settings icon
share icon
سوال

کیا کہا جا سکتا ہے کہ مسیح کی آمدِ ثانی واقعی ہی قریب ہے ؟

جواب


لفظ قریب کا مطلب " ممکنہ طور پر کسی بھی لمحےرونما ہونا؛ نزدیک ہونا"ہے۔ جب ہم مسیح کی آمد کے قریب ہونےکی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے واپس آ سکتا ہے۔ بائبل کی پیشین گوئی میں مزید کوئی اور بات نہیں ہے جس کا یسوع کے واپس آنے سے پہلے رونما ہوناضروری ہے۔ مسیح کی آمد کے قریب ہونے کی تعلیم عام طور پر ایونجیلیکل/بشارتی کلیسیا ؤں میں دی جاتی ہے، بس اُن میں اِس حوالے سے کبھی کبھار کسی گروہ کے نظریہ ادواریت کے تعلق سے اور کسی شخص کے کلیسیا کے بڑی مصیبت سے پہلے، درمیان میں یا پھر بعد میں اُٹھائے جانے کے تعلق سے اختلاف رائے پایا جا سکتا ہے۔

یسوع نے اپنی خدمت کے دوران متعدد بار اپنے دوبارہ آنے کے بارے میں ذکر کیا تھا جس نے اُس کے شاگردوں کو سوالات کرنے پر مجبور کر دیا ۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ " یہ باتیں کب ہوں گی؟ "( مرقس 13باب 4آیت)۔ یسوع نے اُنہیں جواب دیا کہ "لیکن اُس دِن یا اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرِشتے نہ بیٹا مگر باپ۔ خبردار! جاگتے اور دُعا کرتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا"( 32-33آیات)۔ علم الآخر کی کسی بھی بحث میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ خدا نہیں چاہتا کہ ہم اُس کے منصوبوں کے وقت کی ترتیب کو پوری طرح سمجھیں ۔

تاہم بائبل فرماتی ہے کہ یسوع کی آمد قریب ہےاور ہمیں بے صبری سے اُس کا انتظار کرنا چاہیے (رومیوں 8باب 19-25آیات؛ 1کرنتھیوں 1باب 7آیت؛ فلپیوں 4باب 5آیت؛ یہوداہ 21آیت) ۔ یعقوب ہماری حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ تم " صبر کرو اور اپنے دِلوں کو مضبُوط رکھّو کیونکہ خُداوند کی آمد قرِیب ہے"(یعقوب 5باب 8آیت)۔مکاشفہ 1باب 3آیت اور 22باب 10آیت بھی فرماتی ہے کہ " وقت نزدیک ہے " ۔

یسوع نے اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ وہ اُس کی واپسی کے منتظر رہیں ۔ "تم بھی تیّار رہو کیونکہ جس گھڑی تمہیں گمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدمؔ آ جائے گا"(لوقا 12باب 40آیت)۔ "تیار رہو" کا یہ حکم نزدیکی کا اشارہ دیتا ہے ۔ تمام نئے عہد نامے میں کلیسیا کو تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے (فلپیوں 3باب 20آیت؛ ططُس 2باب 13آیت؛ 1تھسلنیکیوں 5باب 6آیت )۔ اگر شاگرد اور ابتدائی کلیسیا خُداوند کے کسی بھی لمحے آ جانے کی توقع رکھتے تھے تو ہمیں اُس اُمید میں کتنی شدت کے ساتھ منتظر رہنا چاہیے؟

اس مقام پر مسیح کی حقیقی دوسری آمد اور کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے درمیان فرق کرنا بہتر ہے۔ مسیح کی دوسری آمد جب وہ اپنے دشمنوں کو شکست دے گا اور اپنی بادشاہی قائم کو کرے گا بڑی مصیبت سمیت اخیر ایام کے کچھ دیگر واقعات کے رونما ہونے سے پہلے واقع نہیں ہو گی ( متی 24باب 15-30 آیات؛ مکاشفہ 6-18ابواب ) ۔ لہٰذا دوسری آمد قریب نہیں ہے۔ تاہم Pre-tribulational نظریے(کلیسیا کے آخری مصیبت سے پہلے اُٹھائے جانے کے نظریے ) کے مطابق کلیسیا کا اُٹھایا جانا بڑی مصیبت کے شروع ہونے سے پہلے واقع ہو گا ۔ کلیسیا کا اُٹھایا جانا کسی بھی لمحے عمل میں آ سکتا ہے(1تھسلنیکیوں 4باب 13-18آیات؛ 1کرنتھیوں 15باب 50-54آیات)اور اِسے بجا طور پر "نزدیک " کہا جا سکتا ہے۔

ہماری نجات" آخری وقت میں ظاہر ہونے کو تیّار ہے "(1پطرس 1باب 5آیت)۔ اپنے کہے کے مطابق یسوع کسی بھی لمحے واپس آسکتا ہے اور یہ واقعہ مکاشفہ 6- 18ابواب میں تفصیل سے بیان کردہ واقعات کے سلسلے کو شروع کر دے گا۔ یسوع کی تمثیل میں بیان کردہ پانچ عقلمند کنواریوں کی مانند(متی 25باب 1-13آیات) ہمیں بھی تیار رہنا چاہیے۔ "پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دِن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو" ( متی 25باب 13آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کہا جا سکتا ہے کہ مسیح کی آمدِ ثانی واقعی ہی قریب ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries