settings icon
share icon
سوال

کِن ازم کیا ہے ؟

جواب


کِن ازم مذہبی تحریکوں کے متنوع تسلسل کی ایک ایسی شاخ ہے جو نسلی پرستی کی بنیاد پر علیحدگی کو فروغ دیتی ہے۔ اِس تحریک کی بنیاد مسیحیت میں رکھی گئی اور اِس میں بڑی حد تک وہ لوگ شامل ہیں جو اپنے عقائدی لحاظ سے تاریخی، کیلون ازم کے حامی، آرتھوڈوکس اور ریفارمڈہیں۔ تاہم کچھ حقیقی عقائد سے وابستہ رہنے کے رجحان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کِن ازم کے حامی اپنے عقیدے اور مشق میں راسخ الایمان ہیں۔ اصل میں حقیقی عقائد سے اُن کی وابستگی اور کِن ازم کے کچھ پیروکاروں کا وسیع الٰہیاتی علم اِس ضابطہ پرستانہ بدعت کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔

کِن ازم کے بارے میں براہ راست جواب حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ تحریک نسبتاً ابھی نئی اور "غیر تشکیل شدہ" ہے اور اس لیے بھی کہ کِن ازم کے حامی خود کو عالم بنانے کا رجحان رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ خود کو خفیہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن چند باتیں واضح ہیں۔مسیحی شناخت کی تحریک (Christian Identity Movement) یا آریائی قوم کے تصورات کے برعکس کِن ازم کے حامی اس بات پر ایمان نہیں رکھتے کہ جو نسلیں سفید فام نہیں وہ نجات نہیں پا سکتیں۔مزید برآں اینگلو-اسرائیلسٹس کے برعکس وہ یہ نہیں مانتے کہ اسرائیلی قوم کی حقیقی نسلیں برطانوی اور امریکی لوگ ہیں۔

کِن ازم کو جو بات الگ بناتی ہے وہ یہ عقیدہ ہے کہ خدا نے بنی نوع انسان کے لیے ایک ایسا حکم دیا ہے جو ذاتی اور انفرادی عبادت سے بالاتر ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ خدا نے انسانوں کے گروہوں کے لیے حدود متعین کی ہیں اور انسانوں کو قبائلی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اُن حدود کا احترام کرنا چاہیے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس سفید فارم کِن ازم کے حامیوں کا ایک گروپ اور سیاہ فارم کِن ازم کے حامیوں کا ایک گروپ ہوسکتا ہے لیکن وہ مل کر عبادت نہیں کر سکتے ۔ اُن کا ماننا ہے کہ(جیسا کہ وہ کہتے ہیں) جب خدا نے نسلوں کے درمیان ایک ضروری فرق مقرر کیا ہے تو اِس کے باجود جب انسانوں کی مختلف نسلیں باہمی طور پر رفاقت رکھتی ہیں تو وہ حقیقت میں خُدا کے اختیار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کِن ازم کے ایک حامی کے الفاظ میں "یہ [عقیدہ] ہمارے علم ِ الکلیسیا کو متاثر کرتا ہے کیونکہ اِس کے مطابق کثیر النسل بڑ ی کلیسیا کی پرستش کو خدا کے نتھنوں میں ایک بدبو خیال کیا جاتا ہے"۔ محبت سے خالی ہونے کے علاوہ یہ دعویٰ محض غیر بائبلی ہے اور نسل پرستانہ نقطہ نظر کو فروغ دیتا ہے اور تکبر اور ضابطہ پرستی /کٹر پن کو فروغ دینے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔

کِن ازم کے حامی نسل پرستی کی بنیاد پر علیحد ہ کی گئی کلیسیاؤں، برادریوں اور یقیناً خاندانوں پر اصرار کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ مسیحیوں کو اب بھی پرانے عہد نامے کے اُن قوانین کی پیروی کرنی چاہیے جو یہودیوں کو دوسرے قبیلوں/خاندانوں کے ساتھ شادی کرنے سے منع کرتے تھے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خُدا نے بابل کے بُرج کے وقت نسلوں کو "علیحدہ" کر دیا اور "دوبارہ متحد" ہونا بنی نوع انسان کے لیے اس حکم کی خلاف ورزی ہے جو اُس نے مقرر کیا ہے۔ کِن ازم کے عالمانہ گروہوں کی بڑی حمایت کے باوجود یہ دونوں عقائد کلامِ مقدس کی مدد سے بآسانی رَد کیے جا سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ، آیا پرانے عہد نامے کے قانون کا نئے عہد نامے کی کلیسیا پر اطلاق ہوتا ہے اس بات کا تعین کرنے کے لیے ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ پرانے عہد نامے میں لوگوں کے درمیان علیحدگی کی وجہ کیا تھی۔ اس قانون کے پیچھے خدا کا جواز بہت واضح تھا کہ یہودی معاشرہ بُت پرستی سے بچ سکے (ملاکی 2باب 11آیت ؛ استثنا 7باب 3آیت )۔ نئے عہد نامے میں رُوح القدس ایمانداروں کی زندگی میں بسیرا کرنے کے لیے آیا اور خداوند یسوع نے غیر قوموں کو انجیل کی خوشخبری سنانے کا حکم دیا تھا ؛ اب اِسے واضح طور پر دیکھا جا سکتاہے کہ " خُدا کسی کا طرف دار نہیں۔ بلکہ ہر قَوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راست بازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا " (اعمال 10باب 34-35آیات ) اور مسیح کے بدن کا حصہ ہے ۔ کِن ازم کا حامی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہے گا کہ کسی بھی نسل کا کوئی بھی شخص مسیحی ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ کہتا ہے کہ باہمی طور پر شادیاں کرنا منع ہے حالانکہ اس کی کوئی بائبلی وجہ نہیں ہے۔

وہ قانون جس میں کہا گیا تھا کہ " تُو اُن سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ ۔۔ کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پَیروی سے برگشتہ کر دیں گے" (بالموازنہ ، استثنا 7باب 3-4آیات )یہاں پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ اُس کا سیاق و سباق فرق ہے۔ کوئی شخص غیر معبودوں کی طرف مائل ہونے کے خطرے میں مبتلا ہوئے بغیر کسی دوسری نسل کے مسیحی سے شادی کر سکتا ہے ۔ موجود ہ حکم غیر ایمانداروں کے ساتھ شادی نہ کرنے کا ہے- نسل یا قومیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا(2 کرنتھیوں 6باب 14آیت )۔ پرانے عہد نامے کے نظام کے تحت بھی خدا کی پیروی کرنے کا انتخاب کرنے والے غیر قوم کے لوگ اسرائیلی خاندان میں شامل ہو سکتے تھے : بوعز نے ایک غیر قوم کی عورت روت سے شادی کی؛ سلمون نے راحب سے شادی کی جو ایک غیر قوم کی تھی۔ اب کلیسیا اُن یہودیوں اور غیر قوموں دونوں پر مشتمل ہے جو نجات کے لیے مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ تمام لوگ جن کے پاس رُوح القدس ہے وہ حقیقی لحاظ سے" بھائی چارے " کی حالت میں ہیں (لوقا 8باب 21آیت )۔

بابل کے بُرج کے موقع پر خدا کے عمل کی غلط تشریح کر کے اُسے اِس طور پر لیا جا رہا ہے جیسے کہ خُدا نے نسل پرستانہ علیحدگی کی ہو۔ لیکن بابل کے بُرج کی کہانی (پیدایش 11باب 1-9آیات ) خدا کے انسانوں کی زبان میں اختلاف ڈالنے کے بارے میں ہے تاکہ وہ اُس کے خلاف بُرائی کی تکمیل کے لیے باہمی طور پر کام نہ کر سکیں۔یہ نسلی بنیاد پر علیحدگی کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ بات گلتیوں 2باب 11-14آیات سے ثابت ہوتی ہے جہاں پولس رسول پطرس رسول کی غیر قوم کے ایمانداروں سے اُس وقت علیحدگی اختیار کرنے کی مخالفت کرتا ہے جب یروشلیم سے کچھ یہودی ایماندار اُن سے ملنے کے لیے آئے تھے۔ پولس رسول کی طرف سے تیمتھیس کو جو پیدایش کے لحاظ سے یونانی تھا مسیحی پاسبان کے طور پر مقرر کرنا اِس کی ایک اورمثال ہے۔ (2 تیمتھیس 1باب 6آیت ) ۔ یہاں تک کہ وہ تیمتھیس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ "ایمان کے لحاظ سے (پولس کا) سچّا فرزند "ہے (1تیمتھیس 1باب 2آیت )۔ تیمتھیس کی ماں یہودی ایماندار عورت تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیمتھیس ایک ایسی برادری میں رہتا اور خدمت کرتا تھا جس میں یہودی اور غیر قوم دونوں ہی تھے۔ کیا اِس کی اپنی ماں اس کے گرجا گھر میں نہیں جاتی تھی؟ اور اگر خُدا چاہتا تھا کہ نسلوں کو الگ کر دیا جائے تو تیمتھیس آدھا یہودی اور آدھا غیر قوم ہونے کے ناطے کون سے گرجا گھر کا پاسبان بن سکتا تھا؟ اور خود پولس کے بارے میں کیا خیال ہے جو "مُنادی کرنے والا اور رسُول اور غَیر قَوموں کو اِیمان اور سچّائی کی باتیں سکھانے والا مُقرّر ہُوا " (1تیمتھیس 2باب 7آیت )؟ اگر کِن ازم درست ہوتا تو کیا خُدا نے غیر قوموں میں منادی اور تعلیم دینے کے لیے کسی غیر قوم کے شخص کو نہیں بھیجنا تھا ؟

مختصر یہ کہ کِن ازم خدا کے فضل کی انجیل کی بجائے شریعت کے وسیلے راست ٹھہرائے جانے کی ایک اور کوشش ہے۔ " کیونکہ مَیں اِنجیل سے شرماتا نہیں۔ اِس لئے کہ وہ ہر ایک اِیمان لانے والے کے واسطے پہلے یہُودی پھر یُونانی کے واسطے نجات کے لئے خُدا کی قُدرت ہے"(رومیوں 1باب 16 آیت )۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کِن ازم کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries