settings icon
share icon
سوال

لیکٹیو ڈیوینا کیا ہے ؟

جواب


لیکٹیو ڈیوینا Lectio Divina ایک لاطینی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں "الٰہیاتی پڑھائی"، "رُوحانی پڑھائی" یا پھر "پاک پڑھائی" اور یہ عمل دُعا اور کلام کو پڑھنے کے ایسے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے پیش کیا جاتا ہے جن کی مدد سے خُدا کے ساتھ گفتگو کی جا سکتی ہے اور گہری رُوحانی بصیرت حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکٹیو ڈیوینا کے اصولوں کے بارے میں 220 بعد از مسیح کے قریب لوگوں کو علم حاصل ہوااور بعد میں رومن کیتھولک راہبوں خصوصی طور پر مُقدس پکومیئس، اگسٹن، باسل اور بیناڈکٹ نے اِن پر عملی مشقوں کی صورت میں عمل کیا۔

لیکٹیو ڈیوینا کی مشق کرنے کا رواج اِس وقت رومن کیتھولک کلیسیا اور غناسطی لوگوں کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہے اِسے نئے Emerging Church (ایک نئی کلیسیائی تحریک) کے اندر دھیان و گیان کی عملی مشقوں کے بہت ہی اہم حصے کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ پوپ بیناڈکٹ سولہویں نے 2005 میں اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ "مَیں خصوصی طور پر لیکٹیو ڈیوینا کی قدیم رسم کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہوں اور اُس کو اپنانے کی تحریک دینا چاہتا ہوں: کلامِ پاک کی دُعاؤں کے ساتھ جانفشانی سے کی گئی پڑھائی ایک بہت ہی گہری گفتگو کو جنم دیتی ہے جس میں پڑھائی کرنے والا شخص خُدا کی آواز کو سُنتا ہے جو کہ اُس پڑھائی کرنے والے کے ساتھ کلام کر رہا ہوتا ہے اور اپنی دُعا کے ذریعے وہ شخص خُدا کے کھلے دِل پر یقین رکھتے ہوئے خُدا کو جواب دیتا ہے۔" لیکٹیو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ مشق یا عمل ہے جسے دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے کلام کی پڑھائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں – چاہے وہ بھگوت گیتا ہو ، توریت ہو یا پھر قرآن ہو۔ غیر مسیحی اِس کے طریقہ کار کے اندر معمولی سا فرق کر کے اُسے اپنے رسوم و رواج کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ مزید برآں لیکٹیو ڈیوینا کے چار اصول جنگیان(سوستانی ماہرِ نفسیات کارل یونگ) کی نفسیات کے چار اصولوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ کئے جا سکتے ہیں جو کہ "حسوں کے ذریعے بھانپنا ، سوچنا، وجدان میں جانا اور محسوس کرنا ، " ہیں

لیکٹیو ڈیوینا کی اصل مشق اپنے آپ کو بالکل پُرسکون حالت میں لے جانے، مکمل طو ر پر آرام دہ حالت میں ہونے اور اپنے دماغ کو تمام فکروں اور خیالات سے خالی کرنے کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ لیکٹیو ڈیوینا کی مشق کرنے والے بہت سارے لوگ اِس طرح کا آغاز کرنے کے لیے گہرے سانس لینے اور اپنے ذہن کو تمام خیالات سے خالی کرنے کے لیے کسی ایک مخصوص لفظ یا کسی جملے کی بار بار دہرائی کو مددگار خیال کرتے ہیں۔ اِس کے بعد وہ چار مراحل پر عمل کرتے ہیں:

لیکٹیو/لیکشیو/Lectio –بائبل کے کسی ایک حوالے کو بڑے آرام سےکئی بار آہستہ آہستی پڑھنا۔ اِس عمل میں بائبل کو وہ حوالہ اتنا اہم نہیں جتنا اہم اُس کی پڑھائی کے ہر مرحلے سے لطف اندوز ہونا اور مسلسل طور پر ہر ایک لفظ ، فقرے اور جملے کی "گہری، پرسکون اور ہلکی سی آواز" کو سننے کی یوں کوشش کرنا جیسے وہ اِس عمل میں شامل شخص کیساتھ بات کر رہی ہو۔

میڈیٹیشیو/ Meditatio – اُس حوالے کے متن پردھیان و گیان کرنا اور یہ سوچنا کہ اُس کا اطلاق کسی شخص کی زندگی پر کیسے ہوتا ہے۔ اِس کو کلامِ مُقدس کی بہت ہی شخصی پڑھائی تصور کیا جاتا ہے اِس لیے اِس کا اطلاق بھی بہت شخصی قسم کا ہوتا ہے۔

اوریشیو/Oratio –خُدا کے سامنے اپنے دِل کو کھولنے کے ذریعے سے اُس حوالے کے اثر کا جواب دینا ۔ یہ کوئی بہت زیادہ ذہنی مشق نہیں ہوتی لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ خُدا کے ساتھ گفتگو کرنے کا آغاز ہے۔

کونٹیمپلاشیو/Contemplatio –خُدا کی آواز کو سننا۔ یہ اپنے ذہن کو دُنیاوی اور پاک سبھی طرح کے خیالات سے خالی کرنے کے بعد خُدا کی اُس آواز کو سننا ہے جو ہمارے ساتھ کلام کرتی ہے۔ اِس مشق کے دوران اپنے ذہن، دل اور رُوح کو خُدا کے اثر کو قبول کرنے کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔

فطری طور پر بائبل مُقدس کے مطالعے اور دُعا کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اِن دونوں چیزوں کو یکساں طور پر ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ بہرحال اوپربیان کی جانے والی مشق جیسے عوامل میں، ماورائی مراقبے اور دیگر خطرناک مذہبی رسومات کے ساتھ اِس کی حیران کن مماثلت کی بدولت اِس سے جڑے ہوئے خطرات کو ہمیشہ ہی بڑی احتیاط کیساتھ مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ قوی امکان ہے کہ یہ پراسرار تجربے کے حصول کا ایک ذریعہ بن جائے جس میں اصل مقصد اپنے ذہن کو تمام خیالات سے خالی کر کے خود کو طاقتور بنانا ہوتا ہے۔ مسیحیوں کو خُداکے کلام کو خُدا کی ذات کے بارے میں علم، اُسکی حکمت اور پاکیزگی کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ کلام اپنی سچائی کے مطابق اُن کے ذہنوں کو تبدیل کر دے۔ خُدا نے اپنے کلام میں کہا ہے کہ اُسکے لوگ عدم معرفت سے ہلاک ہوئے ہیں (ہوسیع 4باب6آیت)، نہ کہ اُس کے ساتھ کسی پراسرار اور شخصی رابطے کی وجہ سے۔

جو لوگ کلامِ مُقدس کے متن کے بارے میں ایک مافوق الفطرت نقطہ نظر اختیار کرتے ہیں وہ اِسے اِس کے اصل سیاق و سباق اور لغوی و فطری معنی سے منقطع کر دیتے ہیں اور اِسے ایک شخصی، انفرادی اور تجرباتی طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ اِس کا قطعی طور پر حقیقی مقصد نہیں ہے۔ لیکٹیو/لیکشیو اور غناسطیت میں جو مماثلت پائی جاتی ہے وہ ذیل میں پیش کی گئی ہے۔ مسیحی غناسطیت یہ عقیدہ ہے کہ ہر کسی کو گناسس (یونانی لفظ گناسکو سے ماخوذ بمعنی جاننا) یا گہرا اور پُراسرار علم حاصل کرنا ہے جو اُسی صورت میں حاصل ہوگا جب ہر کوئی سب چیزوں کا آغاز اچھے طریقے سے کرے گا۔ صرف چند ایک لوگ ہی ہیں جو اِس پُراسرار علم کو حاصل کر سکتے ہیں۔ فطری طور پر ایسا خاص علم حاصل کرنے کا تصور بہت زیادہ دلکش ہے اور اُس علم کو جاننے والا محسوس کرتا ہے کہ وہ اہم اور دوسروں سے منفرد ہے کیونکہ اُس نے خُدا کے بارے میں اُس خاص علم کا تجربہ کیا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ایسا "علم جاننے والا" خیال کرتا ہے کہ عام لوگوں کے ہجوم ایسا رُوحانی علم نہیں حاصل کر سکتے اور صرف وہی جو "روشن خیال" ہیں وہ خُدا کے بارے میں علم اور اُسکی ذات کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اِس طرح دھیان و گیان اور توجہ مرتکز کرنے والی دُعا ، مراقبے کی ایک نئی مشق کا دوبارہ سے تعارف کروایا جاتا ہے جو دراصل خُدا کی ذات کے ساتھ خاص اور پُر اسرار تجربے پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہے۔ دھیان و گیان کی دُعا ایسے مراقبے سے ملتی جلتی ہے جس کا بہت زیادہ استعمال مشرقی مذاہب اور نیو ایج بدعات کے اندر بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ بائبل کے اندر ایسے کسی عمل کی کوئی بنیاد نہیں ہے حالانکہ ایسے دھیان و گیان کی دُعائیں کرنے والے اپنے اِس عمل کے آغاز پر بائبل ہی کو استعمال کرتے ہیں۔

مزید برآں اپنے ذہنوں کو کھولنے اور مختلف طرح کی آوازوں کو سننے کے لیے کھلا چھوڑ دینے کے فطری نقصانات بہت واضح طور پر دیکھے جانےچاہییں۔ اِس طرح کی دھیان و گیان پر مبنی دُعائیں کرنے والےکسی نہ کسی آواز کو سننے کے لیے اِس قدر زیادہ اپنا ذہن بنائے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کسی خیال، خُداکی آواز اور حتیٰ کہ اُن کے ذہن میں ابلیس یا بد اَرواح کی طرف سے ڈالے جانے والے خیالات میں واضح فرق کرنے کی صلاحیت کو کھو دیتے ہیں۔ شیطان اور اُس کی بد اَرواح ہمیشہ ہی ایسے ذہنوں کے اندر گھسنے کے لیے بے چین رہتے ہیں جن میں بصیرت یا امتیاز نہیں پایا جاتا اور ایسی صورت میں اپنے دل و دماغ کو کسی بھی طرح کی ایسی آوازوں کے لیے کھول رکھنا در اصل رُوحانی طو رپر تباہی کو دعوت دینا ہے۔ ہمیں یہ کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ابلیس گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھر رہا ہے کہ کسے پھاڑ کھائے (1 پطرس 5باب8آیت) اور وہ کبھی بھی اپنے آپ کو نورانی فرشتے کے روپ میں بھی ظاہر کر سکتا ہے (2 کرنتھیوں 11باب14آیت)، اور وہ ہر وقت ہمارے کھلے اور رضا مند ذہنوں کے اندر اپنی دھوکا دہی کی سرگوشی کر رہا ہوتا ہے۔

آخر میں لیکٹیو ڈیویناکی طرف سے کلامِ مُقدس کے ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہونے پر جو حملہ کیا جاتا ہے وہ بہت واضح طور پر نظر آتا ہے۔ جہاں پر بائبل اِس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سب کچھ جس کی ہمیں مسیحی زندگی گزارنے کے لیے ضرورت ہے وہ بائبل مُقدس کے اندر ہے(2 تیمتھیس 3باب16آیت) تو ایسے میں لیکٹیو ڈیوینا کے حامی اِس سچائی کا انکار کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو خُدا کے ساتھ خاص بات چیت کرنے اور اُس کی خاص آوازوں کو سننے کے ذریعے سے دُعا کرتے ہیں وہ خُدا سے ہر بار ایک نیا مکاشفہ مانگ رہے ہوتے ہیں اور وہ دراصل کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جو کچھ خُدا نے پہلے اپنے کلام کی صورت میں نازل کیا تھا اُس کو وہ نظر انداز کر دے اور اپنے ابدی کلام سے متعلق اپنے تمام وعدوں سے مکر جائے ۔ 19زبور 7-14 آیات کے اندر خُدا کے کلام کے کافی ہونے کے بارےمیں ایک حتمی بیان ملتا ہے۔ خُدا کی شریعت "کامل ہے اور جان کو بحال کرتی ہے۔"یہ برحق ہے نادان کو دانش بخشتی " ہے۔ خُداوند کے قوانین "راست" ہیں وہ" دل کو فرحت" پہنچاتے ہیں، خُداوند کا حکم" بے عیب" ہے وہ آنکھوں کو" روشن" کرتا ہے۔ خُداوند کے احکام "برحق اور بالکل راست " ہیں۔ وہ "سونے سے بلکہ بہت زیادہ کندن سے زیادہ پسندیدہ "ہیں۔ اگر اِس زبور میں خُدا کی طرف سے جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ خُدا کی اپنی مرضی کے مطابق بالکل درست ہے تو پھر ہمیں کسی بھی طرح کے اضافی مکاشفہ جات کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور خُدا سے مزید مکاشفہ جات کی درخواست کرنا حقیقت میں اُس کے پہلے سے ظاہر کردہ مکاشفے کو رَد کرنا ہے۔

پرانے اور نئے عہد نامے میں خُدا کا وہ کلام ہے جس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے، اُس پر دھیان و گیان کیا جانا چاہیے، اُس کی روشنی میں دُعا کی جانی چاہیے اورخُدا کے بارے میں اپنے علم میں اضافے کے لیے اِس کو ذہن نشین کرنا چاہیے تاکہ وہ خُدا کی طرف سے اُس اختیار کو حاصل کر سکیں جو اُس کے کلام کے اندر پایا جاتا ہے۔ اور خُدا کے یہ الفاظ کسی طرح کے پراسرار تجربات یا اپنی ذاتی اندرونی طاقت یا اندرونی امن کے احساس کے لیے نہیں ہیں۔ سب سے پہلے خُدا کے بارے میں بہتر اور گہرا علم ضروری ہے اور پھر اُس علم کی روشنی میں خُدا کے ساتھ چلنے کا خاص تجربہ ہوتا ہےاوراُس سے ہمارے ذہنوں میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ جب تک کوئی بھی شخص بائبل مُقدس اور دُعا کے بارے میں ایسا نظریہ رکھتا ہے تو پھر وہ اُسی طرح کے دھیان و گیان اور دُعا میں شامل ہوتا ہے جس کے بارے میں خُداوند یسوع مسیح کے سبھی پیروکاروں کو اُسکی طرف سے حکم دیا گیا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

لیکٹیو ڈیوینا کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries