settings icon
share icon
سوال

مَیں ایک والد/والدہ ہوں مَیں اپنے بالغ بچّوں کوخود سے کیسے علیحدہ ہو جانے دے سکتا/سکتی ہوں؟

جواب


بالغ بچّوں کو جانے دینا یا خود سے علیحدہ ہونے دینا تمام والدین کے لیے ایک جدوجہد ہے چاہے وہ مسیحی ہیں یا غیر مسیحی ۔ جب ہم غور کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کے تقریباً بیس سال بچّے کی پرورش، تربیت اور دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں تو یہ سمجھنا آسان ہو جاتاہے کہ اس کردار سے پیچھے ہٹ جانا اِس قدر مشکل کام کیوں ہے۔ زیادہ تر والدین بچّوں کی پرورش کرنے میں دو دہائیوں تک اپنا وقت، توانائی، محبت اور فکرمندی کو صرف کرتے ہیں ۔ اُن کی جسمانی، جذباتی، سماجی اور رُوحانی بہتر ی کے لیے ہم اپنے دل و دماغ اور رُوح کو خرچ کرتے ہیں اور جب ہماری زندگی کا یہ حصہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو یہ بہت مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے والدین جو خود کو "خالی گھر" میں پاتے ہیں وہ اختیار کو جاری رکھنے کے اپنے جذبے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اکثر اپنے بالغ بچّوں کے لیے محبت اور فکرمندی کا مناسب توازن تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔

بائبل کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ خُدا والدین کے کردار کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اچھی پرورش کرنے کے لیے کلام پاک میں بکثرت نصیحتیں پائی جاتی ہیں۔ والدین کو بچّوں کی پرورش "خُداوند کی طر ف سے تربیت اور نصیحت " کی روشنی میں کرنی ہے نہ کہ اُنہیں مایوس یا پریشان کرتے ہوئے (افسیوں 6باب 4آیت )۔ ہمیں بچّوں کو اچھی چیزیں دینی ہیں(متی 7باب 11آیت)، اُن سے محبت رکھتے ہوئے، تنبیہ کرتےہوئے ( امثال 13باب 24 آیت) اور اُن کی ضروریات پوری کرتے ہوئے(1تیمتھیس 5باب 8آیت ) اُن کی "اُس راہ پر تربیت " کرنی ہے جس پر اُنہیں جانا ہے (امثال 22 باب 6آیت )۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اکثر ایسے لوگ جو اپنے والدین کے کردار کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے لیتے اوراس میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہی بچّوں کو خود سے دور جانے دینے کے مرحلے میں سب سے زیادہ جدوجہد کرتے ہیں۔ غالباً بچّوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ماؤں کی شدید خواہش اور اُن کے بڑے ہونے کے دوران اُن کے ساتھ گزارے گئے کافی وقت کے باعث باپ سے زیادہ ماؤں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے بچّوں کو جانے دینےکا جو مشکل عمل ہے اُس کے مرکز میں کسی حد تک خوف بھی موجود ہوتا ہے۔ دنیا ایک خوفناک جگہ ہے اورخوفناک باتوں کے رونما ہونے کی بے شمار کہانیاں ہمارے خوف میں اضافہ کردیتی ہیں۔ جب ہمارے بچّے نابالغ ہوتے ہیں تو ہم اُن کے ہر لمحے کی نگرانی کر سکتے ، اُن کے ماحول کو قابو رکھ سکتے اور اُن کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑے اور بالغ ہوتے جاتے ہیں تو وہ خود ہی باہر کی دنیا میں جانا شروع کر دیتے ہیں۔ اب ہم اُن کی ہر حرکت پر قابو نہیں رکھتےکہ وہ کسے دیکھتے ہیں، کہاں جاتے ہیں، اور کیا کرتے ہیں۔ مسیحی والدین کے لیے یہی وہ مقام ہے جہاں اِس ساری تصویر کے اندر ایمان داخل ہوتا ہے۔ اِس زمین پر شاید کوئی بھی چیز ہمارے ایمان کا اس قدر امتحا ن نہیں لیتی جتنا امتحان وہ وقت لیتا ہے جب ہمارے بچّے اُن بندھنوں کو توڑنا شروع کر دیتے ہیں جن بندھنوں نے انہیں ہمارے قریب رکھا ہوتا ہے۔ بچّوں کو جانے دینے کا مطلب محض یہ نہیں ہے کہ اُنہیں دنیا میں جانے دیا جائے تاکہ وہ اپنے لیے بند و بست کریں ۔ بلکہ اِس کا مطلب اُنہیں ہمارے آسمانی باپ کے حوالے کر دینا ہے جو اُن کے ساتھ ہم سے زیادہ محبت رکھتا اور اپنی کامل مرضی کے مطابق اُن کی رہنمائی اور حفاظت کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اُس کے بچّے ہیں ؛وہ ہماری نہیں بلکہ اُس کی میراث ہیں۔ اُس نے اُنہیں تھوڑی دیر کے لیے ہمیں ادھار دیا اور اِس حوالے سے ہمیں ہدایات کی ہیں کہ اُن کی دیکھ بھا ل کیسے کرنی ہے ۔ لیکن آخر کار ہمیں انہیں اُس کے حوالے کرنا ہوگا اور یہ بھروسہ رکھنا ہوگا کہ وہ اُن سے محبت کرے گا اور اُن کی رُوحوں کی بالکل اُسی طرح سے پرورش کرے گا جس طرح ہم نے اُن کی جسمانی طور پر پرورش کی ہے۔ ہم جتنا زیادہ اُس پر بھروسہ رکھتے ہیں ہمارا ڈر اُتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے اور ہم اپنے بچّوں کو اُس کے حوالے کرنے کے لیے اُتنا ہی زیادہ رضا مند ہوتےجاتے ہیں۔

مسیحی زندگی میں بہت سی باتوں کی طرح بالغ بچّوں کو جانے دینے کی صلاحیت کا انحصار بھی اِس بات پر ہے کہ ہم اپنے خُدا کو کتنی اچھی طرح جانتے اور اُس کے کلام کے مطالعہ میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔ ہم کسی ایسے شخص پر بھروسہ نہیں کر سکتے جسے ہم نہیں جانتے اور خدا کو کلام ِ مقدس کے سوا کسی اور ذریعے سے نہیں جان سکتے ۔ جب خُدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ ہمیں ہماری برداشت سے زیادہ بڑی آزمایش میں نہ ڈالے گا (1 کرنتھیوں 10باب 13آیت ) تو جب تک کہ ہم اپنے دِلوں میں یہ نہ مان لیں کہ وہ وفادار ہے ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں ؟ استثنا 7باب 9آیت فرماتی ہے کہ " سو جان لے کہ خُداوند تیرا خُدا وُہی خُدا ہے۔ وہ وفادار خُدا ہے اور جو اُس سے مُحبّت رکھتے اور اُس کے حکموں کو مانتے ہیں اُن کے ساتھ ہزار پُشت تک وہ اپنے عہد کو قائِم رکھتا اور اُن پر رحم کرتا ہے۔" استثنا 32باب 4آیت اس بات سے اتفاق کرتی ہے: " وہ وُہی چٹان ہے۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں اِنصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خُدا اور بدی سے مُبرّا ہے۔ وہ مُنصف اور برحق ہے۔" اگر ہم اُس کے ہیں تو وہ ہمارے اور ہمارے بچّوں کے لیے وفادار رہے گا اور جتنا زیادہ ہم اُس کو جانتے اور اُس پر بھروسہ کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم اپنے بچّوں کو اُس کے قابل ہاتھوں میں دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اُس پر اور ہمارے بچّوں کے لیے اُس کے مقاصد پر ایمان کی کمی ہمارے بچّوں کو جانے دینےیا خود سے علیحدہ ہونے دینے میں ہماری نا اہلی یا نا خوشی کا باعث ہو گی ۔

پس بچّوں کے بالغ ہونے پر والدین کا کیا کردار ہے؟ یقیناً ہم کبھی بھی اُن سے دستبردار ہونے کے معنی میں اُنہیں 'جانے' نہیں دیتے۔ ہم اب بھی اُن کے والدین ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن جب کہ ہم اُن کی جسمانی طور پر پرورش اور حفاظت نہیں کرتے، پھر بھی ہم اُن کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند ہیں۔ مسیحی خاندان کے لیے اب وہ صرف ہمارے بچّے نہیں ہیں؛ اب وہ مسیح میں ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں اور ہم اُن سے ایسے ہی تعلق رکھتے ہیں جیسے ہم خُداوند میں اپنے دوسرے دوستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اُن کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اور جب پوچھا جائے تو ہم خدا کے ساتھ چلنے میں اُنہیں صلاح دیتے ہوئے اُن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ اگر ضرورت ہو تو ہم مدد پیش کرتے اور اُس کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کے اُن کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ آخر میں، ہم اُن کی رازداری کا بالکل اُسی طرح احترام کرتے ہیں جیسے ہم کسی دوسرے بالغ کی رازداری کا احترام کرتے ہیں۔ جب والدین بالآخر بالغ بچّوں کو جانے دیتے ہیں تو وہ اکثر اُن کے ساتھ اُس سے زیادہ مضبوط، گہرا اور زیادہ توقع بھرا رشتہ پاتے ہیں جس کا وہ کبھی تصور کر سکتے تھے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں ایک والد/والدہ ہوں مَیں اپنے بالغ بچّوں کوخود سے کیسے علیحدہ ہو جانے دے سکتا/سکتی ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries