settings icon
share icon
سوال

خُدا کی بادشاہت کیا ہے ؟

جواب


خدا کی بادشاہی کا ذکر اکثر اناجیل (مثلاً ،مرقس 1باب 15آیت ؛ 10باب 15آیت ؛ 15باب 43آیت ؛ لوقا 17باب 20) اور نئے عہد نامہ کے دیگر حوالہ جات (مثلاً، اعمال 28باب 31آیت ؛ رومیوں 14باب 17آیت ؛ 1کرنتھیوں 15باب 50آیت) میں کیا گیا ہے ۔ خدا کی بادشاہی آسمان کی بادشاہی کے مترادف ہے۔ خدا کی بادشاہی کا تصور کلامِ مقدس کے مختلف حوالہ جات میں کئی معنوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

وسیع معنوں میں کہا جائے تو خدا کی بادشاہی سے مراد تمام کائنات پر ایک ابدی اور قادر مطلق خدا کی حکمرانی ہے۔ کلامِ مقدس کے متعدد حوالہ جات واضح کرتے ہیں کہ خدا تمام مخلوقات کا ناقابل تردید بادشاہ ہے" خُداوند نے اپنا تخت آسمان پر قائِم کِیا ہے اور اُس کی سلطنت سب پر مُسلِّط ہے۔" ( 103 زبور 19آیت)۔ اور جیسا کہ نبوکدنضر بادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ "اُس کی سلطنت پُشت در پُشت" قائم ہے (دانی 4باب 3آیت) ۔ دنیا میں موجود ہر اختیار خدا کی طرف سے قائم کیا گیا ہے (رومیوں 13باب 1آیت)۔ لہٰذا ایک لحاظ سے خدا کی بادشاہی ہرموجود چیز کا احاطہ کرتی ہے ۔

مزید گہرے طور پر خدا کی بادشاہی اُن لوگوں کے دِلوں اور زندگیوں پر ایک رُوحانی حکمرانی ہے جو خوشی سے خدا کے اختیار کے تابع ہوتے ہیں۔ جو لوگ خدا کے اختیار کی تردید کرتے اور اُس کے تابع ہونے سے انکار کرتے ہیں وہ خدا کی بادشاہی کا حصہ نہیں ہیں ؛برعکس اُن لوگوں کے جو مسیح کی خداوندی کو قبول کرتے ہیں اور خُدا کی بادشاہی کے حصے کے طور پر اپنے دِلوں میں خُدا کی حکمرانی کو خوشی سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے خدا کی بادشاہی رُوحانی ہے- خُداوند یسوع نے فرمایا کہ اُس کی بادشاہی اِس دنیا کی نہیں ہے (یوحنا 18باب 36آیت)اور اُس نے منادی کی کہ خدا کی بادشاہی کا حصہ بننے کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے (متی 4باب 17آیت)۔ خدا کی بادشاہی کو نجات کے حلقے سے مشابہت دی جا سکتی ہے یہ بات یوحنا 3باب 5-7آیات میں واضح ہے جہاں خُداوند یسوع فرماتا ہے کہ خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری ہے ۔ 1 کرنتھیوں 6باب 9آیت کو بھی دیکھیں۔

کلام مقدس میں خدا کی بادشاہی کو ایک اور مفہوم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: زمین پر ہزار سال تک مسیح کی اصلی بادشاہی ۔ دانی ایل نبی نے فرمایا ہے کہ "آسمان کا خُدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی "( دانی ایل 2باب 44آیت؛ با لموازنہ 7باب 13-14آیات) اور دیگر بہت سے نبیوں نے بھی اسی بات کی پیشین گوئی کی ہے (مثال کے طور پر، عبدیاہ 1باب 21آیت؛ حبقوق 2باب 14آیت ؛ میکاہ 4باب 2آیت ؛ زکریا 14باب 9آیت)۔ علم ِ الہٰیات کے کچھ ماہرینِ مستقبل یعنی خدا کی بادشاہی کے ظاہری مظہر کا "جلال کی بادشاہی" اور حالیہ یعنی خدا کی بادشاہی کے پوشیدہ /مبہم مظہر کا "فضل کی بادشاہی" کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ لیکن دونوں مظاہرباہمی طور پر مربوط ہیں۔ مسیح زمین پر کلیسیا میں اپنی رُوحانی حکمرانی قائم کر چکا ہے اور وہ ایک دن یروشلیم میں اپنی ظاہر ی حکمرانی قائم کرے گا۔

خدا کی بادشاہی کے کئی پہلو ہیں۔ خداوند کائنات کا حاکم ہے اور اِس لحاظ سے اُس کی بادشاہی عالمگیر ہے (1 تیمتھیس 6باب 15آیت )۔ اِسی اثناء میں جب خدا اس دنیا میں اپنے لوگوں کے دِلوں پر آئندہ بادشاہی کی تیاری کے لیے حکمرانی کرتا ہے خدا کی بادشاہی توبہ اور نئی پیدایش پر مشتمل ہے ۔ زمین پر شروع ہونے والا کام آسمان پر اپنی تکمیل کو پہنچے گا (دیکھیں فلپیوں 1باب 6آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کی بادشاہت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries