settings icon
share icon
سوال

آزاد خیال مسیحی علم الہیات کیا ہے ؟

جواب


آزاد خیال مسیحی تعلیم بالکل بھی مسیحی نہیں ہے ۔ اِس میں انسانی عقل و شعور پر زور دیا جاتا اور اُسے ہی حتمی مستند بنیاد خیال کیا جاتا ہے ۔ آزاد خیال مذہبی عالمین مسیحیت کو سیکولر سائنس اور جدید سوچ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ سائنس کو علیم ِ کل اور بائبل کو افسانوں سے بھر پور جھوٹی کتاب کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ پیدائش کےابتدائی ابواب کو شاعری یا تصورات تک محدود کیا جاتا ہے جن میں پیغام تو ہے مگر انہیں حقیقی نہیں سمجھا جاتا ہے (باوجود اس کے کہ یسوع اِن ابتدائی ابواب کو حقیقی واقعات پر مشتمل ابواب کے طور پر بیان کر چکا ہے)۔اِس نظریے کے مطابق بنی نوع انسان کو مکمل بگاڑ کی حالت میں خیال نہیں کیا جا تا اور اس طرح آزاد خیال علم الہیات کے ماہر ین بنی نوع انسان کے مستقبل کے بارے میں پُرامید نظریہ رکھتے ہیں۔ سماجی انجیل کی خوشخبری پر بھی زور دیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب گناہ میں مبتلا انسان کے اس کو پورا کرنے کی ناقابلیت سے انکار کیا جاتا ہے۔ ابھی اِس بات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے گناہ سے بچ چکا ہے یا نہیں اور جہنم میں اُس کی سزاکو بھی مسئلہ خیال نہیں کیا جاتا۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے ساتھی انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اِس طرح ہمارے ساتھی انسان کے ساتھ "محبت" بنیادی معاملہ بن جاتی ہے۔ آزاد خیال علم ِ الہیات کے ماہرین کی اس "دلیل" کے باعث آزاد خیال نام نہاد مسیحی علم ِ الہیات کے ماہر ین کی طرف سے درج ذیل عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے :

1) بائبل " خدا کا الہام " نہیں ہے اور اِس میں غلطیاں ہیں ۔ اس نظریے کی وجہ سے انسان ( آزاد خیال علم ِ الہیات کے ماہرین ) کو اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ کون سی تعلیمات درست ہیں اور کون سی نہیں ۔ یہ عقیدہ کہ بائبل خدا کے " الہام " سے ہے ( یعنی کلام کے حقیقی معنی خدا کی طرف سے ہیں )صرف سادہ لوح لوگوں کی طرف سے قبول کیا جاتا ہے ۔ اُنکی یہ بات براہِ راست 2تیمتھیس 3باب 16-17آیات سے متصادم ہے : "ہر ایک صحیفہ جو خُدا کے اِلہام سے ہے تعلیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربیّت کرنے کےلئےفائدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خُدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکُل تیّار ہو جائے۔ "

2) مسیح کی کنوار ی مریم سے پیدایش جھوٹی تعلیمات پر مبنی افسانوی داستان ہے ۔ اُنکی یہ بات براہ راست یسعیاہ 7باب 14آیت سے متصادم ہے۔

3) یسوع جسمانی طور پر قبر سے زندہ نہیں ہوا تھا ۔ یہ بیان چاروں اناجیل اور پورے نئے عہد نامے میں یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بیانات سے متصادم ہے ۔

4) یسوع ایک اچھا اخلاقی استا د تھا لیکن اُس کے پیروکاروں اور آگے اُن کے پیروکاروں نے مسیح کی زندگی کی تاریخ (جو کوئی " مافوق الفطرت معجزات " نہیں تھے) کا استحصا ل کیا اور اناجیل سمیت اُسے کافی سالوں کے بعد قلمبند کیا گیا ہے جسے محض ابتدائی شاگردوں سے منسوب کر دیا گیا تھا تاکہ اُن کی تعلیمات زیادہ با اثر ظاہر ہو سکے ۔ اُنکی یہ بات 2تیمتھیس کے حوالے اور خدا کی طرف سے صحائف کے مافوق الفطرت تحفظ کے عقیدے سے متصادم ہے ۔

5) جہنم حقیقی مقام نہیں ہے ۔ انسان گناہ میں غرق نہیں ہے اور نہ ہی ایمان کے وسیلہ سے مسیح کے ساتھ تعلق کی غیر موجود گی میں وہ مستقبل کی کسی عدالت کا سامنا کرنے کا پابند ہے ۔ چونکہ ایک محبت کرنے والا خدا لوگوں کو جہنم جیسی کسی جگہ میں نہیں ڈالے گا اورچونکہ انسان گناہ میں پیدا نہیں ہوالہذاانسان اپنی مدد کر سکتا ہے اور مسیح کی کفارہ بخش موت کی انسانی نجات کے لیے ضرورت نہیں ہے۔ اُنکی یہ بات خود یسوع سے متصادم ہے جس نے اپنی کفارہ بخش موت کے وسیلہ سے خود کو خدا تک رسائی کی واحد راہ قرار دیا ہے ( یوحنا 14باب 6آیت)۔

