settings icon
share icon
سوال

آزادی مرکوز الہیاتی نظریہ (لبریشن تھیولوجی )کیا ہے؟

جواب


سادہ الفاظ میں کہیں تو آزادی مرکوز الہیاتی نظریہ ایک ایسی تحریک ہے جو غربیوں کی پریشان کُن حالت کے تعلق سے کلامِ مقدس کی تشریح کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کے مطابق یسوع کے حقیقی پیروکاروں کو ایک بہترین معاشرے کی تعمیر کرنے ، معاشرتی اور سیاسی تبدیلی لانے اور خود کو مزدورطبقے کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کےلیے کا م کرنا چاہیے۔ یسوع نے بھی جو خود غریب تھا غربیوں اور مظلوموں کو اہمیت دی تھی اور کوئی بھی حقیقی کلیسیا اُن لوگوں کو ترجیح دے گی جن کو گزشتہ دُور میں اہمیت نہیں دی گئی یاجن کا استحصال کیا جاتا رہا ہے ۔ کلیسیا کے تمام عقائد کو غریب لوگوں کی مدد کے نقطہ نظر کا پرچار کرنا چاہیے۔ اس نظریے میں غریبوں کے حقوق کا دفاع کرنا انجیل کے پیغام کے مرکزی پہلو کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔

آزادی مرکوز الہیاتی نظریہ کلامِ مقدس کو کس طرح غربیوں اور محتاجوں کے زاویے سے دیکھتا ہے یہاں اس کی ایک مثال ہے : لوقا 1باب 52-53 آیات میں مریم ان الفاظ کے ساتھ خدا کی تمجید کرتی ہے "اُس نے اِختیار والوں کو تخت سے گرا دیا اور پست حالوں کوبلند کِیا۔ اُس نے بھوکوں کو اچھّی چیزوں سے سیر کر دیا اور دولت مندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔" آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کے مطابق مریم خوشی کا اظہار کر رہی ہے کہ خدا نے مالی لحاظ سے امیر لوگوں کو پست کرتے ہوئے غریب لوگوں کو آزاد کیا اورجسمانی طور پر بھوکو ں کو سیر کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا ہی ہے جو دولت مندوں کی نسبت محتاجوں کی حمایت کرتا ہے ۔

آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کی جڑیں لاطینی امریکی رومن کیتھولک ازم کیساتھ جُڑی ہوئی ہیں ۔ اس نظریے کی ترقی کو بڑے پیمانے پر وہاں پھیلی غربت اور لاطینی امریکی معاشرے کے بڑے حصہ کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی کے خلاف ردّ عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔آزادی مرکوز نظریے کو فروغ دینے والی ایک بااثر کتاب فادر گسٹاوؤ گوٹیئرز کی تصنیف A Theology of Liberation,1971 ہے ۔

آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کی پُست پناہی کرنے والے لوگ پرانے عہد نامے کے انبیاء سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ملاکی 3باب 5آیت اُن لوگوں کے خلاف خدا کی عدالت کی خبر دیتی ہے جو مزدور وں پر ظلم کرتے ہیں :" مَیں عدالت کے لیے تمہارے نزدِیک آؤں گا اور جادوگروں اور بدکاروں اور جھوٹی قَسم کھانے والوں کے خلاف اور اُن کے خلاف بھی جو مزدُوروں کو مزدُوری نہیں دیتے اور بیواؤں اور یتیموں پر ستم کرتے اور مسافروں کی حق تلفی کرتے ہیں اور مجھ سے نہیں ڈرتے مستعد گواہ ہوں گا ربُ الافواج فرماتا ہے"(یسعیاہ 58باب 6-7 آیات؛ یرمیاہ 7باب 6آیت ؛ زکریاہ 7باب 10آیت بھی دیکھیں)۔ نیز لوقا 4باب 18آیت میں یسوع کے الفاظ بھی مظلوموں کےلیے اُس کی شفقت کا اظہارکرتے ہیں :"خُداوند کا رُوح مجھ پر ہے۔ اِس لئے کہ اُس نےمجھےغریبوں کو خوشخبری دینے کے لئےمسح کِیا۔ اُس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدِیوں کو رِہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناوُں۔ کچلے ہُوؤں کو آزاد کروں"( یسعیاہ 61باب 1آیت کے ساتھ موازنہ کریں )۔

کلیسیا کو فعالیت پسندی(activism) میں شامل ہونا چاہیے اس تصور کو فروغ دینے کےلیے آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کےحامی علماء متی 10باب 34آیت میں مرقوم یسوع کے الفاظ کا بھی استعمال کرتے ہیں : "یہ نہ سمجھو کہ مَیں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں"۔ آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کے مطابق یسوع نے معاشرتی استحکام پر نہیں بلکہ معاشرتی بد امنی پر زور دیا تھا ۔

آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کے ناقدین اسے مارکس ازم (کارل مارکس کے معاشی نظریات)کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایسی مذہبی ساخت کی حامل معاشرتی حکمت عملیوں کے طور پر دیکھتے ہیں جو ناکام ہو چکی ہیں ۔ مختلف پاپائے اعظم کے ساتھ ساتھ ویٹیکن عہدیداروں نے آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کے خلاف بات کی ہے ۔ کیتھولک کلیسیا کے عہدیداران کی طرف سے آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کی مخالف کی وجوہات یہ ہیں کہ یہ نظریہ عقائد سے بڑھ کر عملی کاموں پر زور دیتا ہے اور یہ کلیسیا کے اندر مرتبہ وار ڈھانچے کی بھی مخالفت کرتا ہےکیونکہ آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کے حامی ایسے مسیحی کہلانے والے گروہ کی وکالت کرتے ہیں جن کو عام طور پر base communities کہا جاتا ہے(بیس کمیونٹی نسبتاً ایک خود مختار مسیحی مذہبی گروہ ہے جو برادری ، عبادت اور بائبل کے مطالعہ کے ایک خاص نمونے کے مطابق کام کرتا ہے۔) ۔ یہ گروہ کلیسیا کے دائرہِ کار سے باہر خودمختار طور پر جمع ہوتا ہے اور کیتھولک راہبوں کو حقیقی طور پر نظرانداز کرتا ہے۔

آزادی مرکوز الہیاتی نظریہ جنوبی اور وسطی امریکہ میں غریب کسانوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ آزادی مرکوز الہیاتی نظریے کی مختلف اشکال ہیٹی اور جنوبی افریقہ میں بھی موجود ہیں ۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی کچھ کلیسیاؤں جیسے کہ (Jeremiah Wright’s Trinity United Church of Christ) میں سیاہ فارم لوگوں کی آزادی کے الہیاتی نظریے کی منادی کی جاتی ہے ۔ اس سے متعلقہ ایک اور الہیاتی نظریے کی حامل تحریک آزادیِ خواتین کا الہیاتی نظریہ ہے جو خواتین کو ایک مظلوم گروہ کے طور پر دیکھتا ہے جسے آزادہونا چاہیے ۔

بائبل مسیح کے پیروکاروں کو یقیناً غریبوں کی خبرگیر ی کرنے کا درس دیتی ہے ( گلتیوں 2باب 10آیت؛ یعقوب 2باب 15-16آیات؛ 1یوحنا 3باب 17آیت) اور ہمیں ناانصافی کے خلاف بات کرنی چاہیے۔ ہاں ، بائبل دولت کے فریب کے خلاف بھی بار بار خبردار کرتی ہے (مرقس 4باب 19 آیت)۔ تاہم آزادی مرکوز الہیاتی نظریہ دونکات میں غلط ثابت ہوتا ہے ۔ پہلی بات یہ کہ یہ نظریہ معاشرتی عمل کو انجیل کے پیغام کے برابر ٹھہراتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا چاہے لیکن یہ کام جتنا بھی ضروری کیوں نہ ہویہ مسیح کی خوشخبری کی جگہ نہیں لے سکتا ( دیکھیں اعمال 3باب 6آیت)۔ انسانیت کی بنیادی ضرورت معاشرتی نہیں رُوحانی ہے ۔ مزید برآں بشمول امیر لوگوں کے انجیل کا پیغام سب کےلیے ہے ( لوقا 2باب 10آیت)۔بچّے یسوع کو ملنے کے لیے آنے والوں میں چرواہے اور مجوسی دونوں شامل تھے اور دونوں گروہ کا استقبال کیا گیا تھا ۔ کسی بھی گروہ کو خدا کا پسندیدہ ہونے کی بنا ء پر خصوصی مقام دینا امتیازی سلوک روا رکھنا ہے اور خدا ایسا نہیں کرتا ( اعمال 10باب 34-35آیات)۔ معاشرتی ومعاشی ، نسلی اور صنفی بنیادوں پر فرقہ بندی کی بجائے مسیح کلیسیا میں اتحاد پیدا کرتا ہے ( افسیوں 4باب 15آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

آزادی مرکوز الہیاتی نظریہ (لبریشن تھیولوجی )کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries