اسلام کیا ہے، اور مسلمان کیا ایمان رکھتے ہیں؟



سوال: اسلام کیا ہے، اور مسلمان کیا ایمان رکھتے ہیں؟

جواب:
اسلام کا مذہب ساتویں صدی کے آغاز میں ایک شخص سے شروع ہوا جِس کا نام محمد تھا۔ اُس نے دعویٰ کیا کہ جبرائیل فرشتہ اُس سے ملاقات کرتا تھا۔ اِن ملاقاتوں کے دوران، جو کہ 23 سال یعنی محمد کی موت تک جاری رہیں، فرشتہ نے خُدا (جِسے مسلمان عربی میں اللہ کہتے ہیں)کے کلام کو واضح طور پر نازل کیا ۔ یہ اِملا شُدہ مکاشفات اسلام کی مقدس کتاب قرآن میں شامل ہیں۔ اسلام سکھاتا ہے کہ قرآن حتمی اختیار اور اللہ کی آخری وحی ہے۔

اسلام کے پیروکار مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن ازلی اور اللہ کا کامل کلام ہے۔ اِس کے علاوہ ، بہت سے مسلمان قرآن کے دیگر زُبانوں میں تمام تراجم کو مسترد کرتے ہیں۔ ترجمہ قرآن کا ایک درُست ورژن نہیں ہے، قرآن صرف عربی میں موجود ہے۔ اگرچہ قرآن اہم مقدس کتاب ہے، لیکن سنت (احادیث) کو مذہبی ہدایات کا دوسرا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سنت (احادیث) محمد کے ساتھیوں نے محمد کے بارے میں لکھی جو محمد نے کہا، کِیا، اور جِس کی توثیق کی۔

اسلام کے کلیدی عقائد یہ ہیں کہ اللہ واحد حقیقی خُدا ہے اور محمد اللہ کا نبی تھا۔ صرف اِن عقائد کا اقرار کرتے ہوئے، ایک شخص اسلام قبول کر سکتا ہے۔ لفظ "مسلم" کے معنی ہیں، "وہ جو اللہ کی تابعداری کرتا ہے"۔ اسلام واحد حقیقی مذہب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جِس میں سے باقی تمام مذاہب (بشمول یہودیت اور مسیحیت) اخذ ہوتے ہیں۔

مسلمان اپنی زندگیوں کی بنیاد مندرجہ ذیل پانچ ستونوں پر قائم کرتے ہیں۔

1۔ ایمان کی گواہی (توحید): "کوئی حقیقی خُدا نہیں ہے مگر صرف اللہ، اور محمد اللہ کا رسول (نبی) ہے"۔

2۔ نماز: روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنا ضروری ہیں۔

3۔ زکوۃ: ہر شخص کو ضرورت مندوں کو دینا لازم ہے، کیونکہ سب چیزیں اللہ کی صرف سے ملتی ہیں۔

4۔ روزہ: عارضی روزوں کے علاوہ، تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ (اسلامی کلینڈر کا نواں مہینہ) کے تمام روزے رکھیں۔

5۔ حج: زندگی میں (اسلامی کلینڈر کے بارھویں مہینہ کے دوران) کم از کم ایک بار مکہ کی زیارت کرنا فرض ہے۔

اِن پانچ عقائد، مسلمانوں کے لئے فرمانبرداری کے ڈھانچے (فریم ورک) کو لفظی طور پر اور سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ جنت میں ایک مسلمان کے داخلے کا انحصار اِن پانچ ستونوں کی فرمانبرداری پر ہے۔

مسیحیت کے تعلق سے، اسلام کئی مماثلات اور اہم اختلافات رکھتا ہے۔ مسیحیت کی طرح، اسلام توحید پرست ہے، لیکن مسیحیت کی مخالفت میں اسلام تثلیث فی التوحید کے عقیدہ کو ردّ کرتا ہے۔ اسلام بائبل کی شریعت اور اناجیل جیسے کچھ حصوں کو قبول کرتا ہے، لیکن اِس کے کثیر حصوں کو جھوٹ پر مبنی اور غیر الہامی کے طور پر ردّ کرتا ہے۔

اسلام دعویٰ کرتا ہے کہ یسوع صرف ایک نبی تھا ، نہ کہ خُدا کا بیٹا (مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ صرف اللہ خُدا ہے، تو اُس کے بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟)۔ بلکہ اسلام وثوق سے کہتا ہے کہ یسوع اگرچہ کنواری سے پیدا ہوا، لیکن اُسے ویسے ہی خلق کیا گیا تھا جیسے آدم کو زمین کی مٹی سے خلق کیا گیا تھا۔ مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا، اِس طرح وہ مسیحیت کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک کو مسترد کرتے ہیں۔

آخرمیں، اسلام سکھاتا ہے کہ جنت نیک اعمال اور قرآن کی فرمانبرداری کے وسیلہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ اِس کے برعکس بائبل ظاہر کرتی ہے کہ انسان خُدا کے معیار پر پورا نہیں اُتر سکتا۔ گنہگار صرف اُس کی رحمت ار محبت کی وجہ سے مسیح پر ایمان لانے کے وسیلہ سے نجات حاصل کرسکتے ہیں (افسیوں باب 2 آیات 8تا 9)۔

واضح طور پر، اسلام اور مسیحیت دونوں درُست نہیں ہو سکتے۔ یا تو یسوع سب سے بڑا نبی تھا، یا پھر محمد تھا۔ یا تو بائبل خُدا کا کلام ہے، یا پھر قرآن ہے۔ نجات یا تو یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے سے حاصل ہوتی ہے یا پھر پانچ ستونوں کی پیروی کر کے حاصل ہوتی ہے۔ پھر کہتے ہیں، دونوں مذاہب درُست نہیں ہو سکتے۔ اہم معاملات میں دو مذاہب کی جُدائی کی حقیقت ابدی نتائج رکھتی ہے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



اسلام کیا ہے، اور مسلمان کیا ایمان رکھتے ہیں؟