settings icon
share icon
سوال

ایک ملحد/لادین /دہریے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


لفظ ملحد/بے دین کا سادہ مطلب " ایمان کے بغیر "یا " ایمان کے خلاف" ہے ۔ملحد وہ شخص ہے جو مذہب کی تردید کرتا ہے۔ ملحد کی اصلاح ایک ویب سائٹ infidels.org سے منسلک ہے جو مسیحی ایمان پر حملہ کرتی ہے ۔ انٹریٹ انفیڈل (Internet Infidels) جو سکولر ویب کے نا م سے بھی جانی جاتی ہے انٹرنیٹ پر ملحدین اور فطرت پسندوں کے لیے ایک بنیادی ویب سائٹ ہے ۔ اس کا بیان کردہ مقصد انٹرنیٹ پر قدرتی نظریہ ِ حیات کا دفاع کرنا اور اسے فروغ دینا ہے ۔ مسیحی اپولوجسٹ جیمز پیٹرک ہولڈنگ(J.P. Holding) نے بیان کیا ہے کہ بے دین سیکولر ویب میں کچھ ذہین لوگ بھی ہیں لیکن یہ مجموعی طور پر ہمہ دان متشکک لوگوں کے لیے اپنی مہارت سے بیرونی معاملات پر فیصلہ سنانے کےلیے طویل عرصے سے ایک پنا ہ گاہ بنی ہوئی ہے۔"

اس مضمون کا مقصد اُس ہر مسئلے کی جامع تردید فراہم کرنا نہیں ہے جو انٹرنیٹ انفیڈل نے اُٹھایا ہے ۔ بلکہ اِس کا مقصد انٹرنیٹ انفیڈل کے پیچھے پائی جانی والی لا تعداد غلطیوں میں سے چند ایک کی نشاندہی کرنا ہے ۔

ایک ملحد/لادین /دہریے سے کیا مُراد ہے؟"؟- یسوع مسیح کے وجود سے انکار

انٹرنیٹ انفیڈل کےمختلف دعوؤں کا بیان یہ ہے کہ یسوع کبھی موجود نہیں تھا ایک ایسا مفروضہ جو طویل عرصے سے نئے عہد نامہ کی تحقیقات کے دہانے پر تھا لیکن یہ کبھی بھی اہل علم کی قابلِ ذکر تنظیم کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ مارشل جے گوین(Marshal J. Gauvin) اپنے مضمون " کیا یسوع کبھی موجود تھا ؟" میں صاف صاف بیان کرتا ہے کہ "معجزات رونما نہیں ہوتے ۔ معجزاتی کہانیوں جھوٹی ہیں ۔ لہذا ایسی دستاویزات جن میں معجزاتی بیانات کو معروف حقائق کے ساتھ جوڑا گیا ہے وہ ناقابل اعتبار ہیں جن لوگوں نے معجزاتی عنصر کی ایجاد کی تھی وہ آسانی سے اس جزو کی ایجاد کر چکے ہیں جو فطری تھا ۔" اگر کوئی شخص یہ خیال کرتے ہوئے کہ معجزات ناممکن ہیں فطرت پرستی پر مبنی نظریہ حیات پر زور دیتا ہے تو پھر کوئی بھی خدا کی موجودگی کو فرض کرتے ہوئے الہیاتی نظریہ حیات کو بڑی آسانی سے ثابت کرنے کی کوشش کر سکتا ہے ۔ یہ دلیل ہر لحاظ سے خود تردیدی ہے ۔

اس مضمون کے بارے میں گووین کی نااہلی اور مکمل غلط فہمی کو ذیلی پیراگراف میں مزید واضح کیا گیا ہے :

‏اس نظریے کے تعلق سے کہ مسیح کو مصلوب کیاگیا تھا ہم اس حقیقت کی وضا حت کیسے کریں گے کہ مسیحیت کے ارتقاء کی پہلی آٹھ صدیوں کے دوران مسیحی فَنُون لطیفہ ایک انسان کی بجائے ایک برّے کی نشاندہی کرتا ہے جسے دنیا کی نجات کےلیے صلیب کا دکھ دیا جاتا ہے ؟ نہ تو زیرِ زمین تہہ خانوں میں بنی قبروں پر موجود تصویر کشی میں اور نہ ہی مسیحی مقبروں پر موجود مجسمہ سازی میں صلیب پر انسانی شکل کی تصویر ملتی ہے۔ ہر جگہ ایک برّے کو دکھایا گیا تھا- ایک برّہ جو صلیب لیے کھڑا تھا ، ایک برّہ جو صلیب کے نیچے موجود تھا ، ایک برّہ جو ایک صلیب پر تھا ۔ کچھ تصاویر نے انسانی سر ، کندھوں اور بازوؤں کے حامل برّے کو پیش کیا جس کے ہاتھوں میں ایک صلیب تھی – خدا کا برّہ جو مصلوبیت کے افسانوی قصے کو حقیقت بناتے ہوئے انسانی شکل اختیار کرنے کے عمل میں تھا۔ آٹھویں صدی کے اختتام پر قسطنطنیہ کی چھٹی کونسل کے فرمان کی تائید کرتے ہوئے پوپ ہیڈرین اوّل نے حکم دیا کہ برّے کی جگہ آج کے بعد صلیب پرایک انسانی شکل ہونی چاہیے ۔ اپنے دُکھ اُٹھانے والے نجات دہندہ کی علامت تیار کرنے میں مسیحیت کو آٹھ سو سال لگ گئے تھے ۔ آٹھ سو سالوں تک مسیح صلیب پر ایک برّے کی صورت میں تھا ۔ لیکن اگر واقعی مسیح کو صلیب دیا گیا تھا تو صلیب پر اس کی جگہ ایک برّہ اتنی دیر تک کیوں قابض رہا تھا ؟ تاریخ اور شعور کی روشنی میں اور صلیب پر موجود برّے کے بارے میں نقطہ نظر کی روشنی میں ہمیں مصلوبیت پر کیوں ایمان لانا چاہیے ؟

اس قسم کے دلائل کسی بھی ایسے مسیحی سے کسی طرح کے تبصرے کا تقاضا نہیں کرتے جس کے پاس بائبل کا محض بنیادی علم ہے ۔ گووین حتیٰ کہ مسیحیت کے فسح کے برّے کے نشان کے بارے میں بھی بات نہیں کرتا؛ بہرحال کیا اس کا ذکر کرنا اہمیت کا حامل ہے ؟

آئیے انٹرنیٹ انفیڈل کے مضامین کی طرف سے اُٹھائے گئے تین نکا ت پر بالخصوص توجہ مرکوز کریں ۔ یہ نکات سیکولر(بائبل سے باہر کے) حوالہ جات کی کمی ، حقیقی اناجیل کا غناستی ذرائع کیساتھ موازنہ اورمظاہر پرستی سے مبینہ مما ثلت ہیں۔

آئیے سب سے پہلے یسوع کے بارے میں جوسیفس کی طرف سے دئیے گئے حوالے پر غور کرتے ہیں ۔ گاوین لکھتا ہے :

پہلی صدی کے اختتامی برسوں میں مشہور یہودی تاریخ دان جوسیفس نے "The Antiquities of the Jews" کے عنوان سے اپنی مشہور کتاب لکھی۔ اس کتاب میں تاریخ دان نے مسیح کا کوئی ذکر نہیں کیا اور جوسیفس کی موت کے بعد دو سو سال تک مسیح کا نام اُس کی تاریخ میں ظاہر نہیں ہوا تھا ۔ اُن دنوں میں اشاعت خانے موجود نہیں تھے۔کتب کی تعدا د میں اضافہ نقل کے عمل کے ذریعے کیا جاتا تھا ۔ لہذا مصنف کی لکھی ہوئی باتوں میں اضافہ کرنا یا انہیں تبدیل کرنا آسان تھا۔ کلیسیا نے محسوس کیا کہ جوسیفس کو مسیح کی شناخت کرنی چاہیے تھی ، پس اُس وقت مُردہ تاریخ دان(جوسیفیس) کو ایسا کرنے کے لیے محبور کیا گیا۔ چوتھی صدی میں "The Antiquities of the Jews " کی ایک نقل شائع ہوئی جس میں یہ عبارت سامنے آئی : "اور اُن دنوں وہاں پر ایک دانشور آدمی یسوع تھا ، اگر اسے محض ایک آدمی کہنا بجا ہو تو کیونکہ اُس نے بہت سے حیرت انگیز ( عجیب) کام کئے اور وہ ایسے لوگوں کا استاد تھا جو سچائی کو بڑی خوشی کے ساتھ قبول کرتے تھے ۔ اس نے بہت سارے یہودیوں اور بہت سارے غیر اقوام کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا ۔ وہ مسیح تھا ۔ اور جب پیلا طس نے ہم میں سے بیشتر لوگوں کے مشورے پر اُسے صلیب پر مار دینے کے لیے رد کیا تواُنہوں نے جو اُسے پیار کرتے تھے اُس کو نہ چھوڑا کیونکہ وہ تیسرےروز پھر ان پر زندہ ظاہر ہوا جیسا کہ نبیوں نے اُس کے بارے میں اس بات اور مزید ہزاروں حیرت انگیز باتوں کی پیشن گوئی کی ہوئی تھی ۔ اور یہ مسیحی فرقہ جس کا نام مسیح کے نام پر ہی پڑا آج کے دن تک نا پیدا نہیں ہوا ۔"

یہ سچ ہے کہ کبھی کبھار یہ سوال کیا جا تا ہے کہ" The Antiquities of the Jews " کی اس عبارت میں تحاریف پائی جاتی ہیں جنہیں بعد میں آنے والے کاتبین کی طرف سے شامل کیا گیا ہے ( عالمین کی بہت ہی کم تعداد اس بات کی قائل ہے کہ اس عبارت کی سالمیت مستند ہے )۔لیکن انٹرنیٹ انفیڈلز بظاہر " مکمل تحریف " کے نظریے کے قائل ہیں ۔

ایک بار جب واضح تحاریف کو ختم کر دیا جاتا ہے تو اس عبارت کو جزوی طور پر مستند تسلیم کرنے کی چند وجوہات کونسی ہیں؟جزوی حقانیت کے موقف کو قبول کرنے کےلیے زیادہ تر عالمین کی رہنمائی کرنے والا سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ اس عبارت کا ایک بڑا حصہ جوسیفس کی مخصوص زبان اور طرز ِ تحریر کی عکاسی کرتا ہے ۔ مزید یہ کہ جب کاتبین کی طرف سے کی گئی واضح تحریف کو ختم کر دیا جاتا ہے تو بقیہ بنیادی عبارت مربوط ہے اوراُسے بڑی روانی سے پڑھا جاتا ہے ۔

عالمین کی اکثریت کی طرف سے یسوع کے بارے میں اس حوالے کے بڑے حصے کو جوسیفس کی طرزِ تحریر کی خصوصیت سمجھا جاتا ہے اوراُس میں صرف چند ایک جزو جملے واضح طور پر مسیحی ہیں۔ مزید یہ کہ جوسیفس کے بہت سے جزو جملے ابتدائی مسیحی ادب سے غائب ہیں اور ایسے فقرے یا اصطلاحات جن کو مسیحیوں نے ممکنہ طور پر استعما ل نہیں کیا ہو گا جوسیفیس کی تحریروں میں موجود ہیں ۔ پھر اِس تحریر کے اندر ایک خاص جملہ ہے جسے کوئی بھی مسیحی کاتب جب پڑھتا تو اُس کے نزدیک وہ یقینی طور پر غلط تھا: ("اُس نے بہت سارے یہودیوں اور بہت سارے غیر اقوام کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا ")۔

دلچسپ بات ہے کہ گاوین جوسیفس کی تحریروں میں یسوع کے بارے میں دیگر حوالہ جات کے ذکر کو نظر انداز کرتا ہے۔ جن کی صداقت کو تمام عاملین اُن حوالوں کی مکمل سالمیت کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں :

" لیکن چھوٹا حننیاہ جس کو جیسے ہم نے بتایا کہ سردار کاہن بنایا گیا تھا انتہائی بہادر اور غیر معمولی حد تک جرات مند تھا ۔ وہ بھی صدوقیوں کے اُس گروہ میں شامل تھا جو تمام یہودیوں میں عدالتی معاملات کے لحاظ سےسب سے زیادہ سخت ہیں جیسا کہ ہم پہلے ہی دِکھا چکے ہیں۔ اب چونکہ حننیاہ ایسی خصوصیات رکھتا تھا تو اُس نے اُس وقت کو ایک اچھا موقع جانا کیونکہ (گورنر ) فیستس مرچکا تھا اور ( اگلا گورنر) البانیس ابھی راستے میں ہی تھا لہذا اُس نے قاضیوں کی کونسل کو بُلایا اور اُن کے سامنے یسوع یعنی نام نہاد مسیح کے بھائی کو پیش کیا جس کا نام یعقوب تھا ، اور ساتھ میں کچھ اور لوگوں کو بھی ، اُن پر شریعت توڑے کا الزام لگا کر فتویٰ دیا اور سنگسار کرنے کےلیے حوالہ کیا"۔

عالمین کی اکثریت مندرج ذیل وجوہات کی بناء پر اس حوالے کو مستند قرار دیتی ہے :

أ. اس حوالے کے خلاف کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں ہے ۔ یہ بات "The Antiquities of the Jews "کے ہر ایک مسودے میں پائی جاتی ہے ۔ اتفاق سے اس کا اطلاق مذکورہ بالا حوالے پر بھی ہوتا ہے ۔

ب. اس عبارت میں غیر مسیحی اصطلاحات کا ایک خاص استعمال پایا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر یعقوب کا" یسوع کے بھائی " کے طور پر منسوب کیا جانا مسیحی رواج کے بالکل برعکس ہے جس میں اُسے "خداوند کا بھائی " کہہ کر پکار جاتا ہے ۔ لہذا یہ عبارت نہ تو نئے عہد نامے کے ساتھ اور نہ ہی مسیحیوں کے قدیم استعمال سے مطابقت رکھتی ہے ۔

ج. اس عبارت میں نہ تو یسوع پر اور نہ ہی یعقوب پر زور دیا جاتا ہے بلکہ اس میں سردار کاہن حننیاہ پر زور دیا جاتا ہے ۔اِس میں نہ تو یسوع کی اور نہ ہی یعقوب کی تعریف کی گئی ہے۔

د. نہ تو یہ عبارت اور نہ ہی وہ بڑی عبارت یسوع کو یوحنا بپتسمہ دینے والے سے جوڑتی ہے جیسا کہ ایک مسیحی تحریف کرنے والے سے توقع کی جاسکتی ہے۔

گاوین اپنے استدلال کو جاری رکھتا ہے ۔

کرنیلیس ٹیسی ٹس جو ایک رومی تاریخ دان ہے اس کی کتاب"اَینلز" (Annals) میں ایک اور مختصر عبارت پائی جاتی ہے جو ایک ایسے گروہ کے بانی کی حیثیت سے " کرسٹس" کا ذکر کرتی ہے جو مسیح کہلاتا تھا –لوگوں کی ایک ایسی جماعت " جن سے اُن کے جرائم کے باعث نفرت کی جاتی تھی " ۔ یہ الفاظ روم کے جلائے جانے کے بارے میں ٹیسی ٹس کی تاریخ میں پائے جاتے ہیں ۔ اس عبارت کی جوسیفس کی کتاب میں موجود گی کے مقابلے میں اور کوئی ثبوت اتنا معیاری ثابت نہیں ہوا ۔ پندرھویں صدی سے پہلے کسی مصنف نے اس کا حوالہ نہیں دیا تھا اور جب اس کا حوالہ دیا گیا تو اُس وقت دنیا میں "Annals " کی صرف ایک نقل موجود تھی ؛ اور اس نقل کوٹیسی ٹس کی موت کے چھ سوسال بعد میں ممکنہ طور پر آٹھویں صدی میں تیار کیا گیا تھا ۔ "Annals" یسوع کے دور کے تقریباً ایک صدی بعد 115 اور 117 عیسوی کے درمیان شائع ہوئی تھی۔حتی ٰ کہ مستند ہونے کے باوجود یہ حوالہ یسوع کے بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں کرے گا۔

یہ بات محض اہم نکتے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے ۔ پہلی صدی کے اسرائیل میں یسوع کے وجود کے بارے میں کوئی تکرار نہیں پائی جاتی تھی۔ ٹیسی ٹس اور دیگر لوگوں کی طرف سے یسوع کے بارے میں منفی حوالہ جات اس بات کا قوی ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ بہرحال پہلی صدی میں یسوع ایک حقیقی اور ممتاز شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ منفی حوالہ جات پیش کرنے والے مبصرین نے یسوع کے وجود کی تردید کیوں نہیں کی ؟ اُنہوں نے اپنی معلومات کہاں سے حاصل کی تھیں ؟مزید برآں محتاط انداز میں تفتیش کرنا ٹیسی ٹس کی مشہور خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ بطور تاریخ دان اُس کے قابل ِ اعتما د ہونے کی خصوصیت اس بات کی مخالفت کرتی ہے کہ اُس نے کسی اور ماخذ سے غیر تنقیدی طور پر معلومات کو ادھار لیا تھا۔ حوالہ جات کے منفی لہجے سے اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ ٹیسی ٹس نے اپنی معلومات مسیحیوں سے حاصل کی تھی

‏کیا ٹیسی ٹس صرف اُن لوگوں کی طرف سے جو کچھ اسے بتایا گیا تھا اُسے دہرانے کی طرف مائل ہوا جنہیں وہ ناپسند کرتا تھا؟ آخر کار، یہودیوں کی تاریخ اور عقائد کی رپورٹنگ کرتے وقت، جنہیں وہ مسیحیوں کی طرح حقیر سمجھتا تھا، اس کی تحقیر آمیز تصریحات سے کافی حد تک واضح نظر آتا ہے کہ ٹیسی ٹس یہودیوں کے "اپنے نقطہ نظر" یا یہاں تک کہ "یہودی مخبروں" سے بھی مشورہ کرنے کی طرف مائل نہیں تھا۔‏

گاوین یسوع کے بارے میں دیگر اُن ابتدائی سیکولر حوالہ جات کا تذکرہ نہیں کرتا جن کا ذکر تالمُود میں میں ملتا ہےجسے لوسیان،پلائنی ، سیوٹونیس ، ٹیسی ٹس اور تھیلس کی تصانیف میں دیکھا جا سکتاہے ۔ لیکن یہاں تک کہ اگر ہم یسوع کے بارے میں پہلی یا دوسری صدی کے ابتدائی سیکولر حوالہ جات کو تسلیم نہ کریں تو بھی ہمارےپاس اُس کے وجود کا ایک نہایت طاقتور ثبوت موجود ہو گا۔ ایسا کیوں ہے ؟اگر یسوع کے پیروکاروں نے ایک فرضی یسوع اور اس سے ایسی خصوصیات منسوب کرنے کا ارادہ کیا جن کا مقصد اُسے موعودہ مسیحا کی شخصیت کے حامل انسان کے طو پر پیش کرنا تھا تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوتی ہیں ۔ پہلی بات ، ایسا لگتا ہے کہ اُنہوں نے یقیناً یہ کام پوری طرح غلط طریقے سے کیا ہے ۔ اگر اُن کا مقصد ایک نئے مذہب کا آغاز کرنا تھا تو اسے اُن لوگوں کی توقعات کے مطابق مرتب کرنا مناسب ہو سکتا تھا جن کو وہ قائل کرنا چاہتے تھے ۔ موعودہ مسیحا کا یہودی تصور ایک ایسے عظیم جنگی رہنما کی نشاندہی کرتا تھا جو اُن پرمظالم ڈھانے والے رومیوں کے خلاف ایک عظیم فتح مندی کی جانب رہنمائی کرے گا ۔ دوسری بات ، جد ید دور کے عالمین کُلی طور پر اس بات پر متفق تھے کہ شاگرد جس بات کی منادی کر رہے تھے وہ خلوص نیت سے اُس پر ایمان رکھتے تھے ( وہ اپنے ایمان کی وجہ کوترک کرنے کے برعکس بے رحم موت کا سامنا کرنے کو بھی تیار تھے جو دیگر بہت سے وجوہات میں سے ایک تھی )۔ تیسری بات، اس حقیقت کے پیشِ نظر یسوع کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد شاگردوں کی منادی یروشلیم میں ہی تھی ( جہاں یسوع نے کھلے عام خدمت کی تھی ) من گھڑت کہانی کی تشکیل سازی کے لیے درکار مواد کے لحاظ سے وہ کسی حد تک محدود تھے ۔ اگر یسوع کا وجود ایک من گھڑت کہانی ہوتا تو اُنہوں نے روم یا کسی اور جگہ منادی کرنی تھی یعنی عینی شاہدین سے اتنی دور جہاں تک وہ جا سکتے تھے ۔

مزید یہ کہ مصلوبیت کے بعد شاگردوں کو درپیش صورتِ حال پر غور کریں ۔ اُن کا رہنما مر چکا تھا ۔ اور یہودی روایتی طور پر ایک مرنے والے مسیحا کو نہیں مانتے تھے ۔ درحقیقت حیاتِ بعد ازموت سے متعلق راسخ الا عتقاد یہودیوں کے عقائد دنیا کےاختتام پر مردوں کےعالمگیر طور پر جی اُٹھنے سے پہلے کسی شخص کے جلال اور ابدیت کےلیے بدن میں جی اُٹھنے کے تصور کو خارج کرتے ہیں ۔ مسیحا کے مردوں میں جی اٹھنے سے متعلق پیشن گوئیوں کے سلسلے میں یہودی ربیوں کی تشریح یہ تھی کہ وہ دنیا کے آخر میں دوسرے تمام وفات پا جانے والے مقدسین کے ساتھ ہی مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔ لہذا یہ اہم بات ہے کہ شاگرد جسم کی حالت میں جی اُٹھنے کے بارے کوئی ضروری رجحان نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہودیوں کے مقبولِ عام تصور کے پیش نظریہ ثقافت کے خلاف تھا۔

شاید اسی وجہ سے جیسا کہ یوحنا رسول اپنے بیان ( یوحنا 20 باب 9آیت) میں گواہی دیتا ہے کہ خالی قبر کا انکشاف ہونے پر بھی "وہ اب تک اُس نوِشتہ کو نہ جانتے تھے جس کے مطابق اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرور تھا" اگر شاگرد کسی خیالی تصور کو تشکیل دے رہے تھے تو بلاشبہ وہ روحانی طور پر مُردوں میں جی اُٹھنے کو بیان کرتے کیونکہ لاش کی موجودگی میں جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو مستقل طور پر بے نقاب کیا جا سکتا تھا ۔ اِس کے بجائے اُنہوں نے اصل جسم کی حالت میں جی اُٹھنے کا بیان پیش کیا جو اگر غلط ہوتا تو ایک تو یسوع کے مُردہ جسم کا بھی پتا چل جانا چاہیے تھا دوسرے نمبر پراِس بات نے شاگردوں کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ ہونا تھا۔ لیکن پھر بھی شاگردیسوع مسیح کے مُردوں میں سے حقیقی طور پر جی اُٹھنے پر ایمان رکھتے تھے کیونکہ اُنہوں نے اس کا بذات ِ خود مشاہدہ کیا تھا ۔ اُس زمانے کے مذہبی رہنما مسیحیت کا گلا گھونٹنے کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے تھے ۔

یسوع کے شاگرد وں کی طرف سے ایک فرضی یسوع کی من گھڑت کہانی نہ گھڑنے کا حتمی ثبوت یسوع کی صلیبی موت ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ یسوع ایک حقیقی تاریخی شخصیت تھا۔ یہودی شریعت کے مطابق یسوع کی درخت پر لٹکائے جانے کے ذریعے موت اُسے ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتی ہے جسے خدا کی طرف سے ملعون ٹھہرایا گیا تھا ( استثنا 21باب 23آیت)۔ مصلوبیت بلاشبہ ابتدائی کلیسیا کے نظریے کے لیے تباہ کن تھی کیونکہ اُس نے مؤثر انداز میں یہ واضح کر دیا تھا کہ فریسی بھی درست تھےا ور یہودی مجلس بھی ٹھیک تھی، اوریہ بھی کہ شاگردوں نے خدا کی طرف سے ملعون ٹھہرانے جانے والے ایک بدعتی شخص کی پیروی کےلیے اپنے گھروں ، خاندانوں اور مال و اسباب کو چھوڑ دیا تھا ۔

