settings icon
share icon
سوال

غیر قانونی نقل مکانی کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟

جواب


نوٹ: ہم دلی طور پر یقین رکھتے ہیں کہ مسیحیوں کو نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی سے پیش آنے کی نصیحت کی جاتی ہے (خروج 22باب 21آیت؛ احبار 19باب 33-34آیات ؛ متی 25باب 35آیت )۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ امریکہ کو نقل مکانی کے عمل سے متعلق ایسی پالیسی کا حامل ہونا چاہیےجس میں ہمدردی اور مہربانی کا عنصر شامل ہو۔ تاہم ہمارے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقی سوال غیر قانونی نقل مکانی سے متعلق ہے - کیا کسی ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنا اور اِس کے نقل مکانی کے عمل سے متعلق قوانین کو توڑنا غلط ہے۔

رومیوں 13باب 1-7آیات پوری طرح واضح کرتی ہیں کہ خدا ہم سے حکومتی قوانین کی پیروی کرنے کی توقع کرتا ہے ۔ اس حکم میں صرف اس لحاظ سے چھوٹ ہےجب حکومتی قانون ہمیں خدا کے حکم کی نافرمانی کرنےپر مجبور کرتا ہے ( اعمال 5باب 29آیت)۔ غیر قانونی نقل مکانی حکومتی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ لہذا نا جائز طور پر کسی دوسرے ملک میں داخل ہونا خدا کے خلاف بغاوت ہے ۔ غیر قانونی نقل مکانی گناہ ہے ۔

آج کل غیر قانونی نقل مکانی امریکہ (اور کچھ دیگر ممالک) میں بلاشبہ ایک متنازع مسئلہ ہے۔ کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ نقل مکانی سے متعلقہ قوانین غیر منصفانہ ، ناجائز اور یہاں تک کہ تعصبانہ ہیں اور اس طرح لوگوں کو غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرنے کا جواز مل جاتا ہے۔ تاہم رومیوں 13باب 1-7آیات کسی شخص کو محض اس وجہ سے قانون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دیتیں کہ قانون کو اُس کی طرف سے غیر منصفانہ خیال کیا جاتا ہے ۔ ایک بار پھر یہاں مسئلہ قانون کے غلط یا درست ہونے کا نہیں ۔ اگر حکومتی قانون خدا کے کلام کی خلاف ورزی کرتا ہے توبائبلی لحاظ سے حکومتی قانون کی خلاف ورزی کا صرف یہی ایک جواز ہے ۔ جب پولس نے روم کی کلیسیا کے نام خط لکھا تھا تو وہ رومی سلطنت کے ماتحت تھا جس کی قیادت شہنشاہ نیرو کر رہا تھا۔ اس دورِحکومت میں ایسے بہت سے قوانین تھے جو غیر منصفانہ ، ناجائز اور/یا واضح طور پر بُرے تھے۔ اس کے باوجود پولس نے مسیحیوں کو حکومت کے تابع رہنے کی نصیحت کی تھی۔

کیا امریکہ کے نقل مکانی کے قوانین غیر منصفانہ یا ناجائز ہیں ؟ کچھ لوگ ایسا سوچتے ہیں لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے اپنے اپنے نقل مکانی کے قوانین ہیں کچھ ممالک کے قوانین تو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ سخت ، اور کچھ کے زیادہ سخت نہیں ہیں اور سبھی ممالک کو غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنا پڑتا ہے۔ کسی ملک کو اپنی سرحدوں کو مکمل طور پر کھلے رکھنے سے یا مکمل طور پر اپنی سرحدوں کو بند رکھنے سے منع کرنے کے لیے بائبل میں کوئی حکم نہیں ہے ۔ رومیوں 13باب 1-7آیات حکومت کو یہ اختیار بھی دیتی ہیں کہ وہ قانون شکنی کرنے والوں کو سزا دے۔ چاہے اس کی سزا قید ، جلاوطنی یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی عمل ہو اس بات کا تعین کرنا حکومت کے اختیار میں شامل ہے۔

غیر قانونی نقل مکانی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ امریکہ میں غیر قانونی نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی اکثریت بہتر زندگی گزارنے ، اپنے خاندانوں کی پرورش کرنے اور غربت سے بچنے کے ارادہ سے وہاں آتی ہے۔ یہ مقاصد اور محرکات اچھے ہیں۔ تاہم کسی "فائدے " کے حصول کے لیے کسی قانون کی خلاف ورزی کرنا بائبل کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔ بائبل ہمیں غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھنے کا حکم دیتی ہے (گلتیوں 2باب 20 آیت؛ یعقوب 1باب 27آیت؛ 2باب 2-15آیات)۔ تاہم بائبل اگرچہ یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہمیں بدحال لوگوں کی مدد اور دیکھ بھال کرنی چاہیے، لیکن اِسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ایسا کرتے ہوئے ہمیں قانون کی خلاف ورزی کرنی چاہیے۔ پس غیر قانونی نقل مکانی کی حمایت کرنا ، اُسکے بارے میں رضامندی ظاہر کرنا اور/یااُسکی حوصلہ افزائی کرنا خدا کے کلام کی خلاف ورزی ہے۔ جو لوگ دوسرے ملک میں نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں انہیں ہمیشہ اس ملک کے نقل مکانی کے عمل سے متعلقہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ اگرچہ ایسا کرناتاخیر اور مایوسی کا سبب بن سکتا ہے لیکن یہ غیر قانونی طور پر کام کرنے سے بہتر ہے۔ مایوس کن قانون بھی ایک قانون ہے۔

غیر قانونی نقل مکانی کے بارے میں بائبل کیا حل پیش کرتی ہے ؟ آسان حل یہی ہے کہ ایسا نہ کریں بلکہ قوانین کی پابندی کریں۔ چونکہ بائبلی تعلیمات کے مطابق نافرمانی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر نقل مکانی کے کسی غیر منصفانہ قانون کے حوالے سے کیا کیا جا سکتا ہے؟ یہ مکمل طور پر شہریوں کے حقوق میں شامل ہے کہ وہ نقل مکانی سے متعلقہ قوانین میں تبدیلی کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ نقل مکانی کا کوئی قانون غیر منصفانہ ہے تو قانون کی تبدیلی کے لیے سب کچھ : دعا ، درخواست ، ووٹ ، پُرامن احتجاج وغیرہ اپنی استطاعت کے مطابق قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کریں ۔بطور مسیحی ایسے کسی بھی قانون کو تبدیل کرنے میں ہمیں پہل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو غیر منصفانہ ہے ۔ اسی اثناء میں ہمیں اس حکومت کے تابع رہتے ہوئے خدا کے سامنے اپنی فرمانبرداری کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے جسے اُس نے ہم پر اختیار بخشا ہوا ہے۔

"اِس واسطے اپنی عقل کی کمر باندھ کر اور ہوشیار ہو کر اُس فضل کی کامِل اُمّید رکھّو جو یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تم پر ہونے والا ہے۔ اور فرمانبردار فرزند ہو کر اپنی جہالت کے زمانہ کی پُرانی خواہشوں کے تابع نہ بنو۔ بلکہ جس طرح تمہارا بُلانے والا پاک ہے اُسی طرح تم بھی اپنے سارے چال چلن میں پاک بنو۔ کیونکہ لِکھا ہے کہ پاک ہو اِس لئے کہ مَیں پاک ہوں"(1 پطرس 2باب13-16آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

غیر قانونی نقل مکانی کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries