settings icon
share icon
سوال

رُوح القدس کے ایماندار کی زندگی میں بسنے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


رُوح القدس کا ایماندار کی زندگی میں بسنا وہ عمل ہے جس کے وسیلہ سے خدا خود یسوع مسیح پر ایمان رکھنے والے کسی ایماندار کے بدن میں مستقل سکونت اختیار کرتا ہے۔ پرانے عہد نامے میں رُوح مقدسین کو خدمت کے لیےتقویت دیتے ہوئے اُن پر نازل ہوتا اور پھر اُن سے جُدا ہو جاتا تھا ، لیکن لازمی طور پر وہ اُن کے ساتھ نہ رہتا تھا (دیکھیں قضاۃ 15باب 14آیت؛ 1تواریخ 12باب 18آیت؛ 51زبور 11آیت؛ حزقی ایل 11باب 5آیت؛)۔ یسوع نے اپنے شاگردوں پر رُوح ِ حق کے اس نئے کردار کو عیاں کیا جو وہ اُن کی زندگیوں میں ادا کرے گا:"وہ تُمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہو گا" (یوحنا 14باب 17آیت)۔ پولس رسول لکھتا ہے کہ "کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن رُوح القُدس کا مَقدِس ہے جو تم میں بسا ہُوا ہے اور تُم کو خُدا کی طرف سے مِلا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔ کیونکہ قیمت سے خرِیدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خُدا کا جلال ظاہر کرو "(1کرنتھیوں 6باب 19-20 آیات) ۔

یہ آیات ہمیں بتا رہی ہیں کہ یسوع مسیح پر ایمان رکھنے والے کے پاس تثلیث کا تیسرا اقنوم رُوح القدس ہے جو اُن کے اندر بسا ہوا ہے ۔ جب کوئی شخص مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتا ہے تو رُوح القدس ایماندار کوالٰہی زندگی یعنی ابدی زندگی بخشتا ہے جو بے شک اُس کی فطرت ہے (طِطُس 3باب 5آیت؛ 2پطرس 1باب 4آیت) اور رُوح القدس رُوحانی طور پر اُس کے اندر رہنے کے لیے آتا ہے۔ ایماندار کے بدن کو اُس مَقدس /ہیکل سے تشبیہ دی گئی ہے، جہاں رُوح القدس بستا ہے۔ یہ حقیقت ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے کہ رُوح القدس کا ایماندار کی زندگی میں بسیرا کرنا کیا ہے۔ مَقدس لفظ پاک ترین مقام یعنی پرانے عہد نامے کے خیمہ اجتماع کے ڈھانچے میں اندرونی مُقدس جگہ کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ خدا کی حضور ی وہاں ایک بادل کی صورت میں ظاہر ہوتی اور خدا اُس سردار کاہن سے ہمکلام ہوتا جو سال میں ایک بار پاک ترین مقام میں داخل ہوتا تھا۔ کفارہ کے دن سردار کاہن قربان کئے ہوئے جانور کا خون لاتا اور اسے عہد کے صندوق کے سرپوش پر چھڑکتا۔ اس خاص دن پر خدا کاہن اور اس کی قوم کو گناہوں کی معافی بخشتا ۔

آج یروشلیم میں کوئی یہودی ہیکل موجود نہیں ہےاور جانوروں کی قربانیوں کا نظام بھی ختم ہو چکا ہے ۔ مسیحی ایماندار اب خُدا رُوح القدس کا مُقدس مقام بن چکا ہے کیونکہ ایماندارکو یسوع مسیح کے خون سے پاک اور معاف کیا گیا ہے (افسیوں 1باب 7آیت )۔ یوں مسیح پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص خدا کے رُوح القدس کا مسکن بن جاتا ہے۔ درحقیقت کلام ِ مقدس یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ایماندار میں مسیح (کلسیوں 1باب 27آیت)اور خدا باپ (1یوحنا 4باب 15آیت) رُوحانی طور پر بسیرا کرتےہیں - اس میں تثلیث کا عنصر شامل ہے۔

جب رُوح القدس ایماندار میں بستا ہےتو وہ زندگی تبدیل کرنے والے کچھ نتائج برپا کرتا ہے:

1. بسیرا کرنے والا رُوح گناہ میں مُردہ رُوح کے پاس آتا اور نئی زندگی پیدا کرتاہے (ططس 3باب 5آیت)۔ یہ وہ نئی پیدایش ہے جس کے بارے میں یسوع نے یوحنا 3باب 1-8آیات میں ذکر کیا تھا۔

2. بسیرا کرنے والا رُوح ایماندار کو یقین دلاتا ہے کہ وہ خُداوند کے خاندان کا حصہ ہے اور خُدا کی میراث کا وارث اور مسیح کا ہم میراث ہے (رومیوں 8باب 15-17آیات)۔

3. بسیرا کرنے والا رُوح نئے ایماندار کو مسیح کی عالمگیر کلیسیا کے رکن کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ یہ 1 کرنتھیوں 12باب 13آیت کے مطابق رُوح کا بپتسمہ ہے۔

4. بسیرا کرنے والا رُوح ایماندار کو کلیسیا ئی ترقی اور خُداوند کے جلال کے لیے اُس کی مؤثر طریقے سے خدمت کے واسطے رُوحانی نعمتیں (خدمت کے لیے خدا کی طرف سے دی گئی صلاحیتیں) بخشتا ہے (1کرنتھیوں 12باب 11آیت)۔

5. بسیرا کرنے والا رُوح ایماندار کو کلام کو سمجھنے اور اِس کا روزمرہ زندگی پر اطلاق کرنے میں مدد کرتا ہے (1 کرنتھیوں 2باب 12آیت)۔

6. بسیرا کرنے والا رُوح ایماندار کی دعائیہ زندگی کو تقویت بخشتااور دُعا میں اُس کی شفاعت کرتا ہے (رومیوں 8باب 26-27آیات)۔

7. بسیرا کرنے والا رُوح القدس شکست خوردہ ایماندار کو مسیح کی خاطر اُس کی مرضی کی مطابق زندگی بسر کی قوت دیتا ہے (گلتیوں 5باب 16 آیت)۔ رُوح ایماندار کی راستبازی کی را ہوں پر چلنے میں رہنمائی کرتا ہے (رومیوں 8باب 14آیت)۔

8. بسیرا کرنے والا رُوح ایماندار کی زندگی میں رُوح کا پھل پیدا کرنے کے وسیلہ سے نئی زندگی کا ثبوت پیش کرتا ہے (گلتیوں 5باب 22-23آیات)۔

9. جب ایماندار گناہ کرتا ہے تو بسیرا کرنے والا رُوح زنجیدہ ہوتا (افسیوں 4باب 30آیات)اور ایماندارکو موردِ الزام ٹھہراتا ہے کہ وہ خداوند کے حضور اپنے گناہ کا اقرار کرے اور یوں رفاقت بحال ہو جاتی ہے (1 یوحنا 1باب 9آیت)۔

10. بسیرا کرنے والا رُوح ایماندار پر مخلصی کے دن تک مُہر کرتا ہے تاکہ اِس زندگی کے بعد ایماندار کی خُداوند کی حضور ی میں آمد کی یقین دہانی ہو جائے (افسیوں 1باب 13-14آیات)۔

جب آپ مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں (رومیوں 10باب 9-10آیات) تو رُوح القدس محبت، تعلق اور خُداوند کی خدمت کی حامل ایک نئی زندگی کے ساتھ آپ کے دل میں سکونت پذیر ہوتا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح القدس کے ایماندار کی زندگی میں بسنے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries