settings icon
share icon
سوال

پُر حکمت نمونے یا ڈیزائن کا نظریہ کیا ہے؟

جواب


پُر حکمت نمونے یا ڈیزائن کا نظریہ بیان کرتا ہے کہ حیاتیات/زندگی کی بہت ہی پیچیدہ ، معلومات سے بھر پور ساخت کو بیان کرنے کے لیے بڑی پُرحکمت وجوہات کا موجود ہونا بہت ضروری ہے ، اور یہ کہ اُن وجوہات کا تجرباتی طور پر سراغ لگایا جا سکتا ہے یا اُنکی شناخت کی جا سکتی ہے۔ بہت ساری ایسی حیاتیاتی خصوصیات ہیں جو ڈاروّن ازم کے معیاری "محض اتفاق سے ہر ایک چیز کے پیدا ہونے" کے نظریے کو غلط ثابت کرتے ہوئے چیلنج کر تی ہیں کیونکہ اُن کی ساخت پر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں بہت ہی زیادہ پُرحکمت طریقے سے بڑی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ اب جس طرح کسی بھی چیز کا نمونہ یا ڈیزائن منطقی لحاظ سے ایک ڈیزائنر یا نمونہ ساز کے وجود کا تقاضا کرتا ہے اُسی طرح کسی ڈیزائن یا نمونے کا وجود ایک ڈیزائنر یا نمونہ ساز کے وجود کی شہادت بھی دیتا ہے۔ پُر حکمت نمونے یا ڈیزائن کےنظریے کے تین بنیادی دلائل یہ ہیں:

‌أ. ناقابلِ تخفیف پیچیدگی

‌ب. وضاحت کردہ/تشریح کردہ پیچیدگی

‌ج. بشری اصول

ناقابلِ تخفیف پیچیدگی کی تعریف کچھ اِس طرح سے کی گئی ہے"۔۔۔ایک ایسا نظام جو بہت سارے ایسے باہمی طور پر ملکر کام کرنے والے حصوں سے بنا ہو جو سب اُس نظام کو چلانے کا بنیادی کام کرتے ہیں، اور اگر اُس نظام کے حصوں میں سے کسی ایک حصے کو نکال دیا جائے تو وہ اُس نظام کے سارے کام پر متاثر ہوتے ہوئے اُس کے رُک جانے کا باعث بنتا ہو۔"اگر ہم اِس کو سادگی کے ساتھ دیکھیں تو زندگی ایسی چیزوں یا حصوں سے ملکر بنی ہوئی ہے جو ایک طرح سے باہمی طور پر بُنے ہوئے ہیں اور زندگی کے نظام کو چلانے کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ زندگی کے مختلف طرح کے نظاموں میں وقتی تغیر کچھ نئے حصوں کے وجود میں آنے کی وجہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن اُس تغیر کی وجہ سے اچانک سے اتنے زیادہ نئے حصے وجود میں نہیں آ جاتے کہ ایک بالکل نیا نظام پیدا ہو کر کام کرنا شروع کر دے۔ مثال کے طور پر انسانی آنکھ بلا شک و شُبہ ایک بہت ہی زیادہ اہم جسمانی حصہ ہے۔ (آنکھ کے) دیدے/پتلی، بصری اعصاب، بصری مواصلات کے بغیر محض اتفاق سےتغیر کی بدولت درجہ بدرجہ وجود میں آنے والی آنکھ مختلف قسم کے جانداروں کی انواع کے بچاؤ یا قیام میں مددگار نہیں ہوگی کیونکہ وہ دیکھنے کا کام ہی نہیں کرے گی، اور ڈاروّن ازم کے اپنے ہی نظریے کے مطابق ایک بے سود اعضو ہونے کی وجہ سے وہ فطری چناؤ کی بدولت ایک دور میں ختم ہو جائے گی۔ ایک آنکھ صرف اُسی وقت کامیاب اور مفید نظام ثابت ہوسکتی ہے جب اُس کے سارے کے سارے حصے اپنی اصل اور مکمل حالت میں ایک ساتھ موجود ہوں اور ملکر کام کریں۔

وضاحت کردہ/تشریح کردہ پیچیدگی سے مُراد یہ ہے کہ جب ہم زندگی کے مختلف طرح کے نظاموں میں ایسے پیچیدہ نمونے دیکھتے ہیں جو اگرچہ پیچیدہ ہیں لیکن اُنکی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اُنہیں بنایا گیا تب خاص قسم کی باضابطہ معلومات کو باہمی طور پر مربوط کیا گیا تھا۔ وضاحت کردہ یا قابلِ وضاحت پیچیدگی کی دلیل بیان کرتی ہے کہ کسی ایسے پیچیدہ نظام کا جو ہم آجکل دیکھ سکتے ہیں محض اتفاق کے ساتھ خود بخود جنم لے لینا قطعی طور پر نا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک کمرے میں 100 کمپیوٹر رکھے ہوں اور وہاں پر 100 بند رچھوڑ دیئے جائیں، اُن بندروں کی اُچھل کود سے اُن کمپیوٹروں میں سے چند ایک پر اتفاقاً کوئی ایک آدھ لفظ یا فقرہ تو لکھا جا سکتا ہے لیکن اُس کمرے میں 100 کمپیوٹروں اور 100 بندروں کی موجودگی قطعی طور پر شیکسپیر کے ڈراموں کے وجود میں آنے کا باعث نہیں بن سکتی۔ ابھی یہاں پر آپ خود سوچ لیں کہ حیاتیاتی دُنیا اور زندگی شیکسپیر کے ڈراموں سے کس قدر زیادہ پیچیدہ ہیں؟

بشری دلیل یا اصول یہ بیان کرتا ہے کہ یہ دُنیا اور کائنات بہت محتاط انداز سے ایسی متوازن بنائی گئی ہے کہ اِس پر زندگی کا قیام و استحکام ممکن ہو سکے۔ اگر زمین پر موجود ہوا میں موجود عناصر میں بالکل معمولی سا رد و بدل کیا جائے تو بہت تیزی کے ساتھ کئی ایک مخلوقات صفحہِ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ اگر یہ زمین کچھ میل اور سورج کے قریب یا اُس سے دور ہوتی تو اِس پر موجود بہت ساری چیزیں اور مخلوقات مٹ جاتیں۔ اِس زمین کے اوپر زندگی کے وجود اور اُس کے فروغ کا تقاضا ہے کہ بہت ساری مختلف چیزیں اور نظام ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں چلیں۔ ابھی بہت ساری چیزیں اور نظام حقیقت میں باہمی طور پر بہت زیادہ ہم آہنگی میں چل رہے ہیں جو کہ حیرت انگیز ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ یہ سب محض اتفاق سے ایسے واقعات کے ذریعے سے وجود میں آیا ہے جن میں کوئی ہم آہنگی نہیں تھی، اور جو اچانک بغیر کسی منصوبے اور حکمت کے رونما ہوئے تھے تو یہ بات بالکل نا ممکن ہے۔

اگرچہ پُر حکمت نمونے یا ڈیزائن کا نظریہ اکثر پُرحکمت نمونے یا ڈیزائن کے پیچھے حکمت کا جو ذریعہ ہے اُس کی نشاندہی کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور نہ ہی فرض کرتا ہے کہ وہ اہم ذریعہ کیا ہے (کیا وہ خدا ہے یا پھر خلائی مخلوقات)۔ پُر حکمت نظریے کو پیش کرنے والے زیادہ تر لوگ خُدا کو ماننے والے ہیں۔ وہ حیاتیاتی دُنیا کے اندر انتہائی خاص اور پیچیدہ نمونے یا ڈیزائن کو دیکھتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کی حیاتیاتی دُنیا اصل میں خُدا کے وجود کا ثبوت ہے۔ بہرحال اِس نظریے کو ماننے والے ایسے لوگ بھی ہیں جو اِس کائنات کے اندر پُر حکمت نمونے یا ڈیزائن کا انکار تو نہیں کرتے لیکن وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اِس ساری کائنات کا خالق خُدا کی ذات ہے۔ وہ پُر حکمت ڈیزائن کے بارے میں جو بھی معلومات میسر ہیں اُن کی تشریح کچھ ایسے کرتے ہیں کہ اِس زمین پر جو کچھ بھی ہے اُس کی بنیاد انسان سے بھی بہتر کسی اور مخلوق (خلائی مخلوق) نے رکھی تھی اور یہ اُسی کا پھل ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ وہ اِس بات پر قطعی طور پر کوئی روشنی نہیں ڈالتے کہ خلائی مخلوقات کہاں سے آئی تھیں، پس ایسا کرتے ہوئے وہ پھر اُسی بحث کی طرف واپس آجاتے ہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آیا، اور اِس بات کا اُن کے پاس کوئی بھی جواب نہیں ہے۔

پُرحکمت نمونے یا ڈیزائن کا نظریہ اصل میں بائبلی تخلیق کا نظریہ نہیں ہے۔ اِن دونوں کے درمیان میں ایک بہت ہی اہم فرق موجو د ہے۔ بائبلی تخلیق کے نظریے کو ماننے والے اپنی بات کا آغاز ہی اِس نتیجے سے کرتے ہیں کہ تخلیق کے بارے میں بائبلی بیان بالکل درست اور قابلِ اعتبار ہیں اور اِس زمین پر موجود زندگی کا خالق ایک بہت کامل حکمت والی ہستی یعنی خُدا ہے۔ اِس کے بعد وہ اپنے اِس بیان یا نظریے کے لیے فطری دُنیا سے ثبوت ڈھونڈتے ہیں۔ پُرحکمت نظریے کو ماننے والے اپنے نظریے کا آغاز فطری دُنیا میں موجود پُرحکمت نمونوں کو دیکھ کر کرتے ہیں اور پھر اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اِس زمین پر موجود زندگی کو کسی بہت ہی با حکمت ہستی نے خلق کیا ہے (اور وہ با حکمت ہستی ضروری نہیں کہ خُدا ہو، وہ کوئی اور بھی ہوسکتا/ سکتی ہے۔)

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

پُر حکمت نمونے یا ڈیزائن کا نظریہ کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries