settings icon
share icon
سوال

درمیانی حالت سے کیا مُراد ہے؟

جواب


الٰہیاتی لحاظ سے "درمیانی حالت" کے لیے انگریزی اصطلاح "Intermediate State" استعمال کی جاتی ہے اور اِس کے پیچھے الٰہیاتی تصور اُن بدنوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں پیش کرتا ہے جو آسمان پر جانے والے ایمانداروں کو اُس وقت تک دئیے جائیں گے جب تک اُن کے جسمانی بدنوں کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ بائبل اِس بات کو بالکل واضح کرتی ہے کہ مر جانے والے ایماندار خُدا کے پاس چلے جاتے ہیں (2 کرنتھیوں 5 باب6-8آیات؛ فلپیوں 1باب23آیت)۔ بائبل اِس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ ایمانداروں کی قیامت ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مر جانے والے ایمانداروں کے جسم ابھی تک قبروں کے اندر ہی ہیں (1 کرنتھیوں 15باب 50-54آیات؛1 تھسلنیکیوں 4 باب13 -17آیات)۔ پس اِس درمیانی حالت کے تعلق سے سوال یہ ہے کہ جس وقت تک ایمانداروں کے جسمانی بدنوں کو زندہ نہیں کر دیا جاتا تو کیااُنہیں آسمان پر کوئی عارضی بدن دیا جائے گا یا پھر آسمان پر جانے والے ایماندار کسی غیر مادی /رُوحانی جسم کی حالت میں ہیں۔

بائبل مُقدس اِس درمیانی حالت کے بارے میں کسی طرح کی کوئی خاطر خواہ معلومات مہیا نہیں کرتی۔ کلام کا وہ واحد حوالہ جو خصوصی طور پر لیکن پھر بھی بلا واسطہ اِس موضوع کے بارے میں بات کرتا ہے وہ مکاشفہ 6باب9آیت ہے، "مَیں نے قربان گاہ کے نیچے اُن کی رُوحیں دیکھیں جو خُدا کے کلام کے سبب سے اور گواہی پر قائم رہنے کے باعث مارے گئے تھے۔"اِس آیت کے اندر ہم پڑھتے ہیں کہ یوحنا کو ایک رویا دی جاتی ہے جس کے مطابق وہ اُن لوگوں کی رُوحوں کو دیکھتا ہے جو اخیر زمانے میں خُداوند یسوع مسیح پر اپنے ایمان کی وجہ سے شہید کئے جاتے ہیں۔ اِس بیان کے اندر وہ ایماندار جنہوں نے اپنے ایمان کی خاطر اپنی جانوں کو قربان کیا ہے وہ خُدا کی قربان گاہ کے نیچے ہیں اور اُن کو بطور "رُوح" بیان کیا گیا ہے۔ پس اِس ایک آیت کی روشنی میں اگر درمیانی حالت کے اندر ایمانداروں کے جسموں کی بات کی جائے تو وہ غیر مادی جسم کی حالت میں یعنی اپنے بدنوں کے دوبارہ زندہ کئے جانے تک رُوح کی حالت میں ہیں۔

وہ مقام جو ایمانداروں کی حتمی سکونت گاہ بننے کے لیے اُن کا منتظر ہے وہ دراصل نیا آسمان اور نئی زمین ہوگی (مکاشفہ 21باب 22آیات)۔ آسمان واقعی میں مادی وجود کا حامل ہوگا۔ ہمارے جسمانی بدنوں کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اُنہیں جلالی بنایا جائے گا، اور پھر اُنہیں نئی زمین پر ابدیت گزارنے کے لیے بالکل اُس کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ حالیہ طور پر آسمان ایک رُوحانی مقام ہے، اِس سے یہ پتا چلتا ہے کہ اِس رُوحانی مقام پر کسی طرح کے عارضی جسموں کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہوگی، ایماندار رُوحانی آسمان پر رُوحانی حالت میں رہیں گے۔ وہ درمیانی حالت جو کچھ بھی ہے، آسمان پر رہنے والے ایماندار مکمل طور پر اطمینان کے ساتھ آسمانی جلالی چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خُدا کے جاہ و جلال کی تعریف کے ساتھ اُس کی حمدو ستائش کریں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

درمیانی حالت سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries