زبین تدبیر کا نظریہ کیا ہے؟



سوال: زبین تدبیر کا نظریہ کیا ہے؟

جواب:
زبین بدبیر یا منصوبہ کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ زبین تدبیر میں جو پیچیدہ اور الجھی ہوئي باتیں ہیں جیسے علم حیاتیات، بیش قیمت معلومات کی عبارتیں وغیرہ انکو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ اسباب تجربہ کے نظریہ سے دریافت کرنے کے قابل ہے۔ کچھ ایک حیاتیاتی واقعات ڈارون کی ایسے لگتے ہیں جیسے کہ تدبیر کئےہوئے ہیں۔ چونکہ یہ معقول طریقہ سے تدبیر کیا ہوا ہے اس لئے اس امر کو ایک زبین تدبیر کرنے والے کے تحت لازم کردیا گیا ہے، تدبیر کا اظہار ایک تدبیر کرنے والے کے لئے ثبوت بطور حوالہ دیا گیا ہے۔ زبین تدبیر یا منصوبہ میں تین خاص نظریےپائے جاتے ہیں۔

1) ناقابل تحویل پیچیدگی

ناقابل تحویل پیچیدگی کو اس طرح سمجھایا گیا ہے کہ " ایک اکیلا نظام جسکو بہت اچھی طرح سے ترکیب دیا گيا ہو میلان کیا گیا ایک دوسرے پر اثر ڈالنے والے حصوں میں سےجو ایک بنیادی عمل میں تعاون پیش کرتا ہے جس میں سے کسی بھی حصہ کو ہٹانے سے نظام مؤثر طریقہ کام کرنا بند کردیتا ہے"۔ اس کوآسان طریقہ سے اس طرح سمجھایا جاسکتا ہے کہ زندگی کئي ایک دیگر حصوں میں مشتمل ہوکر بنی ہے جو کارآمد ہونے کے لئے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ بے سوچے سمجھے تبدیلی ایک نئے حصے کی ترقی کا سبب بن سکتا ہے مگر یہ مختلف حصوں کے مسلسل ترقی کے لئے سبب نہیں بن سکتا ہے جو مناسب طریقہ عمل کے لئے ضروری ہے۔ مثال بطور انسان کی آنکھ بجاطور سے نہایت ہی کارآمد نظام ہے۔ آنکھ کے ڈھیلے کے بغیر آنکھ کی رگ اور نظر کا چھلکا جو دعاغ کے بیرونی تہہ سے جڑا ہوا ہے اگر وہ ایک بے ترتیب ڈھنگ سے جڑا ہوتو وہ تبدیل شدہ ایک ادھوری آنکھ کہلائيگی۔ اور یہ درحقیقت بنی نوع انسان کی بقا کی بابت قدرتی چناؤ کے طریقہ عمل کے ذریعہ علیحدہ کردیا جائيگا۔ ایک آنکھ تب تک کارآمد نظام ثابت نہیں ہوگا جب تک کہ اس کے تمام حصے صحیح جگہ پر موجود نہ ہو اور اس کے ساتھ ہی مناسب طور سے اور موزوں طریقہ سے کام نہ کر رہے ہوں۔

تعین کی ہوئی پیچیدگی کا تصور یہ ہے کہ تعین کئے ہوئے پیچیدہ نمونے جسم حیوانی میں پائے جاسکتے ہیں۔ رہنمائي کے کچھ وضع انکی اصل کے لئے ذمہ دار ہونے چاہئے۔ تعین کی ہوئی پیچیدگی کے ثبوت پیش کرتے ہیں کہ پیچیدہ نمونوں کے لئے یہ ناممکن ہے کہ بے سوچے سمجھے طریقہ عمل کے ذیعہ انہیں بڑھایا جائے۔ مثال بطور 100 بندروں اور 100 کمپوٹروں سے بھرے کمرے میں آخر کار کچھ الفاظ ہوسکتے ہیں یا کم از کم ایک جملہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مگر یہ کبھی بھی شیکسپیر کے ناٹک کی پیش کش نہیں کر پائینگے۔ اور یہ شیکسپیر کے ڈرامے کے مقابلے میں حیاتیاتی زندگی کتنا زیادہ پیچیدہ ہے؟

اور انسان سے متعلق اصول بتایا ہے کہ دنیا اور کائنات زمین پر زندگی کی اجازت دینے کے لئے "بہتر طریقہ سے موزوں ہے"۔ اگر زمین کی ہوا میں عناصر کے تناسب کا تھوڑا سا بھی فرق ہوجائے تو بہت جلد کئی ایک انسانوں اور جانوروں کا وجود ختم ہوجائیگا۔ اسی طرح اگر زمین کچھ ہی میل کے فاصلے پر سورج سے دوریا پاس میں چلے جائے تو ناقابل برداشت گرمی یا سردی کے سبب سے تمام انسانوں اور جانوروں کا وجود ختم ہوجائیگا۔ زمین پر زندگی کے وجود اور ترقی کے لئے کئي ایک تبدیل پزیر (گھٹتے بڑھتے حالات) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ مکمل طور سے سراغ مل سکے کہ تمام تبدیل پزیر حالات کے بے سوچے سمجھے آنے دیا جائے چاہے وہ غیر منتظم واقعات ہی کیوں نہ ہو۔

زبین بدبیر یا منصوبہ کی ذہانت کی پہچان کرنے کے لئے نہیں مانا جاتا (چاہے وہ خدا ہو یا اڑن طشتری یا کوئی بھی چیز کیوں نہ ہو)۔ زبین تدبیر یا منصوبہ کے نظریہ کے تمام ماہر ملحد یا کافر یا دھریت کو خواہاں ہیں۔ وہ تدبیر کے مظاہرہ کو دیکھتے ہیں جو خدا کے وجود کے لئے ثبوت کے طور سے حیاتیاتی دنیا میں پوشیدہ ہے۔ کسی طرح گنتی کے کچھ ملحد لوگ ہیں جو تدبیر کے لئے ثبوت کا انکار نہیں کرسکتے ہیں۔ مگر ایک خالق خدا کی حکمت کو پختہ طور سے معلوم کرنا نہیں چاہتے۔ وہ ا کائی یا ہندسہ کو اس ثبوت کے طور بطور ترجمانی کرتے ہیں کہ دوسرے زمین کی کسی قسم کی عجیب وغریب مخلوق (ایلینس) کے دوڑ کی مہارت سے بیج دار کیا گیا تھا۔ بے شک وہ ایلینس کے اصل کے طرف اشارہ نہیں کرتے ہیں اس لئے کہ ان کے پاس خاص بحث کے طرف قابل اعتبار جواب کے ساتھ واپس جانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

زبین تدبیر یا منصوبہ بائیبل کے مطابق تخلیقات کے نظریہ نہیں ہے۔ یہ دو صورت حال کے بیچ ایک ضروری امتیاز ہے۔ بائیبل کی تخلیق پر یقین کرنے والے ماہر اس اختتام سے شروع کرتے ہیں کہ بائيبل کی تخلیق کا بیان بھروسہ مند اور درست ہے۔ اور زمین پر کی زندگی کو ایک زبین کا رندہ— خدا کے ذریعہ مخصوص کیا گیا ہے۔ پھر وہ لوگ قدرتی دنیا کے ساتھ ثبوت کا توقع رکھتے ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ زمین پر کی زندگی ایک زبین تدبیر کرنے والے کارندہ کے ذریعہ مخصوص کیا گیا ہے (چاہے وہ کوئي بھی ہو)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



زبین تدبیر کا نظریہ کیا ہے؟