ایک ملحد/لادین /دہریے سے کیا مُراد ہے؟"؟- گمراہ کن بیانات

گاوین کے مطابق :

ابتدائی صدیوں کے دوران بہت سی اناجیل گردش میں تھیں اور اُن کی ایک بڑی تعداد جعلی تھی ۔ ان اناجیل میں " پولس رسول کی انجیل " ، " برتلمائی کی انجیل " ، " یہوداہ اسکریوتی کی انجیل" ، مصریوں کی انجیل "، پطرس رسول کی انجیل یا یاد داشتیں" ، " مسیح کی پیشنگوئیاں یا اقوال " اور دیگر مقدس تصانیف کا ایک ایسا مجموعہ جس کا کچھ حصہ"The Apocryphal New Testament."میں پڑھا جا سکتا ہے ۔ کچھ نا معلوم لوگوں نے اناجیل لکھ کر اُنہیں قابلِ ذکر مسیحی کرداروں سے منسلک کر دیا تھا تاکہ اُن کو ظاہری اہمیت دی جا سکے ۔ رسولوں کے نام پر اور حتیٰ کہ مسیح کے نام پر بہت سی جعلی تصانیف تیار کی گئیں تھیں۔ عظیم ترین مسیحی اساتذہ نے سکھایا تھا کہ ایمان کی عزت و تعظیم کے لیے دھوکہ دینا اور جھوٹ بولنا ایک صفت ہے ۔ بہت اعلیٰ پائے کے مسیحی تاریخ دان ڈین مِل مین نے کہا ہے کہ :" مذہبی دغابازی کو تسلیم کیا اور مانا جاتا تھا "۔ ریورنڈ ڈاکٹر جائلز لکھتا ہےکہ :" اس میں کچھ شک نہیں کہ اُس وقت بہت سی کتابیں لکھی گئی تھیں جن کے پیچھے دھوکہ دہی کے علاوہ کوئی اور نقطہ نظر نہیں تھا ۔" پروفیسر رابرٹسن سمتھ کا کہنا ہے کہ:" اپنے جماعتی نقطہ نظر کی مناسبت سے گردش کرنے والے جعلی ادب کے بہت بڑے مجموعے کو تیار کیا گیا تھا ۔"

ابتدائی کلیسیا جعلی مذہبی تصانیف سے بھری پڑی تھی ۔مسیحی رہنماؤں نے ادب کے اس بڑے مجموعے میں سے ہماری ان چار اناجیل کو چُنا اور انہیں خدا کا الہامی کلام قرار دے دیا تھا ۔ کیا یہ اناجیل بھی جعلی تھیں؟ اس میں کوئی یقینی بات نہیں ہے کہ وہ جعلی نہیں تھیں۔ لیکن میرے اس سوال کا جواب دیں : اگر مسیح تاریخی شخصیت تھا تو اُس کی موجودگی کو ثابت کرنے کےلیے جعلی دستاویزات کو تیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا کسی نے کسی ایسے شخص کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے جعلی دستایزات کو تیار کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہوگا جس کے زندہ ہونے کے بارے میں حقیقی طور پر جانا جاتا تھا ؟ ابتدائی مسیحی جعلی تصانیف مسیحی تحریک کی کمزوری کی ایک زبردست شہادت ہیں ۔

غناستی لوگ اپنی " اناجیل " کو پہلی صدی کی کلیسیا میں پائے جانے والے نامور کلیدی کرداروں جیسا کہ پطرس ، تومااور مریم مگدلینی سے منسوب کر رہے تھے اس حقیقت کے پیش ِ نظر کوئی شخص یہ خیال کرے گا کہ یہ بات اس معاملہ کو تقویت دے گی کہ ابتدائی کلیسیا اپنے دستاویزات کو درست لوگوں سے منسوب کرنے میں وفادار تھی ۔ پس ایسے میں اناجیل کو دوسرے درجے کے لوگوں مثلا مرقس اور لوقا سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے ؟ اس کے باوجود ابتدائی کلیسیا بلا تاخیر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مرقس نے اپنی زیادہ تر معلومات پطرس سے حاصل کی تھی پس اگر تمام معاملہ صداقت پر مبنی ہے تو اس انجیل کو پطر س رسول سے منسوب کیوں نہیں کیا جاتا ؟ اس مضمون میں ان میں سے کسی کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے ۔ نیز غناستی اناجیل یسوع کی موجودگی کو ثابت کرنے کے پیشِ نظر قلمبند نہیں کی گئی تھیں۔ انٹرنیٹ انفیڈلز کو نہ تو غناسیت کے پسِ منظر میں کارفرما سوچ کا ادراک ہے اور نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ غناسطیت کی طرف سے اِن دستایزات کے پروپیگنڈے کے پیچھے متعلقہ ایجنڈہ کیا ہے۔ ابتدائی کلیسیا میں چار کلیدی اناجیل کے مصنفین کے لحاظ سے کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ہر اُس شخص کے نزدیک جو کلیسیائی تاریخ سے تھوڑی سی بھی واقفیت رکھتا ہے یہ دلیل کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔

ایک ملحد/لادین /دہریے سے کیا مُراد ہے؟"؟- ملحدانہ /غیر مذاہب کی "نقل"، سرقہ کا دعویٰ

انٹرنیٹ انفیڈلز کی ویب سائٹ پر ایک دعویٰ جو بڑی کثرت کیساتھ رونما ہوتا ہے وہ یہ الزام ہے کہ مسیحیت نے متعدد قدیم ملحدانہ مذاہب اور فرضی کہانیوں کو اختیار کیا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے عالمین کی اکثریت نے طویل عرصہ پہلے ہی مسترد کر دیا ہے ۔ اس الزام کےتعلق سےیہ سمجھ نہیں آتا کہ فلستی ثقافت کے حامل توحید پرست یہودیوں نے بے دین لوگوں کے " پُر اسرار مذاہب"کی ان باتوں کو کیوں اختیار کیا ہو گا اور پھر اُنہوں نے بعد میں اِن باتوں کا اقرار اور اعلان کرتے ہوئے موت کا سامنا کیوں کیا تھا جبکہ وہ خود یہ جانتے تھے کہ جن باتوں کو وہ پیش کر رہے ہیں وہ اُن کی اپنی ہی سازش ہے۔

بہر حال اس کے باوجود جیمز مسیح کی کنوار ی مریم سے پیدایش اور اُس کے بچپن کے پُر اسرار واقعات کے بارے میں لکھتا ہے :

" وقت گزرنے کے ساتھ سا تھ یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ خدا کی بادشاہی میں تاخیر ہو گئی تھی ۔ یونانی مائل یہودیوں اور یونانی بے دینوں میں سے جو لوگوں مسیحیت کو قبول کرنے کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے اُن کے سامنے اس تاخیر نے جوابات کی بجائے اور زیادہ سوالات رکھ دے تھے ۔ مزید برآں یونانی غیر ایماندار جن میں سے مسیحیت نے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے ترقی کی تھی وہ لوگ فطری طور پر کسی بھی نئے نجات دہند ہ اور اُن آسمانی انعامات کے بارے میں متشکک تھے جن کا اُن سے وعدہ کیا جا سکتا تھا ۔ ان یونانیوں کو درجنوں پُر اسرار فرقوں اور معبودوں میں سے انتخاب کرنا تھا جو سامنے آچکے تھے اور جن میں سے ہر ایک موت کے بعد آسمانی زندگی میں دولت مند اور ابدی برکت کا وعدہ کرنے والا تھا ۔ اِن یونانیوں کے لیے یسوع کی پیش کش بہت چھوٹی تھی ۔ وہ ہر لحاظ سے ایک فانی یہودی مسیحا تھا جو صرف ابرہام کی اولاد سے کلام کرتا تھا اور اُن سے کہتا تھا کہ وہ خدا کی راہ تیار کریں جو خاص طور پر اپنے منتخب لوگوں کے لئے ایک نیا یروشلیم تعمیر کرے گا۔ مرقس میں بیان کردہ یسوع جس کے بارے میں پہلی صدی کے وسط سے اواخر کے دوران (متی، لوقا اور یوحنا کی انجیل سے پہلے) ا ُس کے پیروکار جانتے تھے اُس میں ڈائیونیسئس یا پھر ہرکولیس کے وقت کے معزز اخلاقی نجات دہندوں یا دیوتاؤں کی کوئی مشترک خصوصیت نہیں پائی جاتی تھی۔ا گر یسوع کو یونانی دُنیا کے غیر ایمانداروں کے نزدیک قابلِ قبول بنانا مقصود تھا تو اُس کے لیے اُس کی تمام خصوصیات کے اندر اُسکی کنواری سے پیدایش کو شامل کرنا ضروری تھا۔

لیکن ڈائیونیسئس سے تعلق رکھنے والے پیدایش کے دونوں بیانات میں سے کوئی بھی کنواری سے پیدایش کی تجویز پیش نہیں کرتا ۔ ایک کہانی کےمطابق ڈائیونیسئس زیوُس اور پرسیفنی کی اولاد ہے ۔ حِرا اس با ت سے نہایت حاسد ہوتی ہے اور وہ شیر خوار بچے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے لیے وہ ٹائی ٹینز کو بھیجتی ہے کہ وہ اُسے قتل کر دیں ۔ زیوُس اُسے بچانے کےلیے آتا ہے مگر اُسے دیر ہو جاتی ہے ۔ ڈائیونیسئس کے دل کے علاوہ ٹائی ٹینز ہر چیز کو کھا چکے ہوتے ہیں۔ زیوُس ڈائیونیسئس کے دل کو لیتا اور سیمیلی کے رحم میں ڈال دیتا ہے ۔ دوسری کہانی میں زیوُس سے ایک فانی عورت سیمیلی حاملہ ہوتی ہے جس سے حِرا کو بہت زیادہ حسد ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی دیوتاؤں کو دیکھنے کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا لہذا حِرا زیوُس کو قائل کرتی ہے کہ وہ سیمیلی پر اپنی شا ن و شوکت عیا ں کرے ۔ جس سے سیمیلی فوراً جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔ پھر زیوُس جنین ڈائیونیسئس کو لیتا اور اُس کی پیدایش تک اُسے اپنی ران میں سی لیتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان دونوں بیانات میں کنواری سے پیدا یش نہیں ہوئی لیکن کہا جاتا ہے کہ ڈائیونیسئس اس طرح سے دوسری پیدایش کا حامل دیوتا بن گیا ہے کیونکہ وہ رحم میں دومرتبہ پیدا ہوا ہے ۔

رچرڈ کیریئر ایک مقام پر دلیل دیتا ہے کہ " یونان کے حورس کے ایک ہزار سال تک حکومت کرنے ، پھر مرنے اور اس کے بعد تین دن کے لیے دفن کئے جانے کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے جس کےاختتام پر اُس نے اصل شریر ٹائفان پر فتح حاصل کی تھی اور پھر ہمیشہ کےلیے زندہ ہو گیا تھا ۔ لیکن کیرئیر غلطی پر ہے ۔ اگر ہم حورس اور اوسائرس کے درمیان حتمی انضمام پر غور کریں تو ہم حورس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے ایک تعلق قائم کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس طرح کا مفروصہ تضادات سے بھرا ہوا ہے کیونکہ مصریوں نے واضح طور پر اسے محسو س کر لیا تھا اور تب سے اُنہوں نے تضادات کو درست کرنے کےلیے اپنے عقائد میں رَدو بدل کیا تھا ۔ مصری داستان میں اوسائر س کو یا تو جنگ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا ہے یا ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈبودیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آئسس اوسائرس کے جسم کے ٹکڑوں کو واپس جوڑتی ہے اور اوسائرس کو ایک ایسے جانشین کے طور زندہ کرتی ہے جو حقیقی اوسائرس کی موت کا بدلہ لے گا ( حالانکہ تکنیکی طور پر اوسائرس کو کبھی بھی زندہ نہیں کیا گیا کیونکہ اُسے زندہ لوگوں کی دنیا میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے )۔

انفیڈلز ویب سائیٹ ملحدانہ دیوتاؤں سے متعلق اس طرح کی دیگر غلط معلومات اورمتعد د بار لگائے گئےاِس طرح کے الزامات سے بھری پڑی ہے کہ مسیحیوں نے اپنی معلومات اُن سے "مستعار " لی تھیں ۔ اس طرح کے دعوؤں کو ثابت کرنا یا اس کے حق میں چھوٹے سے چھوٹا ثبوت پیش کرنا بھی ا بھی باقی ہے ۔

ایک ملحد/لادین /دہریے سے کیا مُراد ہے؟"؟- خلاصہ

انٹرنیٹ انفیڈلز ویب سائٹ پرانے سازشی مفروضات کو محض نئی شکل میں پیش کررہی ہے ۔

انٹرنیٹ انفیڈلز ویب سائٹ محض اُن سازشوں کے پرانے نظریات سے بھری پڑی ہے جن کی نئی پیکنگ کی گئی ہے اِس کے ساتھ ساتھ بے باک طریقے سے غلط معلومات اور کئی ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جو حقیقت سے بہت دور اور بالا ہیں اور یہ وہ باتیں ہیں جنہیں بہت پہلے علماء کی طرف سے رَد کر کے ترک کر دیا گیا ہے۔ بہر حال ، انفیڈلز انٹرنیٹ ٹریفک کی کافی بڑی تعداد کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاریخ میں ایسی بہت ساری باتیں انتہائی کم ہیں جو حتمی اور یقینی ہیں اور جوحقیقت میں یقینی ہیں اُن کے حوالے سے بھی تشکیک پرستی کا عنصر مورخین کے کام کو مشکل بنا دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ مقالہ "ابتدائی کلیسیا نے اپنے عقائد سے متعلقہ مواد غیر اقوام کے مذاہب سے مستعار لیا تھا اور یہ بھی کہ یسوع مسیح کا حقیقی تاریخی وجود نہیں تھا " اپنے اِس بیان کے لحاظ سے درست نہیں۔ اِس مقالے کے تعلق سے یہ چاہیے کہ وہ اُن سارے وسائل کے حوالے سے تشکیک پرستی کا استعمال کرے اور یہ بھی دیکھے کہ اُن وسائل کی تشریح کیسے کی جانی چاہیے۔ آخری میں اگر انٹرنیٹ انفیڈلز اپنے اِس موقف میں صحیح ثابت ہوتے ہیں کہ یسوع نامی کوئی ہستی اِس دُنیا میں نہیں ہو گزرتی تو یہ بات مسیحیت کو یسوع کے تاریخی وجود کے ثابت ہونے کے برعکس زیادہ ناقابلِ یقین مظہر بناتی ہے کیونکہ "احمق نے اپنے دل میں کہا ہے کہ کوئی خُدا نہیں " (14 زبور 1آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک ملحد/لادین /دہریے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries