مقدمہ بازی سے متعلق کلام پاک کیا کہتا ہے؟



سوال: مقدمہ بازی سے متعلق کلام پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
پولس رسول کرنتھیوں کے مسیحیوں کو تاکید کرتاہےکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ بازی نہ کریں۔ (1 کرنتیھوں 8-1 :6)۔ مسیحیوں کے لئے ایک دوسرے کو معاف نہ کرنا اور اپنا مقدمہ آپس میں سلچا کر سمجھوتہ نہ کرنا یہ روحانی شکست کو ظاہر کرنا ہوتاہے۔ ایک شخص کیوں مسیحی بننا چائے گا اگر مسیحیوں کےبیچ خود ہی طرح طرح کی پریشانیاں ہیں اور انکا حل ڈھونڈنے میں صلاحیت نہ رکھتے ہوں اور عدالت کا سہارا لیتے ہوں؟ کسی طرح کچھ الات ضرور ہیں جب قانون کا سہارا لینے کی ضرورت آن پڑ سکتی ہے۔ اگر آپس میں میل ملاپ کرنے کے لئے کلام پاک کے نمونہ کو اپنایا جائے تو یہ بہتر ہوگا (متی 17-15 :18)۔ اور اگر مدعی پھر بھی غلط چال چل رہاہو تو قانون کا سہارا لینا جائز ہے۔ (یعقوب 1:5) اس کو بھی بہت زیادہ حکمت کے لئے دعاکے ساتھ خدا پرست روحانی لوگوں کی رہنمائی میں ہو کر کی جانی چاہئے۔

1 کرنتھیوں 6-1 :6 کا کل سیاق عبارت کلیسیا میں جھگڑوں کو لے کر برتاؤ کو پیش کرتی ہے مگر پولس مقدمہ بازی کاحوالہ تب دیتاہے جب وہ باتیں جو اس زندگی سے سروکار رکھتی ہیں ان سے متعلق فیصہ سنانے کی نوبت آتی ہے۔ پولس کا مطلب یہ ہے کہ عام زندگی سے تعلق رکھنے والی باتیں جو کلیسیا سے باہر ہیں انہیں عدالت میں نہ لےجائیں مگر کلیسیا کے اندر کی باتوں کو دنیوی عدالت میں نہیں لے جاتا چاہئے بلکہ ان کا فیصلہ کلیسیا کے اندر ہی ہونا چاہئے۔

اعمال کا 21 اور 22 باب پولس کی گرفتاری کا بیان کرتاہےکہ جوجرم اس نے نہیں کیا تھا اس کے لئے کس طرح اس پرجھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔ رومی جکومت نے اسکو گرفتار کیا تھا اور پلٹن کے سردار نے اس کو قلعہ کے اندر لے جا کر اس کے کوڑے لگانے کاحکم دیا تھا کہ وہ اپنا جرم قبول کرے۔ وہ جاننا چاہتاتھاکہ اس کے خلاف آوازاٹھانے والی بھیڑ اس سے کیوں غضبناک تھی اور سپاہیوں نے پولس کو کوڑے مارنے کی کوشش کی تھی۔ مگرپولس نے اس فوجی افسر سے جو اس کے ساتھ کھڑا تھاکہا کہ "کیایاک رومی شہری کو اس کے جرم کا فیصلہ ہوئے بغیر کوڑے لگانا غیر قانونی نہیں ہے؟ تب افسر گھبرا گیا اور پولس کو کوڑے لگانے سے باز آیا۔ پولس نے اپنے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے رومی شہری ہونے کے حق کو لے کر قانون کااستعمال کیا۔ سو مقدمہ بازی کا استعمال کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے بشرطیکہ اسے صحیح نیت یا صاف دلی سے انجام دیا جائے۔

آگے پولس اس طرح بیان کرتاہےکہ "لیکن در اصل تم میں بڑا نقص یہ ہےکہ آپس میں مقدمہ بازی کرتے ہو۔ ظلم اٹھانا کیوں نہیں بہترجانتے؟ اپنا نقصان کویں نہیں قبول کرتے"؟ (1 کرنتیھوں 6:7)۔ یہاں پولس کا غرض ایک ایما ندار کی گواہی سے ہے۔ زیادہ سے زیادہ بہتر ہمارے لئے یہ ہوگا کہ ہم موقع کا فائدہ اٹھائیں۔ یہاں تک کہ گالی بھی سہنا پڑے تو کوئی بات نہیں۔ تو پھر ہمارے لئے یہ ہوگا کہ ایک شخص کو مسیح میں لینے کے بعد بھی اس آدمی یا عورت کو کورٹ میں لے جانے کے ذریعہ مسیح سے اور دور کردیں۔ کونسی بات زیادہ ضروری ہے– ایک قانونی لڑائی یا ایک شخص کی روح کوابدیت کے لئے بچانے کی لڑائی؟

مختصر طور پرکیا مسیحی لوگوں کو کلیسیا کے معاملے میں ایک دوسرے کی مقدمہ بازی کرنی چاہئے؟ بالکل نہیں! کیا مسیحی لوگوں کو معاشرتی معاملے میں ایک دوسرے کی مقدمہ بازی کرنی چاہئے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ اگر کسی طرح معاملہ ٹل جائے یا سلجھ جائے تو زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔ ورنہ ایک مسیحی کو معاشرتی معاملہ میں کسی غیر مسیحی کو مقدمہ بازی کے لئے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔ کسی طرح کچھ حالات میں جیسے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے (جس طرح پولس رسول کی مثال تھی) ایک مناسب قانونی حل کا تعاقب کیا جا سکتا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



مقدمہ بازی سے متعلق کلام پاک کیا کہتا ہے؟