settings icon
share icon
سوال

باطنی انسانیت کیا ہے ؟

جواب


پولس "باطنی انسانیت" کی اصطلاح کو کئی بار اپنے خطوط میں استعمال کرتا ہے (2 کرنتھیوں 4باب16آیت؛ افسیوں 3باب16 آیت)۔ رومیوں 7باب22-23 آیات بیان کرتی ہیں کہ ، " کیونکہ باطنی اِنسانیّت کی رُو سے تو مَیں خُدا کی شرِیعت کو بہت پسند کرتا ہوں۔مگر مجھے اپنے اعضا میں ایک اَور طرح کی شرِیعت نظر آتی ہے جو میری عقل کی شرِیعت سے لڑ کر مجھے اُس گناہ کی شرِیعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے اعضا میں موجود ہے۔ "

بنی نوع انسان کو خُدا کی طرف سے رُوح ، بدن اور جان کے ساتھ تخلیق کیا گیا تھا (پیدایش 1باب27آیت؛ 1 تھسلنیکیوں 5باب23 آیت)۔ ہمارے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم رُوحوں کے ساتھ بدن نہیں بلکہ ہم ایسی رُوحیں ہیں جن کے بدن ہوتے ہیں۔ بدن –ظاہری انسانیت –ہماری ذات کا وہ مادی حصہ ہے جس کے ذریعے سے ہم بیرونی دُنیا کا تجربہ کرتے ہیں۔ ہمارے بدن عام طور پر ہمارے حواسِ خمسہ کے ذریعے سے اور ہماری بنیادی ترین ضروریات جیسے کہ کھانے، پینے اور سونے کے پورے ہونے کی بدولت کام کرتے ہیں۔ ہمارے بدن بُرے نہیں بلکہ خُد اکی طرف سے خاص تحفہ ہیں۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم اپنے بدنوں کو اُس کے حضور زندہ قربانیوں کے طور پر پیش کریں (رومیوں 12باب1-2 آیت)۔ جب ہم مسیح کے وسیلے خُدا کی طرف سے عطا کردہ نجات کے تحفے کو قبول کرتے ہیں، ہمارے بدن رُوح القدس کا مَقدس بن جاتے ہیں (1 کرنتھیوں 19-20 آیات؛ 3باب 16 آیت)۔

ہماری رُوحیں ہماری ذات کے وہ مراکز ہیں جہاں سے ہمارے ذہن، ہمارے ارادے اورجذبات کام کرتے ہیں۔ اپنی رُوحوں کے وسیلے سے ہم اِس بات کا انتخاب کرتے ہیں کہ ہم اپنے بدن کی شہوتوں کی بات مانتے ہوئے اُن کے تابع ہونگے یا پھر رُوح القدس کی خواہش کے (گلتیوں 5باب16-17 آیات؛ رومیوں 8باب9آیت؛ مرقس 14باب38 آیت)۔ کسی بھی شخص کی رُوح دراصل کمرہِ عدالت ہے جہاں پر زندگی کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ یہ کسی بھی زندگی کی حقیقی ذات کی وہ نشست اور چشمہ ہے جہاں سے کردار کی خصوصیات جیسے کہ خود اعتمادی، خود ترسی، خود پسندی اور خود اثباتی پیدا ہوتی ہیں۔

ہماری رُوحوں کے اندر وہ باطنی انسانیت موجود ہے جس کے بارے میں کلامِ مُقدس بات کرتا ہے۔ ہماری رُوحیں وہ جگہ ہیں جہاں خُدا کا رُوح ہمارے ساتھ کلام کرتا ہے۔ خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ " خُدا رُوح ہے اور ضرور ہے کہ اُس کے پرستار رُوح اور سچّائی سے پرستش کریں " (یوحنا 4باب24 آیت)۔ہم اپنی رُوحوں کے اندر نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں (یوحنا 3باب3-6آیات)۔ ہماری باطنی انسانیت کے پاس شعور ہے جس پر رُوح القدس جنبش کرتا اور ہمیں گناہ کے حوالے سے موردِ الزام ٹھہراتا ہے (یوحنا 16باب8 آیت؛ اعمال 24باب16آیت)۔ ہماری رُوحیں ہمارے اندر خُدا کی ذات کے سات منسلک سب سے بڑا حصہ ہیں اور یہ ہمارے اندر اچھائی اور بُرائی میں امتیاز کرنے والا فطری علم رکھتی ہیں (رومیوں 2باب14-15 آیات)۔ 1 کرنتھیوں 2باب11آیت بیان کرتی ہے کہ " کیونکہ اِنسانوں میں سے کَون کسی اِنسان کی باتیں جانتا ہے سوا اِنسان کی اپنی رُوح کے جو اُس میں ہے؟ اِسی طرح خُدا کے رُوح کے سوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا۔ "

رومیوں 12باب1-2 آیات میں پولس ہم سے التماس کرتا ہے کہ ہم دُنیا کے ہمشکل نہ بنیں بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جائیں ۔ یہ عقل اُس وقت نئی ہوتی ہے جب ہم رُوح القدس کو اپنی باطنی انسانیت میں کام کرنے کی مکمل آزادی دیتے ہیں۔ وہ ہمارے اعمال اور ہماری خواہشات کو تبدیل کرنا اور اپنی مرضی کے مطابق بنانا شروع کرتا ہے۔ رومیوں 8باب13-14 آیات بیان کرتی ہیں کہ " کیونکہ اگر تم جسم کے مطابِق زِندگی گذارو گے تو ضرُور مَرو گے اور اگر رُوح سے بدن کے کاموں کو نیست و نابُود کرو گے تو جیتے رہو گے۔اِس لئے کہ جتنے خُدا کے رُوح کی ہدایت سے چلتے ہیں وُہی خُدا کے بیٹے ہیں۔ "

رومیوں 7 باب ہمارے بدن اور رُوح کے درمیان اکثر چلنے والی تکلیف دہ جنگ کے بارے میں تفصیلات بیان کرتا ہے۔ ہماری رُوحیں خُد اکی قدرت سے نئے سرے سے پیدا ہونے کی وجہ سے خُداوند یسوع مسیح کی اطاعت اور پیروی کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ لیکن ہمارے بدن آسانی سے نہیں مرتے۔ رومیوں 6باب بیان کرتا ہے کہ ہم کس طرح سے اپنی باطنی انسانیت کو اپنے جسم پر فتح پانے میں کامیاب کروا سکتے ہیں۔ 6 اور 7 آیات بیان کرتی ہیں کہ "چُنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پُرانی اِنسانیّت اُس کے ساتھ اِس لئے مصلوب کی گئی کہ گُناہ کا بدن بے کار ہو جائے تاکہ ہم آگے کو گُناہ کی غلامی میں نہ رہیں۔کیونکہ جو مؤا وہ گُناہ سے بری ہُوا۔ " جب تک ہم اپنے آپ کو "مسیح کے ساتھ مصلوب" خیال نہ کریں (گلتیوں 2باب20 آیت)، ہمارا بدن اور رُوح ایک دوسرے پرغلبہ پانے کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔ ہم شکست کی حالت میں اُس وقت تک جیتے رہتے ہیں جب تک ہم اپنی خودی کو نہیں مارتے اور رُوح کو اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں یعنی باطنی اورظاہری انسانیت کا اختیار نہیں دے دیتے۔

یہ خُدا کی انسانوں کے لیے خواہش اور ڈیزائن ہے کہ ہم ہمیشہ نئے سرے سے پیدا شُدہ فطرت کے ساتھ جئیں جو رُوح القدس کے ساتھ ہمقدم ہے۔ لیکن ہماری گناہ میں گری ہوئی فطرت حکمرانی کرنا چاہتی ہے اور اِس طرح ایک رُوحانی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ رومیوں 7باب24 آیت ایک ایسا سوال پیش کرتی ہے جو مسیح کا ہر ایک وقف شُدہ پیروکار پوچھتا ہے : " ہائے مَیں کیسا کمبخت آدمی ہُوں! اِس مَوت کے بدن سے مجھے کَون چُھڑائے گا؟ " 25 آیت اِس سوال کا جواب پیش کرتی ہے : " اپنے خُداوند یسُو ع مسیح کے وسیلہ سے خُدا کا شکر کرتا ہُوں ۔ " ہم جس حد تک اپنی باطنی انسانیت کو رُوح القدس کے تابع کرتے ہیں، اُسی حد تک ہم اپنی گناہ میں گری ہوئی فطرت اور بدن پر فتح اور غلبہ پاتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

باطنی انسانیت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries