settings icon
share icon
سوال

بائبل کی موجودگی سے پہلے لوگ خُدا کے بارے میں کیسے جانتے تھے؟

جواب


اگرچہ اُس وقت لوگوں کے پاس خدا کا کلام اِس طرح موجود نہیں تھا جس طرح آج ہم بائبل کو جانتے ہیں مگر وہ خداکو قبول کرنے ، اُسے سمجھنے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے کی صلاحیت سے قطعی طور پر خالی نہیں تھے۔ درحقیقت آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے علاقے موجود ہیں جہاں بائبل دستیاب نہیں ہے مگر اس کے با وجود لوگ خدا کے بارے میں جان سکتے ہیں اور جانتے ہیں ۔ یہاں پر اصل معاملہ الہام کا ہے یعنی اُن باتوں کا انسان پر عیا ں کیا جانا جن کے بارے میں خُدا چاہتا تھا کہ ہم جانیں اور سمجھیں۔ گوکہ بائبل ہمیشہ سے موجود نہیں ہے لیکن انسان کےلیے خدا کے الہام کو حاصل کرنے اور سمجھنے کے ذرائع ہمیشہ سے موجود ہیں ۔ الہام کی دو اقسام ہیں : 1: مکاشفہ ِ عام اور 2: مکاشفہ ِ خاص ۔

مکاشفہ ِ عام کا تعلق خدا کی طرف سے اُس الہام سےہے جو اُس نے تمام بنی نو ع انسان کو عالمگیر طور پر دیا ہے ۔ وہ چیزیں جن کے وجود کا سبب یا سرچشمہ خدا کی ذات ہے وہ مکاشفہ ِ عام کا ظاہری یا خارجی پہلو ہیں ۔ کیونکہ یہ چیزیں موجود ہیں لہذا ان کی تخلیق کےلیے خدا کی موجودگی ضروری ہے ۔ رومیوں 1باب 20 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ "اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قدرت اور الُوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہُوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں ۔ یہاں تک کہ اُن کو کچھ عذر باقی نہیں۔" پس تمام مرد و خواتین ہر طرف موجود مخلوقات کا مشاہد ہ کر سکتے اورخُداکے وجود کو جان سکتے ہے ۔19زبور 1-4آیات مزید وضاحت کرتی ہیں کہ تمام مخلو قات خدا کے بارے میں ایسی واضح زبان میں بیان کر تی ہیں جو ہر انسان کےلیے قابل سمجھ ہے "نہ بولنا ہے نہ کلام۔ نہ اُن کی آواز سنائی دیتی ہے" قدرت کی طرف سے پیش کردہ الہام پوری طرح عیاں ہے ۔ لاعلمی کے باعث کوئی بھی انسان خود کو اس سے بری نہیں رکھ سکتا ۔ ملحد کےلیے کوئی عُذر نہیں اور نہ ہی لا ادریت کے ماننے والے کےلیے کوئی بہانا ہے۔

مکاشفہ ِ عام کا ایک اور پہلو جسے خدا نے ہر انسان پر عیاں کیا ہے وہ ہمارے ضمیر کی موجودگی کی صورت میں پایا جاتا ہے ۔ یہ مکاشفہ ِ عام کا داخلی پہلو ہے ۔ " کیونکہ جو کچھ خُدا کی نسبت معلوم ہو سکتا ہے وہ اُن کے باطن میں ظاہر ہے ۔ اِس لئے کہ خُدا نے اُس کو اُن پر ظاہر کر دِیا" ( رومیوں 1باب 19 آیت)۔آج لوگ اپنے ضمیر کی وجہ سے جانتے ہیں کہ خدا موجود ہے ۔ مکاشفہ ِ عام کے یہ دو پہلو اُن مشنریوں کی بے شمار کہانیوں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں جن کی ایسے مقامی قبائل تک رسائی ہوئی ہے جنہوں نے نہ تو بائبل کو کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی مسیح کے بارے میں کبھی سنا نہیں ۔ تاہم جب اُن کے سامنے نجات کا منصوبہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ جانتے ہیں کہ خدا موجود ہے کیونکہ اُنہوں نے قدرت میں اُس کے شواہد دیکھے ہیں اور جانتے ہیں کہ اُن کو ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہے اس لیے کہ اُن کے ضمیر اُن کو گناہ کے بارے میں ملامت کرتے اور نجات دہندہ کی ضرورت کو اُن پر واضح کرتے ہیں ۔

مکاشفہِ عام کے ان دو حصوں کے علاوہ مکاشفہ خاص بھی موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے خُدا لوگوں پر اپنی ذات اور اپنی مرضی کو عیاں کرتا ہے۔ مکاشفہِ خاص تمام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتابلکہ یہ خاص وقت کےلیے مخصوص لوگوں پر عیاں ہوتا ہے ۔ کلام مقدس میں مکاشفہِ خاص کی مثالوں میں قرعہ اندازی ( اعمال 1باب 21-26آیات، امثال 16باب 33آیت ) اُوریم اور تمیّم ( ایک خاص قسم کا قرعہ جو سردار کاہن کی طرف سے استعمال کیا جاتا تھا –دیکھیں خروج 28باب 30آیت؛ گنتی 27باب 21آیت؛ استثنا 33باب 8آیت؛ 1سموئیل 28باب 6آیت اورعزرا 2باب 63آیت)؛ خواب اور رویا ( پیدایش 20باب 3 ، 6آیات؛ 31باب 11-13 ، 24آیات؛ یوایل 2باب 28آیت) ؛ خداوند کے فرشتوں کا ظہور (پیدایش 16باب 7-14آیات؛ خروج 3باب 2آیت؛2سموئیل 24باب 16آیت؛ زکریاہ 1باب 12آیت) اور انبیاء کی خدمت ( 2سموئیل 23باب 2آیت؛ زکریاہ 1باب 1آیت ) شامل ہیں ۔ یہ حوالہ جات ہر واقعے کی جامع فہرست نہیں ہیں بلکہ یہ اس قسم کے الہام کی بہترین مثالوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بائبل بھی مکاشفہ ِ خاص کی ایک شکل ہے مگر ہوسکتا ہے کہ ایسا محسوس نہ ہو ۔ تاہم یہ اپنے آپ میں مکاشفہ ِ خاص کی ایک قسم ہے کیونکہ اِس کے اندر مکاشفہ خاص کی بہت ساری اقسام موجود ہیں، ہاں اگرچہ اُن میں سے زیادہ تر کے دئیے جانے کے طریقہ کار کا اطلاق موجودہ دور پر نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ پطرس جس نے یوحنا کے ساتھ یسوع کو اُس پہاڑ پر جہاں اُس کی صورت تبدیل ہو گئی تھی موسیٰ اور ایلیاہ کے ساتھ ہمکلام ہوتے دیکھا تھا وہ اِس خاص تجربے کو کمتر قرار دیتا ہے کیونکہ اُن کے " پاس نبیوں کا وہ کلام ہے جو زِیادہ معتبر ٹھہرا " ہے اور نبیوں کے کلام سےاُس کا مطلب ہے خُدا کا زندہ کلام یعنی بائبل مُقدس۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بائبل اُس تمام معلومات کی تحریری شکل ہے جو خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کے بارے میں اور اپنی زندگی کے لیے اس کے خاص منصوبے کے بارے میں جانیں۔ دراصل خدا کے ساتھ رفاقت قائم کرنے کےلیے ہمیں اُس کے بارےمیں جن باتوں کو جاننے کی ضرورت ہے بائبل میں وہ سب پائی جاتی ہیں ۔

لہذ ا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بائبل کے دستیاب ہونے سے پہلے خدا نے اپنے آپ کو اور اپنی مرضی کو بنی نو ع انسان پر ظاہر کرنے کےلیے بہت سے ذرائع کا استعمال کیا تھا ۔ یہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے کہ خدا نے اس کام کےلیے صرف ایک نہیں بلکہ مختلف طرح کے ذرائع کو استعمال کیا تھا ۔ یہ خدا کی شکرگزاری ہے کہ اُس نے ہمیں اپنا تحریری کلام دیا اور بائبل کی صورت میں آج تک اسے ہمارے لیے محفوظ رکھا ہے، اس لیے ہم کسی اور شخص کے رحم و کرم پر نہیں ہیں بلکہ خود اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں !یقیناً الہام کی واضح ترین شکل خدا نے اُس وقت استعمال کی تھی جب اُس نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تھا تاکہ وہ انسانی شکل میں ہمارے درمیان رہے اور ہمارے گناہوں کے فدیہ میں صلیب پر جان دے ۔ صرف یہی واحد چیز یسوع کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتی ہے !

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل کی موجودگی سے پہلے لوگ خُدا کے بارے میں کیسے جانتے تھے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries