؟ کس طرح ہم روُح القدس حاصل کرتے ہیں



سوال: کیا ابدی محافظت گناہ کے لئے اجازت نامہ ہے؟

جواب:
ابدی محافظت کے الہی علم کو لیکر سب سے زیادہ متواثر واقع ہونے والا اعتراض یہ ہے کہ کیا ایمانداروں کو مفروضہ طور سے اپنی مرضی کے مطابق جینے دیا جاتا ہے جبکہ وہ پہلے ہی سے بچائے گئے ہیں۔ تکنیکی طور سےہوسکتا ہے۔ مگر حقیقت میں یہ سچ نہیں ہے۔ ایک شخص جو سچ مچ یسوع کے وسیلہ سے بچایا گیا ہے وہ خصلتاً لگاتار بالارادہ گناہ کی زندگی نہیں جی سکتا ہے۔ ایک مسیحی کو کس طرح جینا چاہئے اور ایک شخص کو نجات حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے ان دونوں میں فرق کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔

کلام پاک واضح کرتا ہے کہ صرف مسیح یسوع میں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے ایک شخص کو نجات ملتی ہے (یوحنا 3:16 ؛ افسیوں9- 2:8؛ یوحنا 14:6)۔ جس لمحہ ایک شحص مسیح یسوع پر ایمان لاتا ہے وہ آدمی یا عورت بچایا جاتا یا بچائی جاتی ہے اور نجات میں محفوظ پایا جاتا ہے۔ نجات صرف ایمان سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ ایمان لانے کے بعد اپنے عمل کے ذریعہ حاصل کی ہوئی نجات کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ پولس رسول گلتیوں 3:3 میں اس بات کو لکھتا ہے۔ وہ گلتیوں کے ایمانداروں سے سوال کرتا ہےکہ "کیا تم ایسے نادان ہوکہ روح کے طور پر شروع کرکے اب جسم کے طور پر کام پورا کرنا چاہتے ہو"؟ اگر ہم ایمان کے وسیلہ سے بچائے گئے ہیں تو ہماری نجات بھی ایمان کے وسیلہ سے بچائے گئے ہیں ہماری نجات بھی ایمان کے وسیلہ سے برقرار اور محفوظ ہے۔ ہم اپنی نجات کو کما نہیں سکتے۔ اس لئے ہم اپنی نجات کی پرورش کو بھی نہیں کما سکتے۔ وہ خدا ہی ہے جو ہماری نجات کی پرورش کرتا ہے ۔ (یہوداہ 24)۔ وہ خدا کا ہاتھ ہی ہے جو ہمیں مضبوطی سے تھامے رہتا ہے (یوحنا29- 10:28)۔

یہ خدا کی محبت ہے جو ہم کوکسی چیز سے الگ نہیں کرسکتا (رومیوں39- 8:38)۔

ابدی محافظت کی کوئی بھی انکاری اس کے جوہر میں ہے۔ ایک اعتقاد جس کے ذریعہ ہم نجات کی پرورش کرتے ہیں وہ ہمارے نیک کام اور کوششیں ہیں۔ یہ کامل طور سے نجات کے لئے فضل کے ذریعہ متناقض ہے۔ ہم مسیح کے بخشش کی سبب سے بچائے گئے ہیں ہمارے اپنی کوشش کے سبب سے نہیں (رومیوں8- 4:3)۔ اس بات کا دعوی کرنے کے لئے ہم کو خدا کے کلام کی اتباع کرنی ہوگی یا پھر خدا پرستی کی زندگی جینیپڑے گی نجات کی پرورش کے لئے یہ کہنا کہ یسوع کی موت جو ہمارے گناہوں کے لئے خمیازہ بطور دیا گیا وہ کافی نہیں تھا یہ سراسر بیوقوفی ہے۔ اس کے مقابلہ میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یسوع کی موت ہمارے حال، ماضی اور مستقبل کے تمام گناہوں کے لئے بلکہ ہمارے پیشتر نجات اور عدالت کے بعد کی نجات کے لئے مطلقاًً کافی تھا (رومیوں 5:8 ؛ 1 کرنتھیوں 15:3 ؛ 2 کرنتھیوں 5:21)۔

کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک مسیحی اپنی مرضی سے جیسے وہ چاہتا ہے جی سکتا ہے اور اس کے باوجود بھی وہ بچایا گیا ہے؟ یہ خصوصی طور سے مفروضہ سوال ہے، کیونکہ کلام پاک صاف طور سے واضح کرتا ہے کہ ایک سچامسیحی "اپنی مرضی کی زندگی نہیں گزار سکتا جیسے وہ چاہتا ہے"۔ مسیحی لوگ نئی تخلیق ہیں (2 کرنتھیوں 5:17)۔ مسیحی لوگ روح کے پھلوں کا مظاہرہ کرتے ہیں (گلتیوں23- 5:22)، نہ کہ جسم کے کاموں کا (گلتیوں21- 5:19)۔ پہلایوحنا9- 3:6 صفائی سے بیان کرتا ہے۔ کہ ایک سچا مسیحی لگاتار گناہ کی زندگی نہیں جی سکتا۔ اس الزام کے نتیجہ پر کہ فضل گناہ کو بڑھاوا دیتا ہے پولس رسول نے یہ کہا کہ "پس ہم کیا کہیں؟ کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟ ہرگز نہیں۔ ہم جو گناہ کے اعتبار سے مر گئے کیونکر اس میں آیندہ کو زندگی گزاریں"؟ (رومیوں2- 6:1)۔

ابدی محافظت اس بات کا اجازت نامہ نہیں کہ کے گناہ کرتے رہیں۔ بلکہ محافظت سے مطلب اس بات کو جاننا ہے کہ جو مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں ان کے لئے خدا کی محبت ضمانت دیتی ہے۔ خدا کی بڑی نجات کے انعام کو جاننا اور سمجھنا گناہ کرنے کے اجازت نامہ کی الٹی بات کی تکمیل کرتا ہے۔ کس طرح سے ایک شخص یسوع مسیح کی صلیبی موت کی قیمت کو معلوم کرتے ہوئے بھی جو ہمارے لئے چکایا گیا گناہ میں زندگی گزار سکتا ہے (رومیوں23- 6:15)؟ کون ایسا ایماندار شخص ہوگا جو خدا کے بلا شرطیہ اور بلا ضمانت کی محبت کو جانتا ہ اور سمجھتا ہو اور اس عجیب خدا سے حاصل کرنے کے بعد اسے اسی کے سامنے ٹھکرادے؟ ایسا شخص مظاہرہ کرتا ہے اس ابدی محافظت کا نہیں جس میں اسے گنا کرنے کا اجازت نامہ دیا گیا ہو بلکہ اس کے عوض میں اس آدمی یا عورت نے مسیح یسوع کے وسیلہ سے بخشی گئی نجات کا حقیقی تجربہ نہیں کیا ہے۔ کلام پاک یہ دعوی کرتا ہے کہ "جو کوئی خدامیں قائم رہتا ہے وہ گناہ نہیں کرتا۔ جو کوئی گناہ کرتا ہے نہ اس نے اسے دیکھا ہے اور نہ اسے جانا ہے" (1 یوحنا 3:6)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



؟ کس طرح ہم روُح القدس حاصل کرتے ہیں