6) بائبل کے انسانی مصفین زیادہ تر وہ نہیں ہیں جو روایتی طور پر مانے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اُن کا خیال ہےکہ موسیٰ نے بائبل کی پہلی پانچ کتب قلمبند نہیں کیں۔ دانی ایل کی کتاب کے دو مصنفین تھے کیونکہ ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ بعد کے ابواب کی تفصیلی " پیشن گوئیاں" اُسے وقت سے پہلے معلوم ہو سکیں؛ یہ ابواب اصل واقعات کے یقیناً بعد میں قلمبند کئے گئے تھے ۔ بالکل یہی سوچ نئے عہد نامے کی کتب تک جاری رہتی ہے۔ ایسے تصورات نہ صرف صحائف بلکہ اُن تاریخی دستاویزات سے بھی متصادم ہیں جو اُن تمام لوگوں کے وجود کی تصدیق کرتی ہیں جن سے آزاد خیال لوگ انکار کرتے ہیں۔

7) انسان کے لیے سب سے اہم کام اپنے پڑوسی سے "محبت" رکھنا ہے۔ کسی بھی صورتحال میں بائبل جس عمل کو محبت رکھنا قرار دیتی ہے وہ اچھا عمل نہیں بلکہ محبت بھر ا عمل وہ ہے جس کا آزاد خیال مذہبی ماہرین فیصلہ کرتے ہیں ۔ اُنکی یہ بات مکمل بگاڑ کے عقیدے کی تردید کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انسان اُس وقت تک کچھ بھی اچھا اور محبت بھرا کرنے سے قاصر ہے (یرمیاہ 17باب 19آیت) جب تک کہ اُسے مسیح کی طرف سے نجات اور نئی فطرت نہیں بخشی جاتی (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔

جو لوگ مسیح کی الوہیت کا انکار کریں گے اُن کے خلاف کتابِ مقدس کے بہت سے اعلانات ہیں ( 2پطرس 2باب 1آیت) – لیکن آزاد خیال مسیحیت ایسا ہی کرتی ہے ۔ کلام ِمقدس اُن لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہے جو رُسولوں کی طرف سے پیش کی گئی انجیل سے مختلف انجیل کی منادی کریں گے ( گلتیوں 1باب 8آیت)- آزاد خیال علم ِ الہیات کے ماہرین مسیح کی کفارہ بخش موت کی ضرورت کا انکار کرنے اور اِس کی جگہ سماجی انجیل کی منادی کرنے کی صورت میں ایسا ہی کرتے ہیں ۔ بائبل اُن لوگوں کی بھی مذمت کرتی ہے جو نیکی کو بدی اور بدی کو نیکی کہتے ہیں ( یسعیاہ 5باب 20آیت)- آزاد خیال کلیسیائیں ہم جنس پرستی کو متبادل طرز زندگی کے طور پر اپنانے کی صورت میں ایسا ہی کرتی ہیں گوکہ بائبل ایسے عمل کی بار بار مذمت کرتی ہے ۔

کلامِ مقدس اُن لوگوں کے خلاف بات کرتا ہے جو " سلامتی سلامتی " پکاریں گے جبکہ سلامتی نہیں ( یرمیاہ 6باب 14آیت)- آزاد خیال علم ِ الہیات کے ماہر یہ کہتے ہوئے ایسا ہی کر ر ہے ہیں کہ انسان صلیب پر مسیح کی کفارہ بخش موت کے بغیر بھی خدا کے ساتھ سلامتی بھرا تعلق قائم کر سکتا ہے اور یہ بھی کہ انسان کو مستقبل میں خدا کے حضور عدالت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ خدا کاکلام ایک ایسے وقت کا ذکر کرتا ہے جب انسان دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اُس کے اثر کو قبول نہ کریں گے ( 2تیمتھیس 3باب 5آیت)-اور یہی کام آزاد خیال علم الہیات کرتا ہے ۔ وہ بیان کرتا ہے کہ انسان میں کسی حد تک اندرونی بھلائی موجود ہے جو رُوح القدس کے ذریعے مسیح میں ایمان کے وسیلہ سے نئی پیدایش کا تقاضا نہیں کرتی ۔ اور بائبل اُن لوگوں کے خلاف بھی بیان کرتی ہے جو ایک سچے خدا کی بجائے بُتوں کی عبادت کریں گے (1تواریخ 16باب 26آیت)- آزاد خیال مسیحیت خدا کی اُس طور پر عبادت کرنے کی بجائے جیسا کہ تمام بائبل میں بیا ن کیا گیا ہے، اپنی پسند کے مطابق کوئی جھوٹا معبود بنانے کی صورت میں بُت پرستی ہی کرتی ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

آزاد خیال مسیحی علم الہیات کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries