settings icon
share icon
سوال

اسلام کیا ہے اور مسلمان کیا ایمان رکھتے ہیں؟

جواب


مذہبِ اسلام ساتویں صدی کے آغاز میں ایک شخص بنام محمد نے شروع کیا تھا۔ مسلمان اپنی مُقدس کتاب قرآن کی تعلیمات کو مانتے ہیں اور وہ اپنے دین کے پانچ ستونوں کی روشنی میں زندگی گزارنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔

اسلام کی تاریخ

ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبرِ اسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ ایک فرشتہ اُس سے ملاقات کرنے کے لیے آیا۔ اِن ملاقاتوں کے دوران جو کہ 23 سالوں تک یعنی پیغمبرِ اسلام کی موت تک جاری رہیں، فرشتے نے خُدا (جسے مسلمان عربی میں اللہ کہتے ہیں)کے کلام کو واضح طور پر نازل کیا ۔ یہ اِملاء کے ذریعے لکھوائے جانے والےمکاشفہ جات اسلام کی مقدس کتاب قرآن میں شامل ہیں۔ اسلام کے معنی "اطاعت" ہیں اور یہ جس عربی لفظ سے ماخوذ ہے اُس کے معنی "امن " ہے۔ مسلمان کے معنی ہیں "وہ شخص جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔"

اسلامی عقائد

اسلامی عقائدکا ذیل میں چھ نکات میں خلاصہ کیا گیا ہے۔

‌أ. ایک اللہ پر ایمان: مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ کی ذات ایک ، ابدی، خالق اور قادرِ مطلق ہے۔

‌ب. فرشتوں پر ایمان

‌ج. نبیوں پر ایمان: نبیوں کی اِس فہرست میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جن کا ذکر بائبل میں کیا گیا ہے لیکن اسلامی عقیدے کے مطابق نبیوں کے اِس سلسلے کا اختتام اُن کے نبی محمد کے ساتھ ہوتا ہے جواُنکے ایمان کے مطابق آخری نبی ہے۔

‌د. اللہ کے مکاشفہ جات پر ایمان: مسلمان بائبل کے کچھ حصوں کو مانتے ہیں جیسے کہ توریت اور انجیل۔ وہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قران اِن سب مکاشفہ جات سے پہلے موجود تھا اور یہ خُدا کا کامل کلام ہے۔

‌ه. قیامت کے دن عدالت اور اُس کے بعد کی زندگی پر ایمان: ہر ایک انسان کو قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا، اور اُس کی حتمی منزل یا تو جہنم ہوگی یا پھر جنت۔

‌و. تقدیر پر ایمان: مسلمان مانتے ہیں کہ اللہ نے اپنی مرضی سے ہر ایک چیز کے بارے میں پہلے سے سب کچھ مقرر کر دیا ہوا ہے۔ مسلمان اکثر یہ خاص الفاظ "انشاء اللہ " کہہ کر اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اللہ کو ہر ایک چیز پر مکمل اختیار ہے، اور اِن الفاظ کے معنی ہیں "اگر اللہ کی مرضی ہوئی تو"۔

دینِ اسلام کے پانچ ستون

مسلمان اپنی زندگیوں کی بنیاداپنے ایمان کے مندرجہ ذیل پانچ ستونوں پر قائم کرتے ہیں،اُن کی تعلیمات کے مطابق یہ پانچ ستون اللہ کی اطاعت کرنے میں اُن کی مدد کرتے ہیں۔

‌أ. ایمان کی گواہی (شہادت): "مسلمانوں کی طرف سے اُن کے پہلے کلمے کی صورت میں ایک شہادت دی جاتی ہے جس کا ترجمہ ہے "اللہ کے سوا اور کوئی خُدا نہیں اور محمد اللہ کا رسول(نبی ) ہے۔"جب کوئی شخص کسی اور مذہب کو چھوڑ کر اسلام کو قبول کرتا ہے تو اُس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ یہی شہادت دے یعنی اِس کلمے کو پڑھے۔یہ شہادت ظاہر کرتی ہے کہ مسلمان صرف اللہ پر اپنے خدا کے طور پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ کے نبی محمد نے لوگوں کو اللہ کے بارے میں آگاہی دی ہے۔

‌ب. نماز(صلواۃ): مسلمانوں کے لیے ہر روز پانچ نمازیں ادا کرنا ضروری ہیں۔

‌ج. زکوۃ: مسلمانوں کے لیے ہر سال اپنے مال کا ایک خاص حصہ اللہ کی راہ پر دینا فرض ہے جو غریب غرباء کی مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

‌د. روزہ(صوام ) : عارضی روزوں کے علاوہ، تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ(اسلامی کیلنڈر کے نویں مہینے ) رمضان کے تمام روزے رکھیں۔

‌ه. حج:صاحبِ حیثیت مسلمانوں کے لیے زندگی میں (اسلامی کیلنڈر کے بارھویں مہینے کے دوران) کم از کم ایک بار مکہ کی زیارت کرنا فرض ہے۔

کسی مسلمان کےجنت میں داخلے کا انحصار اِن پانچ ستونوں کی روشنی میں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے زندگی گزارنے میں ہے۔ لیکن اِس کے باوجود اللہ کی مرضی نہ ہو تو وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ حتیٰ کے پیغمبر اسلام نے یہ کہا کہ اگر اللہ نہ چاہے تو وہ خود بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔(سورۃ الاحقاف9 آیت؛ صحیح البخاری 5.266)

مذہبِ اسلام کا طائرانہ جائزہ

اگر اسلام کا مسیحیت کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اِن دونوں مذاہب میں کچھ چیزیں تو یکساں ہیں لیکن بہت بڑے پیمانے پر فرق پایا جاتا ہے۔ مسیحیت کی طرح ہی اسلام بھی ایک خُدا پر ایمان رکھتا ہے لیکن مسیحیت کی مخالفت میں اسلام تثلیث فی التوحید کے عقیدےکو ردّ کرتا ہےاور یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ خُدا نے اپنے آپ کو خُدا باپ، بیٹے اور رُوح القدس کی صورت میں ظاہر کیا۔

مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یسوع مسیح (اُن کے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام) اہم ترین نبیوں میں سے ایک ہے – لیکن وہ خُدا کا بیٹا نہیں ہے۔ اِسلام بیان کرتا ہے کہ یسوع اگرچہ کنواری مریم سے پیدا ہوا لیکن اُس کی تخلیق ایسے ہی کی گئی جیسے آدم کی۔ مسلمان اِس بات پر ایمان نہیں رکھتے کہ یسوع مسیح کو مصلوب کر کے مار دیا گیا۔ وہ اِس بات کو نہیں سمجھتے کہ اللہ کیوں اپنے پیارے نبی عیسیٰ کو اِتنی پُر تشدد موت مرنے دے گا۔ لیکن بائبل مُقدس ہمیں دکھاتی ہے کہ خُدا کے کامل بیٹے کی قربانی اِس دُنیا کے گناہ کے لیے کس قدر ضروری تھی(یسعیاہ 53باب5-6آیات؛ یوحنا 3باب 16آیت؛ 14باب 6آیت؛ 1 پطرس 2باب24آیت)۔

اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ قرآن کو خُدا کا کلام ہونے کے ناطے حتمی اور آخری حیثیت حاصل ہے اور یہ اللہ کی طرف سے دیا جانے والا آخری مکاشفہ ہے۔ بائبل پہلی صدی عیسوی میں مکاشفہ کی کتاب کے ساتھ مکمل ہو گئی تھی ۔ اور بائبل ہمیں اِس حوالے سے خبردار کرتی ہے کہ خُدا کے اُس کلام میں کسی طرح کا کوئی اضافہ یا کمی نہ کی جائے، ایسا کرنے والے کو خُدا کی طرف سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا(استثنا 4باب2آیت؛ امثال 30 باب 6 آیت؛ گلتیوں 1باب 6- 12آیات؛ مکاشفہ 22 باب 18آیت)۔ اب قرآن چونکہ مکاشفہ کی کتاب کے بعد کی کتاب ہے اور اِس کو خُدا کے کلام کے طور پر قبول کرنا مکاشفہ کی کتاب کے بعد اضافہ تصور کیا جائے گا جو مکاشفہ کی کتاب میں بیان کردہ انتباہ کے خلاف بات ہوگی۔

مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ ایمان کے پانچ ستونوں پر کاربند رہتے ہوئے جنت کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اِس کے برعکس بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ خُدا پاک ہے اور گناہگار انسان کسی بھی صورت اپنی کسی کوشش کی بدولت خُدا کی طرح پاک نہیں ہو سکتا اور اپنی کوشش سے نجات حاصل نہیں کر سکتا(رومیوں 3باب 23آیت؛ 6 باب 23آیت)۔ صرف خُدا کے فضل کی بدولت ہی کوئی انسان صرف اُسی صورت میں بچ سکتا ہے جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اُن سے توبہ کرے اور خُداوند یسوع مسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کرے (اعمال 20 باب 21آیت؛ افسیوں 2 باب 8- 9آیات)۔

اِن اہم اختلافات کی بدولت ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے دونوں مذاہب یعنی اسلام اور مسیحیت اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دونوں بائبل اور قرآن جب ایک دوسرے سے متضاد تعلیم دیتے ہیں تو دونوں ہی خُدا کا کلام ہیں۔ سچائی کے نتائج ابدی ہوتے ہیں۔ ہمیں حقائق کی روشنی میں سچائی کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

"اَے عزِیزو! ہر ایک رُوح کا یقین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آزماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دُنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔خُدا کے رُوح کو تم اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی رُوح اِقرار کرے کہ یسوع مسیح مُجسّم ہو کر آیا ہے وہ خُدا کی طرف سے ہے۔اور جو کوئی رُوح یسوع کا اِقرار نہ کرے وہ خُدا کی طرف سے نہیں اور یہی مُخالفِ مسیح کی رُوح ہے جس کی خبر تم سُن چکے ہو کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اب بھی دُنیا میں موجود ہے۔اَے بچّو! تم خُدا سے ہو اور اُن پر غالب آ گئے ہو کیونکہ جو تم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اسلام کیا ہے اور مسلمان کیا ایمان رکھتے ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries