یاِس بات کا کیا مطلب ہے کہ یسوع نے شریعت کو منسوخ نہیں کیا بلکہ پُورا کیا ہے؟


سوال: یاِس بات کا کیا مطلب ہے کہ یسوع نے شریعت کو منسوخ نہیں کیا بلکہ پُورا کیا ہے؟

جواب:
متی کے ریکارڈ میں جِسے عام طور پر پہاڑی واعظ کہا جاتا ہے، یسوع کے یہ الفاظ درج ہیں: "یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں ۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پُورا نہ ہو جائے" (متی باب 5 آیات 17 تا 18)۔

اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر یسوع نے شریعت کو "منسوخ" نہیں کیا، تو اِس کی تعمیل ابھی بھی ہونی چاہیے۔ اِس کے مطابق، سبت کے دن کے مطالبات کے طور پر اِس طرح کے اجزاء کو ابھی بھی موسوی شریعت کے متعدد دوسرے عناصر کے ساتھ موثر ہونا چاہیے۔ اِس مفروضے کی بُنیاد اِس حوالے کے الفاظ اور اِرادے کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسیح نے یہاں یہ تجویز نہیں دی کہ موسیٰ کی شریعت کی واجب التعمیل فطرت ہمیشہ موثر رہے گی۔ اِس طرح کا نظریہ ہر اُس بات سے اختلاف کرے گا جو ہم نئے عہد نامہ کے تناسب سے سیکھتے ہیں (رومیوں باب 10 آیت 4؛ گلتیوں باب 3 آیات 23 تا 25؛ افسیوں باب 2 آیت 15)۔

اِس مطالعہ میں خاص اہمیت کا حامل لفظ "منسوخ" ہے۔ یہ لفظ یونانی اصطلاح "کٹالووہ" کا ترجمہ ہے جِس کے لفظی معنی "کھولنے/آزاد کرنے/چھوڑنے/الگ کرنے" کے ہیں۔ یہ لفظ نئے عہد نامہ میں سترہ دفعہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ لفظ رومیوں کی طرف سے یہودی ہیکل کی تباہی (متی باب 26 آیت 61؛ باب 27 آیت 40؛ اعمال باب 6 آیت 14)، اور موت پر انسانی جسم کے ختم ہونے کے لئے استعمال ہوا ہے (دوسرا کرنتھیوں باب 5 پہلی آیت)۔ اِس اصطلاح کے وسیع معنی "مغلوب کرنا" بھی ہو سکتے ہیں مثال کے طور پر "خالی کرنا/کھوکھلا کرنا، کامیابی سے محروم کرنا"۔ کلاسیکل یونانی میں، یہ لفظ آئین، قوانین وغیرہ کو"باطل کرنے " کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا تھا۔

اِس بات پر غور کرنا خاص طور پر اہم ہے کہ متی باب 5 آیت 17 میں یہ لفظ کیسے استعمال کیا گیا ہے۔ اِس سیاق وسباق میں لفظ "منسوخ"، "پورا کرنے" کی مخالفت میں استعمال کیا گیا ہے۔ مسیح "منسوخ کرنے نہیں۔۔۔بلکہ پُورا کرنے" آیا تھا۔ یسوع قوانین کی مخالفت کرنے کے مقصد سے دُنیا میں نہیں آیا تھا۔ اُس کا مقصد اِس تکمیل کو روکنا نہیں تھا۔ بلکہ اُس نے اِس کا احترام کیا، اِس سے محبت کی، اِس کے تابع رہا، اور اِسے پھلدار بنایا۔ اُس نے اپنے بارے میں شریعت کے نبوتی اظہار کی تکمیل کی (لوقا باب 24 آیت 44)۔ مسیح نے موسوی شریعت کے اُن تقاضوں کو پُورا کیا جو "لعنت" کے ماتحت کامل فرمانبرداری کے لئے طلب کئے جاتے تھے (دیکھیں گلتیوں باب 3 آیت 10 اور 13)۔ اِس مفہوم میں شریعت کا الہٰی ڈیزائن ہمیشہ ایک مستقل اثر رکھے گا۔ یہ ہمیشہ اُس مقصد کو پورا کرتا رہے گا جِس کے لئے یہ دیا گیا تھا۔

تاہم اگر موسیٰ کی شریعت اپنی قابلِ تعمیل حثییت کے لحاظ سے آج بھی انسانوں کے ساتھ وہی تعلق رکھتی ہے، تو پھر اِسے پُورا نہیں کیا گیا، اور یسوع اُس مقصد میں ناکام ہو گیا جِس کے لئے وہ آیا تھا۔ دوسری طرف ، اگر خُداوند نے اپنے مقصد کو پُورا کیا تھا، تو پھر شریعت کی تکمیل ہو گئی تھی، اور آج یہ واجب التعمیل قانونی آئین نہیں رہا۔ اِس کے علاوہ اگر موسوی شریعت کی تکمیل مسیح کی طرف سے نہیں ہوئی تھی اور اِس طرح آج بھی قابلِ تعمیل قانونی نظام کی حثییت سے قائم ہے، تو یہ صرف جزوی طور پر واجب التعمیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک مکمل طور پر قابلِ تعمیل نظام ہے۔ یسوع نے واضح طور پر فرمایا کہ جب تک سب باتیں پُوری نہ ہو جائیں شریعت کا "ایک نقطہ یا شوشہ"(عبرانی تحریر کے سب سے چھوٹے نشانات کا نمائندہ) ہرگز نہ ٹلے گا۔ اِس کے نتیجے میں، شریعت کی کسی بات کو ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جب تک اُس نے اپنے مقاصد کو مکمل طور پر پُورا نہ کر دیا۔ یسوع نے شریعت کو پُورا کیا تھا۔ یسوع نے شریعت کی سب باتوں کو پُورا کیا تھا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یسوع نے قُربانیوں کے نظام کو پُورا کیا، لیکن شریعت کے دوسرے پہلوؤں کو پُورا نہیں کیا تھا۔ یسوع نے ساری شریعت کو پُورا کیا تھا۔ یسوع کی موت کا جو مطلب قُربانیوں کے نظام کے لئے ہے، وہی مطلب شریعت کے دیگر پہلوؤں کے لئے ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
یاِس بات کا کیا مطلب ہے کہ یسوع نے شریعت کو منسوخ نہیں کیا بلکہ پُورا کیا ہے؟