یہودیت کیا ہے اور یہودی کیا ایمان رکھتے ہیں؟


سوال: یہودیت کیا ہے اور یہودی کیا ایمان رکھتے ہیں؟

جواب:
یہودیت کیا ہے اور یہودی کون اور کیا ہیں؟ کیا یہودیت صرف ایک مذہب ہے؟ کیا یہ ایک تہذیبی حقیقت ہے یا صرف ایک نسلی گروہ ہے؟ کیا یہودی لوگوں کا ایک خاندان ہے یا وہ ایک قوم ہیں؟ یہودی کیا ایمان رکھتے ہیں، اور کیا وہ سب ایک ہی طرح کی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں؟

ڈکشنری کی وضاحتوں کے مطابق "یہودی" کی وضاحتیں ہیں "یہوداہ کے قبیلہ کا ایک رُکن"، "ایک اسرائیلی"، "چھٹی صدی قبل مسیح سے فلسطین کی سرزمین پر موجود قوم کا ایک رُکن"، "ایک شخص جو قدیم یہودی لوگوں کی نسل کے بقیہ یا تبدیلی کے وسیلہ سے یہودی قوم سے تعلق رکھتا ہو"، اور "وہ جِس کا مذہب یہودیت ہے"۔

ربانی (ربیوں کی) یہودیت کے مطابق، یہودی وہ ہے جِس کی ماں یہودی ہو یا وہ جِس نے رسمی طور پر یہودی مذہب کو قبول کر لیا ہو۔ اِس عقیدہ کو معتبر بنانے کے لئے احبار باب 24 آیت 10 کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے، اگرچہ توراہ (توریت )اِس عقیدے کی حمایت میں کوئی خاص دعویٰ نہیں کرتی۔ بعض ربیوں کا کہنا ہے کہ اِس بات کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ ایک شخص اصل میں کیا ایمان رکھتا ہے۔ یہ ربی ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک شخص کو یہودی ہونے کے لئے یہودی قوانین اور رسومات کی پیروی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت میں، ایک یہودی کا خُدا پر بالکل ایمان نہیں ہو سکتا لیکن پھر بھی وہ مندرجہ بالا ربانی تشریحات کے مطابق یہودی ہی ہے۔

دیگر ربی واضح کرتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص توراہ کے احکامات پر عمل نہ کرے اور میموندیس (قرون ووسطیٰ کے عظیم ترین یہودی علما میں سے ایک موسیٰ بن میمن) کے بیان کردہ "ایمان کے تیرہ اصولوں" کو قبول نہیں کرتا، وہ یہودی نہیں ہو سکتا۔ یہ شخص "حیاتیاتی (بیالوجیکلی)" طور پر یہودی ہو سکتا ہے، لیکن وہ یہودیت کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں رکھتا۔ بائبل کی پہلی پانچ کتابوں (توراہ) پیدائش باب 14 آیت 13 میں ابرہام کو عام طور پر پہلے یہودی یعنی "عبرانی" کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ نام "یہودی" یعقوب کے بارہ بیٹیوں اور اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے ایک یہوداہ کے نام سے ماخوذ ہے۔ ظاہر ہے نام "یہودی" ابتدا میں اُن لوگوں کو پیش کرتا تھا جو یہوداہ کے قبیلہ کے رُکن تھے، لیکن سلیمان کے دورِ حکومت (پہلا سلاطین باب 12) کے بعد جب سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، یہ اصطلاح یہوداہ کی سلطنت کے ہر شخص کے لئے استعمال ہو نے لگی، جن میں یہوداہ، بِنیمین، اور لاوی کے قبیلے شامل تھے۔ آج بہت سے لوگ ایمان رکھتے ہیں کہ یہودی وہ ہیں جو باوجود اُن اصل بارہ قبیلوں کے جن سے وہ پیدا ہوئے جسمانی طور پر ابرہام، اضحاق ، اور یعقوب کی نسل ہیں۔

لہذہ، یہودی کیا ایمان رکھتے ہیں اور یہودیت کے بنیادی اصول کیا ہیں؟ موجودہ دُنیا میں یہودیت کی پانچ بڑی اشکال یا فرقے ہیں۔ یہ آرتھوڈکس، قدامت پسند، ریفامڈ، تنظیم نو کے حامی، اور انسان شناس (ہیومن اِسٹِک) ہیں۔ ہر گروہ کے عقائد اور مطالبات ڈرامائی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم، یہودیت کے روایتی عقائد کی مختصر فہرست میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں۔

خُدا تمام موجودات کا خالق ہے، وہ واحد غیر مادی (بغیر جسم کے) ہے، اور وہ اکیلا کائنات کے کامل حکمران کے طور پر پرستش کے لائق ہے۔

عبرانی بائبل کی پہلی پانچ کتابیں خُدا نے موسیٰ کے وسیلہ سے دی، وہ مستقبل میں کبھی تبدیل نہ ہوں گی، یا اُن میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

خُدا نے نبیوں کے وسیلہ سے یہودی لوگوں کے ساتھ کلام کیا۔

خُدا انسانوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ انسانوں کو اچھے اعمال کا اجر اور بُرائی کی سزا دیتا ہے۔

اگرچہ مسیحیوں کے زیادہ تر ایمان کی بنیاد اُسی عبرانی کتابِ مقدس پر ہے جِس پر یہودیوں کی بنیاد ہے، پھر بھی اُن کےعقائد میں بڑا فرق پایا جاتا ہے، یہودی عام طور پر اعمال اور چال چلن کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں ، ایمان عمل کے بعد آتا ہے۔ یہ تعلیم اُن قدامت پسند مسیحیوں سے اختلافِ رائے رکھتی ہے جن کے لئے ایمان بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور اعمال اُس ایمان کے نتائج ہیں۔

یہودی ایمان مسیحیوں کی فطری گناہ کی تعلیم (یہ ایمان کہ تمام لوگ آدم اور حوا کے گناہ کو وراثت میں حاصل کرتے ہیں جو اُنہوں نے باغِ عدن میں خُدا کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کیا ) کو قبول نہیں کرتا۔

یہودیت دُنیا کی فطرتی نیکی اور اُسکے لوگوں کو خُدا کی تخلیق کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

یہودی ایماندار اپنی زندگیوں کو مقدس بنانے اور مِتوا (یہودی شریعت کا ایک حکم) الہیٰ احکامات کو پورا کرتے ہوئے خُدا کے قریب آنے کے قابل ہیں۔

درمیانی کے طور پر کسی نجات دہندہ کی ضرورت نہیں یا دستیاب نہیں ہے۔

احبار کی کتاب اور دیگر کُتب میں پائے جانے والے 613 احکامات یہودی زندگی کے تمام پہلوؤں کو منظم کرتے ہیں۔

احبار باب 20 آیات 1 تا 17 اور استثناء باب 5 آیات 6تا 21 میں بیان کردہ دس احکام قوانین کا مختصر خلاصہ پیش کرتے ہیں۔

مستقبل میں مسیح (خُدا کا ممسوح) آئے گا اور وہ ایک بار پھر یہودیوں کو اسرائیل کی سرزمین میں اکٹھا کرے گا۔ اُس وقت مردوں کی عام قیامت ہو گی، سن 70 میں رومیوں کی طرف سے تباہ کی گئی یروشلیم کی ہیکل دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔

یسوع کے بارے میں عقائد کافی مختلف ہیں۔ بعض اُسے ایک عظیم اخلاقی اُستاد مانتے ہیں، دیگر اُسے جھوٹے بنی یا مسیحیت کے بُت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہودیت کے بعض فرقے غیرمعبودوں کا نام نہ لینے کی ممانعت کی وجہ سے یسوع کا نام تک نہیں لیتے۔

یہودیوں کو اکثر خُدا کے چُنے گئے لوگوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُن کو دیگر گروہوں سے کسی بھی طرح افضل سمجھا جائے۔ خروج باب 19 آیت 5 جیسی بائبل کی آیات سادگی سے بیان کرتی ہیں کہ خُدا نے اسرائیل کو توراہ کا مطالعہ کرنے، واحد خُدا کی پرستش کرنے، سبت کے دن کو آرام کرنے ، اور عیدوں کو منانے کے لئے چُنا۔ یہودیوں کو دوسروں سے بہتر ہونے کے لئے نہیں چُنا گیا، وہ صرف غیر اقوام کے لئے نور ، اور تمام قوموں کے لئے برکت کا باعث ہونے کے لئے چُنے گئے تھے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
یہودیت کیا ہے اور یہودی کیا ایمان رکھتے ہیں؟