چھوڑنے اور ملے رہنے سے کیا مراد ہے؟



سوال: چھوڑنے اور ملے رہنے سے کیا مراد ہے؟

جواب:
"اِس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے مِلا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے" (پیدائش باب 2 آیت 24)۔ دیگر تراجم "چھوڑنے اور ملے رہنے" کو "چھوڑنے اور متحد ہونے" (این۔آئی۔وی)، "چھوڑنے اور اِکٹھے ہونے"(این۔اے۔ایس۔بی)، اور "چھوڑنے اور تھامے رکھنے"(ای۔ایس۔وی) کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لہذہ، اپنے ماں باپ کو چھوڑنے اور اپنی بیوی سے ملے رہنے کا ٹھیک مطلب کیا ہے؟

جیسا کہ پیدائش باب 2 میں درج ہے، خُدا نے آدم کو پہلے خلق کیا اور پھر حوا کو بنایا۔ خُدا حوا کو خُود آدم کے پاس لایا۔ خُدا نے خود مقرر کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقدس ازدواج میں ملے رہیں۔ اُس نے فرمایا کہ وہ دونوں ایک تن ہوں گے۔ یہ ازدواجی مِلاپ، محبت کے عمل کی ایک تصویر ہے جو کہ کسی اور کو کبھی شامل نہیں کرتی۔ "ملے رہنے" کا مطلب "چپکے رہنا، چمٹے رہنا، اور جُڑے رہنا" ہے۔ یہ ایک وجود میں دو لوگوں کا منفرد ملاپ ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ جب زندگی بہتر نہ ہو رہی ہو تو ہم اُن سے دستبردار نہیں ہوتے۔ اِس میں گفتگو سے مسلہ حل کرنا، دُعا کے ذریعہ مسلہ حل کرنا، صبر کرنا، اور خُدا پر بھروسہ کرنا کہ وہ آپ دونوں کے دِلوں میں کام کرے گا، جب آپ سے غلطی ہو جائے تو اپنی غلطی کو ماننا اور معافی مانگنا، اور روزانہ خُدا کے کلام میں اُس کی مشورت کی تلاش کرنا شامل ہیں۔

اگر میاں بیوی دونوں میں سے کوئی بھی چھوڑنے اور ملے رہنے میں ناکام ہوتا ہے، تو اِن کا نتیجہ ازدواجی مسائل ہوں گے۔ اگر میاں بیوی حقیقی طور پر اپنے والدین کو چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں، تو اِن کا نتیجہ جھگڑا اور ذہنی دباؤ ہو گا۔ اپنے والدین کو چھوڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اُن کو نظر انداز کردیں، یا اُن کے ساتھ بالکل وقت نہ گزاریں۔ اپنے والدین کو چھوڑنے کا مطلب ہے کہ آپ اِس بات کو سمجھیں کہ آپ کی شادی نے ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھی ہے اور یہ کہ آپ اپنے سابقہ خاندان سے زیادہ اِس نئے خاندان کو اعلیٰ فوقیت دیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ ملے رہنے سے انکار کریں، تو نتیجہ دوستی اور اتحاد کی کمی ہو گا۔ اپنے شریک حیات کے ساتھ ملے رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہر لمحہ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ رہیں، یا اپنے ازدواج سے باہر کوئی پُر معنی دوستی نہ کریں۔ اپنے شریکِ حیات سے ملے رہنے کا مطلب ہے کہ آپ سمجھیں کہ آپ اپنے شریکِ حیات کےساتھ جُڑے ہیں، اور بنیادی طور پر اُس کے ساتھ "چپکے" ہوئے ہیں۔ ملے رہنا شادی کی تعمیر کی کُلید ہےجو کہ مشکل وقت کو برداشت کرے گی اور تعلقات کو خوبصورت بنائے گی جیسا کہ خُدا اِرادہ رکھتا ہے ۔

شادی کے بندن میں "چھوڑنا اور ملے رہنا" اتحاد کی ایک تصویر بھی ہے جو خُدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ رکھیں۔ "تم خُداوند اپنے خُدا کی پیروی کرنا اور اُس کا خوف ماننا اور اُس کے حکموں پر چلنا اور اُس کی بات سُننا۔ تُم اُسی کی بندگی کرنا اور اُسی سے لپٹے رہنا" (اِستثنا باب 13 آیت 4)۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم تمام دُوسرے دیوتاؤں کو چھوڑ دیں، وہ کسی بھی شکل میں ظاہر ہوں، اور صرف اُسے اپنا خُدا مانتے ہوئے اُس کے ساتھ جُڑے رہیں۔ ہم اُس کے ساتھ ملے رہتے ہیں جیسے ہی ہم اُس کا کلام پڑھتے ہیں اور اُس کے اختیار کو اپنے اُوپر مسلط کرتے ہیں۔ پھر جب ہم اُس کے قریب آتے ہیں، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ ملے رہنے کےلئے اپنے ماں باپ کو چھوڑنے کے لئے اُسکی ہدایت وابستگی اور حفاظت کو دریافت کرنا ہے، جیسا کہ اُس نے اِرادہ کیا ہے۔ خُدا شادی کے لئے اپنے قائم کردہ ڈیزائن کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔ چھوڑنا اور ملے رہنا اُن لوگوں کے لئے خُدا کا منصوبہ ہے جو شادی کرتے ہیں۔ جب ہم خُدا کے منصوبہ کی پیروی کرتے ہیں، تو ہم کبھی بھی مایوس نہیں ہوتے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



چھوڑنے اور ملے رہنے سے کیا مراد ہے؟