settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


ایمان کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرائے جانے کی تعلیم ہی بائبلی مسیحیت کو دیگر تمام عقائد کے نظاموں سے الگ کرتی ہے۔ ہر مذہب اور "مسیحی " کہلانے والے کچھ فرقوں(بدعات) میں انسان خدا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے محنت کر رہا ہے۔ صرف حقیقی بائبلی مسیحیت میں ہی انسان ایمان کے وسیلے فضل کی بدولت نجات پا تا ہے ۔ جب ہم بائبل کی طرف واپس آتے ہیں صرف تب ہی ہم سمجھ پاتے ہیں کہ راستباز ٹھہرایا جاناکاموں کی بجائے ایمان سے ہے۔

راستباز ٹھہرائے جانے کا مطلب ہے "راستباز قرار دیا جانایا وہ شخص بنایا جانا جس کے ساتھ راستبازوں جیسا سلوک کیا جائے۔" ایک مسیحی کے لیے راستباز ٹھہرنا خدا کا وہ کام ہے جس میں نہ صرف ایماندار کے گناہوں کو معاف کیا جاتا ہے بلکہ اُس سے مسیح کی راستبازی بھی منسوب کی جاتی ہے ۔ بائبل کئی حوالہ جات میں بیان کرتی ہے کہ راستباز ٹھہرایا جانا صرف ایمان کے وسیلے ممکن ہے (مثال کے طور پر رومیوں 5باب 1آیت ؛ گلتیوں 3باب 24 آیت )۔ راستباز ی کا یہ مقام ہمارے اپنے کاموں سے حاصل نہیں ہوتا؛بلکہ ہم یسوع مسیح کی راستبازی سے ملبس ہیں (افسیوں 2باب 8آیت ؛ ططس 3باب 5آیت)۔ راستباز قرار دئیے جانے کے باعث مسیحی گناہ کی ملامت سے آزاد ہیں ۔

راستباز ٹھہرائے جانے کا عمل خدا کا مکمل کیا ہو ا کام ہےاور یہ تقدیس کے عمل کے برعکس جو کہ رُوحانی ترقی کا وہ جاری عمل ہے جس کے وسیلہ سے ہم زیادہ سے زیادہ مسیح کی مانند بنتے جاتے ہیں ، فوراً رونما ہوتا ہے ("نجات یافتہ ہونے " کا عمل ، 1کرنتھیوں 1باب 18آیت ؛ 1تھسلنیکیوں 5باب 23 آیت) ۔ تقدیس کا عمل راستباز ٹھہرائے جانے کے بعد شروع ہوتا ہے ۔

راستباز ٹھہرائے جانے کے عقیدے کو سمجھنا ایک مسیحی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ راستباز ٹھہرائے جانے اور فضل کا شعور ہی ہے جوایماندار کو اچھے کاموں اور رُوحانی ترقی کی تحریک دیتا ہے ؛ اور یوں راستباز ٹھہرایا جانا تقدیس کے عمل کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔ نیز اِس حقیقت یعنی راستباز ٹھہرایا جانا خدا کا مکمل کردہ کام ہے کا مطلب یہ ہے کہ مسیحیوں کو اپنی نجات کی یقین دہانی ہے۔ خُدا کی نظر میں ایمانداروں کے پاس ابدی زندگی کے حصول کے لیے درکار راستبازی ہے۔

ایک بار جب کسی شخص کو راستباز قرار دے دیا جاتا ہے تو اُسے فردوس میں داخل ہونے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ چونکہ راستباز ٹھہرایا جانا ہماری خاطر مسیح کے کام پر ایمان کے ذریعہ سےممکن ہوتا ہےلہذا ہمارے کام نجات کے وسیلے کے طور پر اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں (رومیوں 3باب 28آیت)۔ پیچیدہ نظریات کے حامل ایسے وسیع مذہبی نظام موجود ہیں جو کاموں کے وسیلے راستباز ٹھہرائے جانے کے غلط عقیدے کی تعلیم دیتے ہیں۔ لیکن وہ"کسی اَور طرح کی خُوشخبری " (گلتیوں 1باب 6-7آیات)کی تعلیم دیتے ہیں جو بالکل خوشخبر ی نہیں ہے ۔

صرف ایمان کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرائے جانے کے عمل کی سمجھ کے بغیر ہم فضل کی شاندار بخشش کا مکمل ادراک حاصل نہیں کر سکتے ہیں اور یوں خدا کا وہ " رحم جسے ہم اپنے کاموں سے کما نہیں سکتے " ہمارے ذہنوں میں "قابل حصول " بن جاتا ہے اور ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم نجات کے مستحق ہیں۔ ایمان کے وسیلے راستباز ٹھہرائے جانے کا عقیدہ ہمیں مسیح کے ساتھ وفاداری اور پاک دامنی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے (2کرنتھیوں 11 باب 3آیت)۔ ایمان کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرائے جانے کے عقیدے پر قائم رہنا ہمیں اِس جھوٹ کا شکار ہونے سے بچاتا ہے کہ ہم فردوس کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسی کوئی رسم ، کوئی مذہبی تقریب یا کوئی عمل نہیں جو ہمیں مسیح کی راستبازی کے لائق بنا سکے ۔ ہمارے ایمان کے ردّ عمل میں یہ فقط خُدا کے فضل کے باعث ہی ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے کی پاکیزگی کو ہم سے منسوب کیا ہے ۔ پرانااور نیا دونوں عہد نامے بیان کرتے ہیں کہ ''صادق اپنے ایمان سے زندہ رہے گا'' (حبقوق 2باب 4آیت؛ رومیوں 1باب 17آیت؛گلتیوں 3باب 1آیت؛ عبرانیوں 10باب38آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries