نہیں گزارے گا۔اِس اعتراض کے جواب میں کہ فضل گناہ کو بڑھاوا دیتا ہے پولس رسول اعلان کرتا ہے کہ " پس ہم کیا کہیں؟ کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زِیادہ ہو؟ہرگز نہیں ۔ ہم جو گنا ہ کے اعتبار سے مَر گئے کیونکر اُس میں آئندہ کو زندگی گذاریں؟" (رومیوں 6باب1-2آیات)۔

ابدی تحفظ قطعی طور پر گناہ کرنے کا اجازت نامہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ اِس حقیقت کو جاننے کا تحفظ ہے کہ اُن سب لوگوں کے لیے جو مسیح پر ایمان لاتے ہیں خُدا کی محبت کی ضمانت دے دی گئی ہے۔ خُدا کی طرف سے عطا کی جانے والی نجات کے بارے میں جاننا اور اُسے سمجھنا دراصل گناہ کے لیے اجازت نامے کے بالکل متضاد کام کرتا ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اُس قیمت کو جانتا ہو جو یسوع نے ہمیں گناہوں سے نجات دینے کے لیے ادا کی اور اِس کے باوجود وہ گناہ آلود زندگی گزارتا رہے (رومیوں 6باب 15- 23 آیات)۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص جو خُدا کی غیر مشروط محبت کو اور ایمانداروں کے لیے اُس محبت کی ضمانت کو جانتا ہو، اور وہ خُدا کی اُس محبت کو حاصل کرنے کے بعد اُسے روند ے اور خُدا کو واپس کر دے؟ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اُس کا یہ رویہ اِس بات کو ظاہر نہیں کرتا ہے ابدی تحفظ نے اُسے گناہ کرنے کا اجازت نامہ دے دیا ہے بلکہ اُس کا ایسا رویہ تو اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اُس نے خود ابھی تک خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے نجات کا تجربہ ہی نہیں کیا۔ "جو کوئی اُس میں قائم رہتا ہے وہ گناہ نہیں کرتا ۔ جو کوئی گناہ کرتا ہے نہ اُس نے اُسے دیکھا ہے اور نہ جانا ہے"(1 یوحنا 3باب6آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ابدی تحفظ گناہ کرنے کا اجازت نامہ ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries