خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کی کلید کیا ہے؟


سوال: خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کی کلید کیا ہے؟

جواب:
ہم سب کے اندر جانے جانے اور دوسروں کو جاننے کی شدید خواہش پائی جاتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام لوگ بشمول اُن کے بھی جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے،اپنے خالق کو جاننا چاہتے ہیں ۔ آج کل ہمیں ایسے بہت سارے طریقوں کی لاانتہا تشہیر بازی کا سامنا ہے جو یہ وعدہ یا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہماری زیادہ جاننے، اور زیادہ کچھ حاصل کرنے اورمزید کچھ بننے کی خواہش کی تسکین کر سکتے ہیں۔ تاہم دنیا کے کھوکھلے وعدےہمیں خدا کو پوری طرح سے جاننے کے اعتبار سے کبھی مطمئن نہیں کر پائیں گے ۔ یسوع مسیح نے فرمایا ہے "اور ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یسو ع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں" ( یوحنا 17باب 3آیت)۔

پس " خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کی کلید کیا ہے؟" سب سے پہلے ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسان اپنی بدی کے باعث اپنے طور پر خدا کو پوری طرح سے جاننے سے قاصر ہے ۔ کلام مقدس واضح کرتا ہے کہ ہم سب ہی گنہگار ہیں ( رومیوں 3باب ) اور یہ بھی کہ ہم خدا کے ساتھ رفاقت کے لیے درکار پاکیزگی کے معیار پر پورا نہیں اُترتے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمارے گناہ کا نتیجہ موت ہے (رومیوں 6باب 23آیت) اور اگر ہم یسوع کے صلیبی کفارے کونہیں مانتے اور اُسے قبول نہیں کرتے تو ہم خدا کے بغیر ہمیشہ کی موت کا سامنا کریں گے ۔ پس خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کےلیے ہمیں پہلے اُسے اپنی زندگیوں میں قبول کرنا ہو گا ۔ "لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں"(یوحنا 1باب 12آیت)۔چونکہ جب خدا کو جاننے کی بات کی جائے تو اس سچائی کو سمجھنے سے زیادہ اہمیت کی حامل کوئی اور بات نہیں ہے۔ یسوع یہ پوری طرح واضح کرتا ہے کہ صرف وہی فردوس کی راہ اور خدا کی ذات کے بارے میں شخصی علم ہے : "یسو ع نے اُس سے کہا کہ راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں ۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا"(یوحنا 14باب 6آیت)۔

اس سفر کی شروعات کےلیے مذکورہ بالا وعدوں کو ماننے اور قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور لازمی شرط نہیں ہے۔ یسوع دنیا میں اس کےلیے آیا تھا کہ خود کو بطور قربانی پیش کرنے کے وسیلہ سے ہمیں ہمیشہ کی زندگی بخشے تاکہ ہمارا گنا ہ خدا کو جاننے کے عمل میں رکاوٹ نہ ہو ۔ ایک بار جب ہم اس سچائی کو قبول کرلیتے ہیں تو ہم خدا کو ذاتی طور پر جاننے کا سفر شروع کرسکتے ہیں۔ اس سفر کا ایک اہم جزو اس بات کو سمجھنا ہے کہ بائبل خدا کا کلام اور اُس کی ذات کا مکاشفہ ہے جو اُس کی مرضی اور وعدوں پر مشتمل ہے ۔ بائبل بنیادی طور پرہمارے لیے اُس خدا کی طرف سے لکھا ہوا ایک محبت بھرا خط ہے جس نے ہمیں اس لیے تخلیق کیا ہے کہ ہم اُسے گہرے طور پر جان سکیں ۔ پس اپنے خالق کے بارے میں جاننے کا اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہے کہ خودکو اُس کے کلام کے مطالعے میں محو کر دیا جائے جو حقیقت میں خُدا کی پہچان دینے کے لیے ہی نازل کیا گیا تھا؟ اور یہ بھی ضروری ہے کہ پورے سفر کے دوران اس عمل کو جاری رکھا جائے ۔ پولس رسول تیمتھیس کو لکھتا ہے " مَیں تیرے پاس جلد آنے کی اُمّید کرنے پر بھی یہ باتیں تجھے اِس لئے لکھتاہوں۔ کہ اگر مجھے آنے میں دیر ہو تو تجھے معلوم ہو جائے کہ خُدا کے گھر یعنی زِندہ خُدا کی کلیسیا میں جو حق کا ستون اور بنیاد ہے کیوں کر برتاؤ کرنا چاہئے۔ اِس میں کلام نہیں کہ دِین داری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جسم میں ظاہِرہوا اور رُوح میں راست بازٹھہرا اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا اور غیر قوموں میں اُس کی مُنادی ہوئی اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا" (1تیمتھیس 3باب 14- 16آیات)۔

آخری بات، خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کے عمل میں کلام مقدس کی باتوں پر عمل پیرا ہونے کا ہمارا پختہ عزم بھی شامل ہے ۔ اس لیے کہ ہمیں نیک کام کرنے کےلیے پیداکیا گیا ہے ( افسیوں 2باب 10آیت) تاکہ ہم خدا کے اُس منصوبے کا ا ہم حصہ بن سکیں جو اُس نے خود کو مستقل طور پر دنیا پر عیاں کرنے کے لیے تیار کیا ہے ۔ ہم اُس ایمان کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے بُلائے گئے ہیں جو خدا کو جاننے کےلیے لازمی شرط ہے ۔ ہم اس زمین پر نمک اور روشنی ہیں ( متی 5باب 13-14آیات) جنہیں دنیا میں خدا کے ذائقے کو متعارف کرنے اور تاریکی میں روشنی کے طور پر کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ ہمیں نہ صرف خدا کے کلام کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے بلکہ ہمیں اس کے ساتھ وفادار رہنے اورفرمانبرداری سے اپنی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ضرورت بھی ہے ( عبرانیوں 12باب)۔ یسوع خدا سے پیار کرنے اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھنے پر بڑا زور دیتا ہے ( متی 22باب )۔ کلام مقدس میں بیان کردہ سچائی کو پڑھنے اور اُس کا اپنی زندگی پر اطلاق کرنے کے عزم کے بغیر اِس حکم پر عمل پیرا ہونا ناممکن ہے ۔

یہ خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کی کلیدہے ۔ ہماری زندگی میں یقینا ً دُعا ، عقیدت ، رفاقت ، اور عبادت کے لیے مستقل مزاجی جیسی بہت سی اور چیزیں بھی شامل ہونی چاہیے ۔ لیکن صرف وہی لوگ اپنی زندگی میں یسوع اور اُس کے وعدوں کو قبول کرنے کے فیصلے پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں جو اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت سے خدا کو حقیقی طو ر پر نہیں جا ن سکتے ۔ کیونکہ تب ہی ہماری زندگی خدا سے معمور ہو سکتی ہے اور ہم اُسے گہرے اور ذاتی طور پر جاننے کا تجربہ کر سکتے ہیں ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
خدا کو حقیقی معنوں میں جاننے کی کلید کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں