settings icon
share icon
سوال

کیا سچائی نسبتی ہے ؟

جواب


جب کوئی شخص کہتا ہے کہ سچائی نسبتی ہے تو عام طور پر اُس کے کہنے کا مطلب یہ ہوتاہے کہ کوئی مطلق /ہمہ گیر سچائی موجود نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ چیزیں آپ کو سچ لگتی ہوں مگر میرے لیے سچ نہ ہوں ۔ اگر آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں تو یہ آپ کے لیے سچ ہے۔ اگر میَں اس پر یقین نہیں رکھتا تو یہ میرے لیے سچ نہیں ہے۔ جب لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ "اگر آپ کے نزدیک خدا موجود ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن میرے نزدیک وہ موجود نہیں ہے" تو وہ اِس مشہور عقیدے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ سچائی نسبتی ہے۔

"نسبتی سچائی" کا مکمل تصور بے تعصب اور وسیع النظر لگتا ہے۔ تاہم قریب سے تجزیہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل بھی وسیع النظر نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ " آپ کے نزدیک خدا موجود ہے لیکن میرے نزدیک وہ موجود نہیں ہے " تو اِس سے دراصل یہ مراد ہے کہ خدا کے بارے میں دوسرے شخص کا تصور غلط ہے۔ یہ فیصلہ کُن بیان ہے۔ لیکن حقیقت میں کوئی بھی شخص یہ نہیں مانتا کہ تمام سچائی نسبتی ہے۔ کوئی بھی سمجھدار شخص یہ نہیں کہتا کہ "کشش ثقل آپ کے لیے کام کرتی ہے مگر میرے لیے نہیں" اور پھر اس یقین کے ساتھ کہ اُسکا کوئی نقصان نہیں ہو گا اونچی عمارتوں سے چھلانگ لگانے میں پہل کرے ۔

یہ بیان کہ " سچائی نسبتی " ہے حقیقت میں ایک خود تردیدی بیان ہے۔ایسا کہتے ہوئے کہ "سچائی نسبتی ہے" کوئی شخص اصل میں اپنی قیاس کردہ سچائی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر تمام سچائی نسبتی ہے تو یہ بیان بذات ِ خود بھی نسبتی ہے - جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مستقل طور پر سچے ہونے پر ہم بھروسہ نہیں کر سکتے۔

یقیناً کچھ بیانات نسبتی ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر" میری فورڈ مسٹینگ(Ford Mustang)اب تک کی بنائی گئی بہترین کار ہے" ایک نسبتی بیان ہے۔ کار کا شوقین یہ خیال کر سکتا ہے کہ یہ بات سچ ہے لیکن کوئی ایسا حتمی معیار نہیں ہے جس کے ذریعے "بہترین " ہونے کی پیمائش کی جائے۔ یہ محض کسی کا خیال یا رائے ہے۔ تاہم یہ بیان کہ "ایک سرخ رنگ کی فورڈ مسٹینگ باہر صحن میں کھڑی ہے اور وہ میری ہے " نسبتی نہیں ہے۔ یہ ہمہ گیر حقیقت پر مبنی ہونے کی بناء پر یا تو سچ ہے یا جھوٹ ۔ اگر صحن میں کھڑی گاڑی(سرخ نہیں) نیلی ہے تو بیان غلط ہے۔ اگر صحن میں کھڑی سرخ مسٹینگ کسی اور شخص کی ہےتو بھی یہ بیان غلط ہے – یہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔

عام طور پر بات کی جائے تو آراء نسبتی ہوتی ہیں ۔ بہت سے لوگ خدا یا مذہب سے متعلقہ کسی بھی سوال کو رائے کے زمرے میں شمار کرتے ہیں ۔ "آپ یسوع کو ترجیح دیتے ہیں – اگر یہ آپ کے لیے مفید ہے تو ٹھیک ہے ۔" مسیحی جس بات کو بیان کرتے ہیں (اور جو بائبل سکھاتی ہے) وہ یہ ہے کہ سچائی نسبتی نہیں ہےچاہے موضوع کچھ بھی ہو۔ جس طرح ایک ہمہ گیر ظاہری حقیقت ہے اُسی طرح ایک ہمہ گیر رُوحانی حقیقت بھی ہے ۔ خدا لا تبدیل ذات ہے (ملاکی 3باب 6آیت )؛ خُداوند یسوع نے اپنی تعلیمات کو ایک ٹھوس اور مستحکم چٹان سے تشبیہ دی (متی 7باب 24آیت )۔ یسوع ہی نجات کی واحد راہ ہے اور یہ مستقل طور پر ہر شخص کے لیے حتمی سچائی ہے (یوحنا 14باب 6آیت )۔ جس طرح زندہ رہنے کے لیے لوگوں کو سانس لینے کی ضرورت ہےاُسی طرح لوگوں کو رُوحانی زندگی کا تجربہ کرنے کے لیے مسیح پر ایمان کے وسیلے نئے سرے سے پیدا ہونے کی ضرورت ہے (یوحنا 3باب 3آیت )۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا سچائی نسبتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries